بدلتی تہذیب اورمٹتے انسانی اقدار۔ (گاوں ۔گھر اورآنگن کی دنیا)
جب ہم چھوٹے تھے ۔گاوں کی زندگی تھی۔اپنوں میں یگانگی تھی ۔اب بے گانگی ہے۔پہلے بڑوں کا احترام تھا ۔بزرگوں کے سامنے سے گزرتے ہوٸے ڈرتے تھے۔احترام کایہ عالم تھاکہ والد سے کبھی آنکھ ملانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔اساتذہ کو راستے میں آتے ہوٸےدیکھ کر راستہ بدل لیتے تھے ۔گاوں میں کسی کے گھرمہمان آتا اوروہ اپنی منزل کاپتہ پوچھتا تو ہم لوگ ان کواپنے منزل مقصود تک نہ صرف یہ کہ چھوڑ آتے تھے ۔بلکہ اسے اپنی سعادت سمجھ کر اس پر خوش ہوتے تھے۔ ہر آنگن میں فصلوں کی کٹاٸی کے وقت دھان ۔گندم۔ ارہر۔چنے۔چپڑی ۔السی۔سرسوں۔ راگی اوردیگر اناجوں کے ڈھیرلگے ہوتے تھے ۔اورجب رات کو بادل گرجتاتوہرشخص پودوں میں لگے غلوں کو اٹھااٹھاکر گھروں اوردالانوں میں محفوظ کرنے میں لگ جاتا۔ہرآدمی اپنے غلوں کے گھٹر اٹھانے کے بعد دوسروں کے غلے اٹھانے اورمحفوظ مقامات تک پہونچانے میں اپناکام سمجھ کر لگ جاتا۔ غلے گاہنے میں اس زمانے جس کا ذریعہ بیل تھے دھان کی گہاٸی میں صبح سخت سردی میں پانچ بجے صبح ۔ اورگیہوں اوردلہن وتلہن میں سخت دھوپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ۔دوسروں کے بوجھ اپنے کندھوں اورسروں پر لاد کر اس کے گھر پہونچاتے۔اب نہ تو وہ قدریں رہ گٸی ہیں اورنہ وہ انسانیت ۔پہلے ایک دوسرے کی مدد پر فخر ہوتاتھا ۔اب لوگوں کی مدد کواپنی ذلت گرداناجانے لگاہے۔پہلے لوگوں میں حقیقی دین تھا۔”من لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا فلیس منا“ کی تعلیم لوگوں کی زندگی میں رچی بسی تھی۔اس لیے بزرگوں کا احترام بھی تھا۔اورچھوٹوں پر شفقت بھی تھی۔ اخلاق تھا ۔انسانیت نوازی تھی ۔اب نہ احترام ہے نہ شفقت واپناٸیت۔اب خودغرضی ہے ۔پہلے بےلوثی اوراخلاص تھا۔پہلے دوسروں کی مددکرنے کولوگ باعث سعادت سمجھتے تھے ۔اب اسے توہین اورباعث ذلت سمجھاجاتاہے۔ ایک زمانہ تھا جب شادی بیاہ کے موقعہ پر انتظامات کے لیے۔ٹینٹ ۔کرسیاں تخت اورشامیانے لگانے کےلیے کسی مزدور کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔گاوں اورمحلے کے سارے بچے مل کر یہ کام کرلیتے تھے۔کسی کا انتقال ہوجاتا تو محلے کے لوگ گاوں گاوں میت کی خبر لے کر خود چلے جاتے تھے ۔نہ قبرکھودنے کےلیے کسی مزدور کی ضرورت اورنہ بانس بلی کے لیے کسی کاٹنے والے لوہار اورکارپنٹر کو بلانے کی حاجت۔ ساراکام لوگ محبت سے خود انجام دے لیتے تھے۔ کیاوقت تھا اورکیسی انسانیت تھی ۔ سب مٹتا جارہاہے۔اس زمانے میں ذراٸع نقل وحمل کے لیے صرف بیل گاڑیاں اورساٸکلیں تھیں تو کام جلدی ہوجایاکرتے تھے۔ مگر آج موٹر ساٸکل ۔گاڑیاں اور ہواٸی جہاز ہے پھر بھی کوٸی کام وقت پر نہیں ہوپاتا ہمیشہ تاخیر کا شکوہ رہتاہے۔ یہ باتیں بہت پرانی نہیں ہیں ۔ابھی تیس پینتیس سال ہی تو گزرے ہیں۔ ۔ یہ بات یاد رکھٸے جب دنیا بدلتے حالات اوربدلتی تہذیبی روایات کی رومیں بہتی جارہی ہواوراپنے ماضی کے اقدارکو فراموش کرتی جارہی ہو۔ایسے حالات میں اپنی دینی اور اخلاقی اورایک قدم اور آگے بڑھ کے انسانی روش پہ جمے رہنا اورکسی لومة لاٸم کی پرواہ نہ کرنابھی دعوت دین کاایک مظبوط طریقہ ہے۔حضرت بلال۔حضرت عمار حضرت سمیہ اورصحابہ کرام کی ابتداٸی زندگی سے ہمیں یہ روشنی ملتی ہے۔میرے دوستو اخلاق واقدار کے داعی ۔کردارکے سپاہی اوراپنی تہذیب کے پاسبان بنو خیر اپنے آپ دلوں میں جگہ بناتاچلاجاٸے گا۔ اخیر میں جی چاہتاہے آپ سے کہوں ۔”ذراتہذیب رفتہ کو آواز دینا“۔
Very good