اندھیری رات کا مہمان
اندھیری رات کا مہمان
طارق انور ندوی:
پہلی قسط:
ایک سنسان گاؤں کی ایک پرانی جھونپڑی میں، ایک بوڑھا شخص اکیلا رہتا تھا۔ لوگ اسے “بابا سلیم” کہتے تھے۔ وہ نہ کسی سے ملتاجلتا، نہ بازار آتاجاتا اور نہ کسی سے کوئی تعلق رکھتاتھا۔ بچوں کو اس کی جھونپڑی کے قریب جانے کی ممانعت تھی۔ سب کہتے، “اس کے پاس کچھ راز ہیں۔” ایک رات، جب آسمان پر بادل چھا گئے اور بجلی زور زور سے کڑکنے لگی، ایک نوجوان، جس کا نام نعمان تھا، جو شہر سے آیا تھا، گاؤں کے حالات جاننے نکلا۔ اچانک تیز بارش ہونے لگی، اور نعمان کو پناہ کی تلاش ہوئی۔ قریب صرف ایک ہی جگہ تھی… بابا سلیم کی جھونپڑی!
دروازہ ہلکا سا کھلا، اور نعمان ہچکچاتے ہوئے اندر گیا۔اندر روشنی مدھم تھی، ایک دیا جل رہا تھا، اور بابا سلیم، ایک پرانی کتاب میں کچھ لکھ رہے تھے۔
بابا نے بنا دیکھے کہا:آج تم آئے ہو… چوتھے سال کا پانچواں مہمان!۔
نعمان حیران: “آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں آ رہا ہوں؟
بابا مسکرائے اور کہا: ہر چوتھے سال، بارش کی ایک ایسی رات آتی ہے جب سچائی خود مہمان بن کر آتی ہے… اور کچھ راز کھلتے ہیں۔
بابا نے کتاب کی ایک پرانی تصویر نعمان کو دکھائی۔ تصویر میں جو شخص تھا، وہ بالکل نعمان جیسا تھا۔ نیچے لکھا تھا:”جو اس راز کو جانے گا، وہ دو راستوں میں سے ایک چنے گا۔یا سچ کو دنیا میں لائے گا، یا خود گم ہو جائے گا۔
نعمان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ سب کیا ہے؟
بابا نے آہستہ سے کہا:کچھ راز وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے… کچھ لوگوں کو چنتے ہیں تاکہ انہیں مکمل کیا جا سکے۔
تم چنے گئے ہو، اب فیصلہ تمہارے اوپر ہے۔دروازہ پھر سے کھلا، ہوا کا جھونکا آیا… اور دیا بجھ گیا…
اب آگے کیا ہوگا؟
دوسری قسط:
کیا نعمان اس راز کو سمجھے گا؟
بابا سلیم کون تھا؟
وہ کتاب کس کے بارے میں تھی؟
اور نعمان کو کیا فیصلہ کرنا ہوگا؟
قارئین سے مؤدبانہ گذارش نیچے کمینٹ کرکے ضرور بتائیں کہ یہ کہانی کیسی لگی کیا ۔۔۔؟