ایران اسرائیل جنگ 2025: ایک ہفتے کے بعد نقصانات، نتائج اور مستقبل کے امکانات

ایران-اسرائیل جنگ ،ایک ہفتہ مکمل

ایران-اسرائیل جنگ ،ایک ہفتہ مکمل:
تباہی، تذبذب اور خطرات۔
گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں وہ خطرہ حقیقت بن گیا جس کا اندیشہ برسوں سے عالمی ماہرین ظاہر کر رہے تھے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگی تصادم نے محض دونوں ریاستوں کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ہفتہ گزر چکا ہے، مگر نہ تباہی تھمی ہے، نہ خطرہ ٹلا ہے، اور نہ عالمی ضمیر جاگا ہے۔
حملے، ہلاکتیں اور انسانیت کی تذلیل:
جنگ کا آغاز ایران کے ایک جوہری سائنس دان کی مبینہ اسرائیلی حملے میں ہلاکت سے ہوا۔ ایران نے “انقلابی انتقام” کے نعرے کے تحت تل ابیب، حیفہ اور اشدود پر درجنوں میزائل داغے۔ جواباً اسرائیل نے تہران، اصفہان، اور مشہد کے گرد عسکری و سویلین تنصیبات پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ایران میں 657 افراد جاں بحق ہوئے جن میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں بھی 240 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جب کہ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
دفاعی صلاحیت اور عسکری توازن:
ایران نے درمیانی فاصلے کےسجیل اورخورمشاہ(جس کو الفتح) میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی بھرپور استعمال کیا۔ اسرائیل کا “آئرن ڈوم” سسٹم زیادہ تر حملے روکنے میں کامیاب رہا، لیکن 100 فیصد تحفظ ممکن نہ ہو سکا۔حیرت انگیز طور پر دونوں فریق براہِ راست زمینی جنگ سے گریزاں رہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جنگ زیادہ تر پیغام رسانی اور دباؤ کی جنگ ہے، ناکہ مکمل فتح کی۔
عالمی طاقتیں: خاموش حمایت یا عملی بے بسی؟
امریکہ کی ابتدائی وارننگ کے باوجود اس نے کھل کر اسرائیل کا دفاع کیا اور اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب چین اور روس نے اس جنگ کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیا، مگر کوئی مؤثر کردار ادا نہ کیا۔یورپ، ہمیشہ کی طرح بیانات تک محدود رہا۔ اقوام متحدہ کی “تشویش” اور “دیکھ رہے ہیں” کی پالیسی اس بار بھی دہرائی گئی۔ فلسطین، کشمیر، یمن اور اب ایران،کہاں ہے عالمی انصاف؟
معیشت، تیل اور عام انسان:
اس جنگ کا سب سے فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ تیل کی قیمتیں 10٪ سے زیادہ بڑھ گئیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹس ہل کر رہ گئیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے تجارت کرنے والے کئی ممالک نے اپنی شپمنٹس روک دیں۔ مہنگائی اور بے یقینی کا طوفان دنیا بھر میں محسوس کیا جا رہا ہے۔
ممکنہ منظرنامے:
اس وقت تین منظرنامے ممکن ہیں:
(1)سفارتی دباؤ سے وقتی جنگ بندی ۔
(2)جنگ کا دائرہ لبنان، عراق اور یمن تک پھیلنا۔
(3)پراکسیز کے ذریعے طویل عدم استحکام۔
تاہم سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اگر امریکہ یا کوئی اور بڑی طاقت براہِ راست مداخلت کرتی ہے تو یہ جنگ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔
مسلم دنیا کا رویہ: خاموشی یا مصلحت؟
افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم دنیا اب بھی “بیانات” کی دنیا میں زندہ ہے۔ او آئی سی خاموش، عرب لیگ غیر فعال، اور باقی دنیا بے حس۔ ایران چاہے شیعہ ملک ہو یا سنی، جب ایک مسلم ملک پر حملہ ہو تو اُمت کی غیرت اور حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم سفارتی سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔
یہایران اور اسرائیل کی جنگ ایک لمحاتی بحران نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے آئندہ کا آئینہ ہے۔ دشمن چاہے کوئی بھی ہو، جب تک ہم بٹے رہیں گے، کمزور رہیں گے۔آج ایران ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ اور ہم سب تماشائی!
قارئین سے درخواست:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلم دنیا کو اس جنگ میں سفارتی، میڈیا یا دیگر ذرائع سے کردار ادا کرنا چاہیے؟ اپنی رائے ضرور شیئر کریں۔
طارق انور ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں