عمربن عبدالعزیز کی وفات خلافت راشدہ کا ٹمٹماتا چراغ غل ہوگیا

ایک نظر عمر بن عبدالعزیز کی خلافت پر

آخری قسط:
وفات:
نیک ہستیوں کو تادیر شر پسند لوگ اقتدار میں رہنے نہیں دیتے ۔ آپ کو زہر دے کر مار ڈالا گیا۔ آپ صرف تین سال سے بھی کم خلیفہ رہے۔ بنوامیہ کے لوگ آپ کے طرز عمل کے سخت مخالف رہے۔ ان کی جاگیریں، املاک اور مال ضبط کیا گیا تو سازشوں کی آگ سلگنے لگی ۔ آپ کے عہد میں وہ کوئی ناجائز فائدہ اٹھا نہیں سکتے تھے۔ دوسروں کے حقوق چھین نہیں سکتے تھے۔ اپنے نقصانات تادیر برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ حق زہر لگنا شروع ہوا۔ آپ کو قتل کرنے کی سازش چلی۔ یہ کام ان کے لئے دشوار نہ تھا۔ اپنی ذات کے لئے آپ نے دربان بھی نہ رکھا تھا۔ بالکل فاروقی ارشادات پر عمل پذیر تھے۔ آپ کے زہد و عبادات ، شرافت و مقبولیت سے مرعوب ہو کر تیغ و خنجر سے آپ کا خون بھی بہانا نہیں چاہتے تھے تاکہ کہیں عوام بددل نہ ہو جائیں۔ اس لئے انہوں نے آسان نسخہ دریافت کیا کہ کھانے میں زہر ملا دیا جائے ۔ آپ کے غلام کو لالچ دے کر اس امر پر آمادہ کر لیا اور آپ کو زہر دے دیا گیا۔ آپ کو اس کا علم ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ زہر کی دوا لیجئے ۔ آپ نے کہا کہ اگر مجھ سے کوئی یہ کہے کہ ذرا ہاتھ اٹھا کر اپنے کان تک لے جائیے ۔ آپ اچھے ہو جائیں گے تو میں اتنی حرکت بھی نہ کروں گا ، دوائی بڑی چیز ہے۔ پھر آپ نے اس غلام کو بلایا جس نے آپ کو زہر دیا تھا۔ وہ آیا اور پوچھا کہ اس کام کے لئے کتنی اجرت مل رہی ہے۔ اس نے کہا ایک ہزار دینار اور آزادی کا وعدہ ۔ آپ نے کہا وہ رقم یہاں لاؤ۔ وہ لے آیا۔ آپ نے کہا اس کو بیت المال میں داخل کر دو اور بھاگ جاؤ تم آزاد کر دئے گئے ہوتا کہ تمہاری صورت کسی کو نظر نہ آئے اور جذبات میں تم کو قتل نہ کر دیا جائے ۔ آپ کو نزع کی حالت شروع ہو گئی۔ آپ نے کہا مجھے تنہا چھوڑ دو۔ صرف آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک پاس کھڑی رہی ۔ آپ نے تلاوت قرآن مجید شروع کر دی۔ اسی تلاوت کلام اللہ میںمالک کا ایک برگزیدہ بندہ مالک حقیقی سے جاملا۔ انا لله و انا اليہ راجعون۔
آپ صرف دو برس پانچ مہینے چار دن خلیفہ رہے۔ آپ کی وفات کی خبر جب حضرت امام حسن بصری کو ملی تو آپ نے فرمایا کہ آج سب سے بہتر آدمی اٹھ گیا۔ آپ کی تین بیویاں اور گیارہ بیٹے تھے۔ آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبد الملک آپ ہی کی طرح نیک دل با خدا تھیں۔ جب آپ رحلت فرما چکے تو آپ کا کل ترکہ صرف ۲۱ دینا ر تھا۔ یہی رقم اولاد میں تقسیم ہوئی۔ اسی میں سے چند دینار کفن ودفن میں بھی خرچ ہوئے ۔ آپ کے فرزندوں کو ایک ایک دینار ملا۔ ہشام بن عبدالملک کے بھی گیارہ بیٹے تھے ان کو اپنے باپ کے ترکہ سے دس دس لاکھ درہم ملے ۔ مالک کا یہ کرم رہا کہ امتداد زمانہ کے با وجود عمر و بن عبد العزیز کے بیٹے بعد میں اتنی شہرت پائے کہ انہوں نے جہاد کے لئے سو گھوڑے دے
دیتے تھے اور ہشام کے بیٹوں کی یہ حالت بنی کہ وہ لوگوں سے صدقہ مانگتے نظر آئے۔
فضائل و خصائل:
آپ کے فضائل و خصائل ارباب کشف و کرامات کے فضائل و خصائل جیسے تھے۔ کہتے ہیں کہ ابو نعیم ایک معتبر مرد خدا نے یہ دیکھا کہ ایک بزرگ ہستی آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہی تھی۔ پوچھا گیا کہ وہ کون تھے ۔ آپ نے فرمایا وہ حضرت خضر تھے وہ امت محمدیہ کا حال پوچھنے اور عدل و انصاف کی تلقین کرنے آئے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کا داروغہ آیا اور شاہی اصطبل کے گھوڑوں کا خرچ مانگنے لگا۔ آپ نے کہا کہ تمام گھوڑوں کو شہر میں فروخت کر دو اور رقم بیت المال میں جمع کر دو۔ میرے لئے میرا خچر ہی کافی ہے۔ خلیفہ بن سعید بن عاص نے آپ سے مدد مانگی اور کہا کہ سانے میرے پاس کچھ جا گیر تھی اس کو آپ نے ضبط کر رکھا ہے۔ اجازت ہو تو اس میں سے کچھ لے لوں ۔ آپ نے کہا محنت مشقت سے جو کماتے ہو اسی پر قناعت کرو۔ وہ تمہارا مال ہے ۔ جا گیر توملت کی ہے ۔ پھر فرمایا موت کو اکثر یاد کرو کیونکہ اگر تم تکلیف میں ہو گے تو عیش پاؤ گے اور عیش میں ہو گے تو اس میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ وہب بن منبہ کہا کرتے تھے کہ اگر اس امت میں کوئی مہدی ہونے والا ہے تو وہ عمرو بن عبدالعزیز ہیں۔ جب آپ ایک جزیرہ سے گزرے تو ایک راہب دوڑتا آیا اور کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کیوں آپ کے پاس دوڑتے آیا ۔ آپ نے کہا نہیں۔ راہب نے کہا کہ محض اس لئے کہ تم ایک امام عادل کے بیٹے ہو۔
مالک بن دینا ر کہتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے اس دن سے چرواہوں نے دیکھا کہ بھیڑیئے بکریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچارہے ہیں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ بھیڑیا ایک بکری کو اٹھا لے گیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسی دن عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہوا تھا۔ یونس بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز خلافت سے پہلے خوب فربہ تھے۔ خلافت کے بعد وہ اس قدر لاغر ہو گئے تھے کہ جسم کی ہڈیاں گنی جاسکتی تھیں۔ مسلمہ بن عبدالملک کا قول ہے کہ جب وہ عمر بن عبدالعزیز کی عیادت کو گئے تو دیکھا کہ ایک میلا کرتہ پہنے ہوئے ہیں۔ اپنی بہن فاطمہ یعنی ان کی بیوی سے کہا کہ تم ان کا کرتہ دھو کیوں نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دوسرا کرتا نہیں ۔ آپ کے غلام نے ایک مرتبہ آپ کی بیوی سے شکایت کی کہ مسور کی دال کھاتے کھاتےناک میں دم آگیا ہے تو انہوں نے کہا کہ تمہارے آقا کا بھی روز کا یہی کھانا ہے۔ ایک دن آپ نے اپنی بیوی سے کہا کہ انگور کھانے کو جی چاہتا ہے۔ اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو دو۔ بیوی نے کہا کہ میرے پاس ایک کوڑی بھی نہیں ۔ آپ امیر المومنین ہو اور آپ کے پاس اتنا بھی نہیں کہ چند انگور خرید سکو۔ آپ نے کہا انگوروں کی تمنا دل میں لے جانا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ کل دوزخ میں زنجیروں کی رگڑیں کھاؤں ۔ ولید بن ابی سائب کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر کسی شخص کے دل میں خدا کا خوف نہیں دیکھا۔
ایک دن جمعہ کی نماز پڑھانے جو آئے تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ کے کرتے پر آگے اور پیچھےدونوں طرف پیوند لگے ہوئے ہیں۔ ایک شخص نے پوچھا آپ کپڑے کیوں نہیں بنواتے۔ آپ نے کہا تو نگری میں میانہ روی اور قدرت میں عفو بڑی چیز ہے۔ آپ کی عادت تھی کہ جب تک آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگ سلطنت کے معاملہ پر گفتگو کرتے رہتے آپ بیت المال کا چراغ جلائے رکھتے اور جب چلے جاتے تو اس کو گل کر کے اپنا ذاتی چراغ جلا لیتے ۔ آپ کی تنخواہ روزانہ صرف دو در ہم تھی ۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی خدمت کے لئے سو ملازم تھے۔ آپ خلیفہ ہوتے ہی ان سب کو چھٹی دیدی اور کہا میری حفاظت کے لئے قضا وقد ر اور اجل کافی ہے۔ آپ کا جی انار کھانا چاہا کسی ایک عزیز نے انار بھیج دیا۔ آپ نے اپنے غلام سے کہا کہ اس کو واپس کر کے آؤ۔ غلام نے کہا رکھ لینے میں کیا ہرج ہے۔ آخر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہدیہ قبول فرمالیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدیہ تھا مگر میرے لئے رشوت ہے۔ ایک رات رجاء بن حیواۃ آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ چراغ گل ہو گیا ۔ وہیں آپ کا غلام سورہا تھا۔ رجاء نے کہا غلام کو جگادوں ۔ آپ نے کہا نہیں۔ اسے آرام کی ضرورت ہے ۔ رجاء نے کہا میں چراغ جلا دوں ۔ آپ نے کہا، مہمان کو تکلیف دینا خلافت مروت ہے۔ پھر آپ اٹھے، چراغ میں تیل ڈالا اور اس کو جلایا۔ پھر کہنے لگے اب بھی میں وہی عمرو بن عبدالعزیز ہوں جو پہلے تھا۔ چراغ جلانے سے میرے مرتبہ میں کچھ فرق نہیں آتا۔ آپ علماء وفقہا کو جمع کر کے اور ان کی مجلس میں موت اور قیامت کا ذکر کر کے اتنا روتے کہ گویا ان کے سامنے کوئی جنازہ رکھا ہوا ہے۔ آپ خطبہ میں فرماتے پوشیدہ باتوں کا اصلاح کر لو ، ظاہری باتوں میں خود اصلاح ہو جائے گی۔ دنیا کی طرف صرف اس قدر توجہ دو جتنی ضرورت ہو۔ یا د رکھو تمہارے آباء واجداد کو موت کھا چکی ہے۔ آپ کہا کرتے تھے کہ جو شخص غصہ طمع اور نزع یعنی فساد سے دور رہا، فلاح پا گیا ۔ طلب رزق میں مارے مارے نہ پھرو۔ آپ کا رزق پہاڑ کے نیچے بھی دبا ہوا ہوگا تو آپ تک پہنچ کر رہے گا۔ جب آپ نے اپنے عیال کے نفقہ میں تخفیف کی تو انہوں نے آپ سے شکایت کی ۔ آپ نے کہا کہ میرے مال میں اتنی وسعت نہیں کہ نفقہ جاری رکھوں اور بیت المال میں آپ کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کہ دوسرے مسلمانوں کا۔
آپ کی خلافت پر ایک نظر :
بنوامیہ کی خلافت کے زمانے میں آپ کا عہد نسیم سحری کا ایک جھونکا تھا۔ ہوا و ہوس ، جاہ و حشمت ورزم و پرکار کے بازار میں آپ نے صالح نظام حیات کی ایک چھوٹی سی دوکان کھولی تھی۔ اخلاقی کمزوریوں کی اندھیری رات میں آپ نے خدا شناسی ، فرض شناسی و خودشناسی کا ایک چراغ روشن کر دیا تھا۔ صدیق اکبر کی خلافت کی طرح آپ کا عہد بھی بہت مختصر رہا۔ لیکن اسی عہد کی طرح آپ کا عہد بھی ایک یادگاری عہد بن گیا۔ وہ خلیفہ کو مسلمانوں کا حکمران و فرماں روا نہیں سمجھتے تھے بلکہ مسلمانوں کا شفیق باپ سمجھتے تھے۔ اندلس و فرانس سے لے کر پنجاب و سندھ تک پھیلی ہوئی سلطنت میں امن وامان کا دورہ تھا۔ ہر صوبے میں مدر سے و شفا خانے جاری ہوئے ، عدل و انصاف کا ڈنکا ہر جگہ بختارہا۔ اسلامی شان و شوکت پھر عود کر آئی۔ وحدانیت ، حقانیت ، روحانیت و انسانیت کی طرف عوام میں رغبت بڑھتی گئی۔ جب اس کرہ ارض کے ایک کثیر حصہ کا والی، حاکم یا فرمانروا فرشتہ خصلت ہو، عابد وزاہد ہو، عدل و انصاف کا نقیب ہو، شرافت و نجابت کا مجسمہ ہو اور انسان کامل کا نمونہ ہو تو وہ صحیح معنوں میں خلیفہ الارض کہلانے کا مستحق ہوگا جو اسلام کا نصب العین ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے چند دن کی خلافت میں یہ کام کر دکھایا۔ تاریخ آپ کو ہمیشہ عزت و احترام سے یادکرے گی۔
مت سہل انہیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
پھر خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں