ان مخملی مصلوں پے وظیفوں کے کرشمے
ان مخملی مُصلّوں پر یہ وظیفوں کے کرشمے
آج أرضِ مقدس خون سے سرخ ہوچکی ہے. دودھ پیتے معصوم بچے لہو لہان ہیں. عورتیں اپنے ہنستے کھیلتے کم سن بچوں کی جدائی پر غم زدہ ہیں اور آنسو بھی خشک ہوچکے ہیں. اجتماعی تدفین کیلئے زمین بھی تنگ ہوچکی ہے، اور زندہ افراد تک غذا اور پانی کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے.
آج انبیاء کی سر زمینِ فلسطین میں برپا اس قیامت نے ہمارے دلوں میں پھر سے کربلہ کی یاد تازہ کردی ہے اور اسلامی ممالک کے نام نہاد مسلم حکمرانوں کی یزیدیت بھی آج پورے عروج پر پہنچ چکی ہے. اور ہم امت کے اس ماتم پر وظیفہ پڑھ رہے ہیں.
آج ہر دن ایک نیا وظیفہ نظروں سے گذرتا ہے، ایک نیا نسخہ ایک نیا مجرب عمل واٹسآپ گروپس میں گردش کر رہا ہوتا ہے کہ جمعرات کو یہ پڑھ لیں، جمعہ کو وہ پڑھ لیں، صبح میں یہ ذکر کرلیں اور شام کو وہ ورد کرلیں تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے اور مٹی بھی سونا ہوجائے گی اور چودہ طبق روشن ہوجائیں گے.
حکمتِ عملی سے دور اور عقلِ سلیم سے بعید تر اور سیاسی شعور کے بغیر آج ہم ہر مسئلہ کا حل صرف وظیفہ کے ذریعہ پورا کرنا چاہتے ہیں اور ہم صرف وظائف پڑھ کر سارا جہاں فتح کرنا چاہتے ہیں.
٢٠١٩ کے انتخابات میں مسلمانوں کی ناقص کارکردگی کے بعد فرقہ پرستوں کو حکومت سے بے دخل کرنے کیلئے بھی خوب وظائف پڑھے گئے تھے لیکن نتیجہ اسکے بلکل برعکس نکلا.
اگر مسائل کا حل صرف وظائف پڑھنے پر موقوف ہوتا تو نہ کبھی جنگ بدر پیش آئی ہوتی اور نہ صحابہ سر پر کفن باندھ کر غزوۂ أحد کیلئے روانہ ہوئے ہوتے.
ہندوستان کی جنگِ آزادی میں بے شمار علمائے کرام نے غلامی کی زنجیروں سے قوم کو آزاد کرنے کیلئے جامِ شہادت نوش فرمالیا تھا. کیا یہ جنگِ آزادی بھی صرف وظائف پر اکتفا کرتے ہوئے لڑی گئی تھی؟
فتوحات اجتماعیت، عزم و استقلال، جہدِ مسلسل اور ایمان و یقین کے ساتھ مضبوط حکمتِ عملی سے نصیب ہوتے ہیں، پَنکھوں کے نیچے مخملی مصلوں پر صرف وظائف پڑھنے سے نہیں.
نہ ہم سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روشنی میں حکمتِ عملی کو اپنانا چاہتے ہیں اور نہ ہی جان نثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مثال بنانا چاہتے ہیں اور نہ ہی تاریخِ اسلام اور مسلمانوں کے عروج و زوال سے کوئی سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہم تو صرف وظیفہ پڑھنا چاہتے ہیں.
ہم چاہتے ہیں کہ صرف اپنے وظائف سے دنیا میں انقلاب برپا ہوجائے اور ایسا کرشمہ ہوجائے کہ کامیابی ہمارے قدم چومنے لگے.
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس علاؤ الدین کا ایسا چراغ ہو کہ بس رگڑنا ہے کہ جِن حاضر ہوکر ہم سے یہ پوچھنے لگے کہ بتاؤ آقا آج میرے لئے کیا حکم ہے.
ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر فتنہ سے نجات دلانے کیلئے امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی جلد از جلد ہوجائے اور ہم آسانی سے پسینے کی ایک بوند بھی بہائے بغیر دنیا کے ہر سیاہ و سفید کے مالک بنتے چلے جائیں.
أرضِ مقدس اپنے دور کے بدترین ظلم و ستم سے دو چار ہے اور ہم اتنے بے بس، لاچار، مجبور اور نا تواں ہیں کہ ہم صرف دعا کرنے اور دشمنانِ اسلام ممالک کی اشیاء کو چند دن کیلئے بائیکاٹ کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے اور یہ بات اُس وقت معقول ہوتی جب ظلم صرف أرضِ مقدس میں ہوتا لیکن ظلم تو ساری دنیا میں ہے بس اسکی شکلیں اور صورتیں الگ الگ ہیں اور ہر ملک میں اسلام کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں اور ہمارا اپنا ملک بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے لیکن ہم صرف وظائف پر اکتفا کرنے کے اسقدر عادی ہوچکے ہیں کہ اس سے آگے کی حکمتِ عملی ہمارے ذہنوں سے بلکل مفقود ہوچکی ہے.
اگر خود کے بچوں پر کوئی حملہ آور ہو یا خود کے گھر پر کوئی آگ لگانے کے در پر ہو تب کونسا وظیفہ پڑھو گے؟
ظلم کا خاتمہ اور ایمان کا تحفظ صرف وظائف پڑھنے سے نہیں ہوگا بلکہ دینی شعور کے ساتھ اچھی صحت، عصری تعلیم، سائنس و ٹکنالوجی میں انھی کی چال سے باطل کو جواب دینے میں کمال پیدا کرتے ہوئے محکمۂ پولیس، عدلیہ اور انصاف پر مبنی صحافت میں مسلمانوں کی شرکت اور ہر شعبہ میں مسلمانوں کی نمائندگی بھی ظلم کے خاتمہ میں اور اسلام کی صحیح تصویر کو پیش کرنے میں نہایت أہم کردار ادا کرسکتی ہے.
ذکر کی اہمیت و فضائل اور اسکے اثرات سے کوئی مردِ مومن انکار نہیں کرسکتا لیکن کڑوا سچ یہ ہیکہ صرف وظائف پر اکتفا کرنا آج در اصل ہماری تساہل پسندی کیلئے ایک بہانہ بن چکے ہیں اور شاید ہمارے لئے اس سے زیادہ آرام دہ دنیا کا کوئی اور کام نہیں ہوسکتا. اور پورے یقین کے ساتھ اس بات پر قسم بھی کھائی جا سکتی ہے کہ دنیا کی کوئی قوم آج ہمیں تساہل پسندی، بہانہ بازی، سُستی، مستی اور زبردستی میں ہرگز شکست اور مات نہیں دے سکتی.
سید عبدالمنتقم رشادی
Mashallah
🥰🥰🥰🥰🥰❤️❤️❤️❤️❤️❤️