حضرت خالد بن ولید Khalid bin waleed

ایران و روم کی جنگیں

تیسری قسط:خالد بن ولید
(شمشیر بے نیام:ایرانی حکومت عراق کے صوبہ حضیر میںپہلی جنگ ہرمز کے ساتھ،دوسری جنگ ایرانی سپہ سالار قارن کے ساتھ،تیسری جنگ عراق کے دلجہ نامی مقام پر اعدز کے ساتھ،چوتھی جنگ مقام لیس میں مالک بن قیس کے ساتھ،پانچویں جنگ مقام حیرہ میں صلح کے ساتھ، چھٹی جنگ انبار نامی مقام پر صلح کے ساتھ،دومۃ الجندل میں جودی بن ربیعہ کے ساتھ،ساتویں جنگ جنگ حصیدزرمہر اور روزیہ نامی سردار کے ساتھ،آٹھویں جنگ مقام مصیخ پر،نویں جنگ مقام فراض دریائے فرات کے کنارے رومیوں کے ساتھ اسی طرح چھوٹی بڑی بیسیوں خون ریز جنگیں لڑیں جس میں ان کی جفوج کم اور دشمن کی فوج کئی گنا زیادہ تھی۔اور ہر لڑائی میں انکی جیت ہوئی)۔
اسلام کی ابھرتی ہوئی نئی طاقت کو دو قسم کے بیرونی خطرات در پیش تھے۔ ایک طرف ایرانی شہنشاہیت اور دوسری طرف قیصر روم ایران اس بات کے لئے تیار نہیں تھا کہ عرب کے بدو، ایران کے حکمران بن جائیں ۔ ظہور اسلام کے وقت دنیا کی دو بڑی سلطنتیں یہی ایران و روم کی تھیں۔ آدھی دنیا پر ایرانی تمدن چھایا ہوا تھا، اور آدھی دنیا پر رومی تمدن، ملک عرب تاریکی کے عالم میں پڑا ہوا تھا۔ اسلام کے ذریعہ یہاں ایک نئی زندگی نصیب ہوئی ، نئی سلطنت اور نئے تمدن کی ابتداء ہوئی ، اسلام کے ابھرتے ہی ایرانی و رومی تمدن فنا ہو گیا ۔ ایران کی ساسانی سلطنت اس قدر وسیع تھی کہ وہ خلیج فارس، دریائے فرات ، بحیرہ کاسپین سے لے کر دریا سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ رومیوں کی سلطنت مغربی ایشاء سے لے کر یوروپ کے کئی علاقوں پر مشتمل تھی۔ حضورﷺ کی ولادت کے وقت ایران کا شہنشاہ نوشیروان تھا اور بعثت نبوت کے وقت اس کا پوتا خسرو پرویز تھا۔ حضور نے جب تبلیغی دعوت کا خط خسرو پرویز کے نام بھیجا تو اس نے آپ کے نامہ گرامی کو چاک کر دیا۔ روم کا حاکم ہرقل نے تکریم وعزت کے ساتھ اس خط کو لیا۔ حضورﷺ نے ایرانی بادشاہ کی نازیبا حرکت کا حال سن کر فرمایا کہ اس کی سلطنت پارہ پارہ ہو جائے گی۔ خسرو پرویز اس قدر گستاخی پر اتر آیا کہ اپنے یمن کے عامل کو لکھا کہ اس عربی پیغمبر کو گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دو۔ عامل باذان نے دو آدمی مدینہ بھیجے ۔ دونوں دربار رسالت میں حاضر ہوئے۔ خسرو کے حکم کی اطلاع دی، حضورﷺ نے فرمایا کہ جس کو تم اپنا خدا سمجھتے ہو یعنی خسرو پرویز کو، وہ رات اپنے بیٹے کے ہاتھ سے مارا گیا۔ جب یہ دونوں باذان کے پاس پہنچے تو مدائن سے خبر آئی تھی کہ خسرو پرویز اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ٹھیک اسی رات کا تھا جس رات حضور نے یمن کے آدمیوں کو یہ خبر سنادی تھی۔ باذان یمن میں مسلمان ہو گیا ۔ یمن میں بہت جلد اسلام پھیل گیا۔
ابھی مرتدوں کے خلاف حضرت صدیق اکبر کی جنگ جاری ہی تھی کہ آپ نے سوچا کہ کہیں اندرونی فتنوں کی خبر مدائن و روم پہنچ کر دشمن حملہ کر بیٹھیں۔ آپ نے تدار کی تدبیر یہ اختیار کی کہ حضرت خالد بن ولید کو جو یمامہ میں مقیم تھے حکم دیا کہ اپنا لشکر لے کر عراق روانہ ہو جاؤ ۔ حضرت خالد مقام ایلہ پہنچ گئے جہاں مثنی ابن حارثہ بھی آکر مل گئے ۔ حضرت خالد کے پاس اٹھارہ ہزار کی فوج تھی۔ آپ کے سامنے عراق کا وہ ایرانی صوبہ تھا جو حضیر کہلاتا تھا۔ ہر مز یہاں کا گورنر تھا۔ حضرت خالد نے ہرمز کے نام ایک چٹھی لکھی اور اسلام کی دعوت دی ہر مز جواب میں فوجیں لا کر مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا۔ حضرت خالد میدان میں نکل آئے اور ہرمز کو مقابلہ کے لئے طلب کیا دونوں میں کشتی کی نوبت آگئی ۔ حضرت خالد نے اس کی کمر پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر اس زور سے پٹکا پھر سینہ پر چڑھ بیٹھے اور سرکاٹ کر پھینک دیا۔ ایرانی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ ہرمز کا تاج خالد کے ہاتھ آیا جس کی قیمت ایک لاکھ دینار تھی۔ اس لڑائی میں ایرانی فوج نے اپنے پاؤں میں زنجیریں باندھ لی تھیں تا کہ بھاگ نہ سکیں پھر بھی زنجیروں کو توڑ کر بھاگنا ہی پڑا۔ اس لڑائی کا نام زنجیروں کی وجہ سے ذات السلاسل مشہور ہوا۔
ہرمز کی اطلاع جب دربار ایران میں پہنچی تو وہاں سے ایک جرار فوج قارن کی قیادت میں بھیجی گئی۔ حضرت خالد نے قارن کو بھی شکست دی۔ ایرانی تین ہزار لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگے اس لڑائی کے بعد حضرت خالد اس صوبہ کی رعایا کوکسی قسم کی اذیت دئے بغیر جزیہ کی ادائیگی پرآمادہ کر کے وہاں اسلامی عامل مقرر کر دیا۔ قارن کی شکست سن کر دربار ایران نے اعد ز نامی ایک سردار کے تحت ایک زبردست لشکر روانہ کر دیا۔ یہ لشکر دلجہ نامی ایک مقام پر پہنچا جہاں جنگ ہوئی۔ حضرت خالد دلجہ پہنچ کر لشکر ایران پر حملہ کر دیا۔ ایک خونریز جنگ کے بعد ایرانیوں کو شکست ہوئی ۔ اعد ز سردار بھی مارا گیا ۔ پھر ایرانی ایک اور مقام لیس میں ایک عظیم لشکر لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ حضرت خالد تنہا آگے بڑھے اور ایرانی سردار مالک بن قیس کو قتل کر دیا۔ جنگ لیس ایسی خونریز رہی کہ ستر ہزار دشمن میدان جنگ میں مارے گئے جنگ لیس سے فارغ ہو کر حضر خالد نے حیرہ کا محاصرہ کیا۔ شہر کے لوگ عاجز آ کر حضرت خالد کی خدمت میں صلح کی درخواست پیش کی۔ دولاکھ روپیہ خراج قبول کر کے صلح کر لی۔ حضرت خالد نے اطراف واکناف کے علاقوں میں قبول اسلام کی دعوت دی۔ حیرہ میں مقیم ہو کر ارد گرد کی مہمات کا اہتمام کرتے رہے۔
ایرانیوں نے انبار میں ایک لشکر عظیم اکٹھا کر لیا۔ شیر زاد کو اس لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ حضرت خالد نے انبار کا محاصرہ کیا۔ ایرانیوں نے مدافعت میں بڑی بہادری و ہمت کا مظاہرہ کیا مگر زیادہ دیر مقابلہ نہ کر سکے۔ حضرت خالد کے پاس صلح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے اس شرط پر صلح کی منظوری دی کہ شیر زاد تین دن کا سامان رسد لے کر شہر سے نکل جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خالد فاتحانہ شہر میں داخل ہوئے۔ ایرانیوں نے نئی چال چلی ۔ عقبہ بن عقبہ ایک عرب کو سپہ سالار منتخب کیا اور اس کی سرداری میں ایک فوج بھیجی۔ حضرت خالد نے عقبہ کو گرفتار کر لیا۔ اس کی ساری فوج بھاگ گئی۔ اس جنگ کا نام فتح عین التمر ہے حضرت خالد دومۃ الجندل جو بالائی عراق کا ایک مقام ہے روانہ ہوئے ۔ یہاں عیسائیوں سے مقابلہ ہوا ۔ جو دی بن ربیعہ عیسائی لشکر کا سردار تھا۔ حضرت خالد نے جو دی کوللکارا اور مقابلہ پر طلب کیا۔ حضرت خالد نے فوراً اس کو گرفتار کر لیا اور اسکو قتل کر ڈالا ۔ اس فتح کا نام فتح دومتہ الجندل ہے۔ اس کے بعد جنگ حصید واقع ہوئی۔ ایران کے دو مشہور سردار زر مہر اور روز یہ ایک لشکر عظیم لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ بڑی خون ریز جنگ ہوئی اور فتح مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔ جنگوں کا سلسلہ ختم ہو نہ پاتا تھا۔ ایرانیوں نے پھر ایک فوج بھیجی ، جس کو حضرت خالد نے مصیخ کے مقام پر شکست دی۔ اس جنگ میں دو مسلمان شہید ہوئے جو مجبور ادشمنوں کے ساتھ تھے۔ صدیق اکبر کی ایسی اسلامی حمیت کہ انہوں نے دونوں کا خون بہا ادا کیا اور حضرت خالد سے باز پرس نہیں کی مالک بن نویرہ کے بعد یہ دو مسلمان تھے جو حضرت خالد کی قیادت میں مارے گئے ۔ صدیق اکبر نے کہا کہ جو شخص شرک کے ساتھ رہا اس کا یہی انجام ہوگا۔
حضرت خالد کو جنگوں سے فرصت نہیں مل رہی تھی۔ فراض میں پہنچ کر لڑائی کی تمہید ڈال دی۔ یہ مقام دریائے فرات کے کنارے تھا یہاں رومیوں سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ اسلامی لشکر لڑائیوں سے چور چور ہو چکا تھا۔ رومی تازہ دم تھے۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی ، تاہم رومی لشکر کو شکست فاش ہوئی۔ وہ میدان میں ایک لاکھ لاشیں چھوڑ کر بھاگے۔ حضرت خالد کی قیادت ہر جگہ فتح و نصرت کا باعث بن رہی تھی۔ فراض سے روانہ ہو کر خالد مکہ معظمہ پہنچ کر حج بیت اللہ میں شریک ہوئے ۔ ۲ ھ تک وہ بیسیوں خوں ریز وعظیم جنگیں لڑ لیں۔ ہر لڑائی میں ان کی فوج کم اور دشمن کی کئی گنا زیادہ تھی۔ ہر لڑائی میں ان کی جیت رہی۔ قلیل مدت میں ایک وسیع خطہ آپ نے فتح کیا۔ زبردست قبائل کو تسخیر کیا۔ آپ نے بے نظیر شجاعت و قابلیت کا مظاہرہ کیا۔
خالد بن ولید ملک شام میں :
ایرانیوں سے نبرد آزما ہونے کے بعد حضرت خالد رومیوں کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔ فتنہ ارتداد کی روک تھام کے لئے حضرت ابو بکر صدیق نے جب گیارہ ہزار کا لشکر تیار کر کے روانہ کئے تو ان میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن ولید کو دے کر حکم دیا تم سرحد شام کی طرف لے جاؤ ۔ قیصر روم ہر قل کو جب خبر ملی کہ اسلامی لشکر حدود شام میں موجود ہے تو اس نے ہامان نامی ایک سردار کے تحت ایک عظیم لشکر کو آگے بڑھایا۔ اس فوج کو شکست ہوئی اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا یہ خبر سن کر خود ہر قتل ملک شام آیا اور لڑائی کا اہتمام براہ راست خود اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ حضرت صدیق اکبر نے حضرت خالد کی مدد کیلئے عکرمہ بن ابی جہل کو فورا روانہ کر دیا۔ مزید تائید کے لئے عمرو بن العاص کو بھیج دیا۔ ساتھ ہی یزید بن ابی سفیان اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے تحت بھی دو اور لشکر تیار کر کے روانہ کر دیا، تا کہ یہ چاروں لشکر رومیوں کے چار مختلف مقامات پر بہ یک وقت حملہ آور ہوں۔ ہر قل نے بھی تقریبا دو لاکھ کی فوج اکھٹا کر کے ان چاروں سرداروں کے خلاف بھیج دیا۔ دولاکھ رومیوں کے مد مقابل مسلمانوں کی مجموعی فوج صرف تیس ہزار تھی۔ یہ چاروں سر دار اپنی فوجوں کو لئے یرموک پہنچ گئے ۔ حضرت صدیق اکبر نے حضرت خالد کو بھی لکھا کہ وہ بھی اس مہم میں شریک ہو جائیں اور تمام اسلامی فوجوں کے سپہ سالاری کا کام انجام دیں۔ خالد سے بہتر کوئی شخص حضرت صدیق کی نظر میں نہیں تھا جو اس ذمہ داری کو قبول کر کے رومیوں کا مقابلہ کرے۔ جنگ موتہ کی کامیابی پر حضرت خالد کو بارگاہ ایزدی سے سیف اللہ کا خطاب ملا تھا۔
جنگ یرموک:
رومیوں نے اپنے چاروں لشکر کو یرمعک کے میدان میں لاکھڑا کردیا۔ان کی فوج دولاکھ چالیس ہزار تھی۔۔۔جاری۔۔۔

دوسری قسط
https://guftar.in/%D8%AE%D8%A7%D9%84%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%AF/: ایران و روم کی جنگیں

اپنا تبصرہ بھیجیں