بہار کے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے اور نوجوانوں کا مستقبل

بہار کے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے، مدارس اور مسلم نوجوانوں کا مستقبل

تیسری قسط : بہار کے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے، مدارس اور مسلم نوجوانوں کا مستقبل
طارق انور ندوی
تعارف:
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا ستون ہے۔ بہار کے مسلمان علمی روایت کے وارث رہے ہیں، مگر موجودہ دور میں ان کے تعلیمی ادارے زوال کا شکار ہیں۔ اس قسط میں ہم مدارس، اسکول، کالج، اور نوجوانوں کی تعلیمی ترجیحات اور مشکلات پر روشنی ڈالیں گے۔
دینی مدارس: کردار، اہمیت اور چیلنجزمدارس کا پس منظر۔
بہار کے مختلف اضلاع خصوصاً سیمانچل، پٹنہ، مظفرپور، کٹیہار، ارریہ، دربھنگہ، مدھوبنی، گیا وغیرہ میں ہزاروں مدارس موجود ہیں جو قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم دیتے ہیں۔
مثبت پہلو: دینی تعلیم کی بنیاد مضبوط بناتے ہیں۔معاشرتی اقدار، اخلاق اور دین کی بقاء میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔غریب بچوں کو تعلیم، خوراک اور رہائش مفت فراہم کرتے ہیں۔
چیلنجز: جدید مضامین (Math, English, Science) کی کمی۔اساتذہ کی تربیت، فنڈنگ اور انفراسٹرکچر کا فقدان۔مدارس کے فارغین کے لیے جدید پیشہ ورانہ مواقع محدود۔
جدید تعلیم میں شمولیت:مسلم طلبہ اور اسکول۔
سرکاری و نجی اسکولوں میں مسلمانوں کی شرح داخلہ کم ہے۔بچوں کی تعلیم سے زیادہ روزی روٹی کو ترجیح دی جاتی ہے۔مسلم علاقوں میں اسکول و کالجوں کی کمی ہے یا وہاں کی تعلیم کا معیار ناقص ہے۔
اعلیٰ تعلیم: بہار کی یونیورسٹیوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔مالی تنگی، رہنمائی کا فقدان، کوچنگ کی کمی، اور والدین کی غفلت اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
مسلم لڑکیاں اور تعلیم: کئی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو ثقافتی یا مذہبی غلط فہمیوں کی بنیاد پر روکا جاتا ہے۔لڑکیوں کے لیے محفوظ اور معیاری اداروں کی کمی بھی ایک رکاوٹ ہے۔جو لڑکیاں پڑھتی ہیں، ان میں سے اکثر میٹرک یا انٹر کے بعد تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔
نوجوانوں کا مستقبل اور ہنر: نوجوانوں کے پاس تعلیم کے بعد نہ مہارت ہوتی ہے نہ کوئی واضح ہدف۔حکومت کے اسکِل ڈیولپمنٹ پروگرام یا ڈیجیٹل تربیت مراکز تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔کئی نوجوان جذباتی سیاست، مذہبی جذبات یا بے روزگاری کے سبب شدت پسندی یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اصلاحی اقدامات کی ضرورت: مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑنا ناگزیر ہے۔مسلم طلبہ کے لیے اسکالرشپ، رہنمائی مراکز اور تربیتی ادارے قائم کیے جائیں۔والدین کو بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں باشعور بنانا ہوگا۔
نتیجہ:
اگر بہار کا مسلم نوجوان علمی، فکری اور فنی لحاظ سے تیار نہ ہوا تو مستقبل مزید تاریک ہو سکتا ہے۔ دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم اور ہنر کی ضرورت وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔

چوتھی قسط : بہار کے مسلمانوں کی قیادت، تنظیمیں اور اجتماعی شعور۔
تعارف:کسی قوم کی ترقی میں اس کی قیادت، تنظیمی ڈھانچہ اور اجتماعی شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے

پہلی قسطhttps://guftar.in/بہار-اور-مسلمانتاریخ،معاش،-تعلیم-اور/

دوسری قسط: https://guftar.in/بہار-کے-مسلمانوں-کی-معاشی-حالت-غربت،-تع/

https://guftar.in/:سرورق

اپنا تبصرہ بھیجیں