بچوں کی بہتر تربیت کیسے۔۔۔؟
قاسم علی شاہ
بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی نگہبانی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد: 2928)
البتہ والدین اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ بچہ میرے حکم کا پابند ہے اور میں جو کہوں گا اسے وہی کرنا پڑے گا، لیکن اس مالکانہ سوچ سے بعض اوقات بڑے نقصانات بھی جنم لیتے ہیں۔ بچہ اگر بات نہ مانے تو والدین کو توہین کا احساس ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ نافرمانی کر رہا ہے، اسے اصلاح کی ضرورت ہے اور تربیت کے نام پر بعض والدین بچوں کو دھمکاتے اورجسمانی سزا دیتے ہیں۔ نفسیات بتاتی ہے کہ تشدد کے دوران انسان کاغصہ آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے۔باپ سوچتا ہے کہ بچے کو ایک تھپڑ مارنا ہے لیکن وہ ایک کے بعد دوسرا، تیسر ااور چوتھا بھی مار دیتا ہے اور پھر یہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔
ہمیں سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے منفرد فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ شخصیت شناسی (Personality Types) کے مطابق انسانوں کی سولہ قسمیں ہیں۔ ہر قسم الگ سوچ، صلاحیت اور فطرت رکھتی ہے۔ اس لیے کسی انسان کو اس بات پر سزا دینا کہ وہ میری بات نہیں سمجھ رہا، سراسر غلط ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سزا دینے کے بجائے انھیں سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کے مزاج کے مطابق تربیت کریں۔
ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ غلطی کی صورت میں بچوں کو جسمانی سزا دینا، اصلاح نہیں ظلم ہے اور اس کے شدید نقصانات ہیں۔ مذہبی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو دین میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی تم میں سے اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے منہ (پر مارنے) سے بچا رہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔“(صحیح مسلم:6655)
World Health Organization کی رپورٹ کے مطابق جسمانی تشدد سے اب تک ہزاروں بچے معذور اور مرچکے ہیں۔ میڈیکل سائنس اور نیورو سائنس کے ماہرین اس بات پرمتفق ہیں کہ تشدد سے بچے نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور روحانی طورپر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ والدین جب بچے پر تشدد کرتے ہیں تو اسے شدید جسمانی چوٹ پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔ سرپر مارنے سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ ناک سے زیادہ مقدار میں خون بہ سکتا ہے، ہاتھ پاؤں کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔ چہرے پر مارنے سے آنکھ ضائع ہوسکتی ہے۔ مکے، لاتیں مارنے سے اندرونی زخم آسکتے ہیں اور کسی بھی کاری ضرب سے وہ عمر بھر کے لیے معذور ہوسکتا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ جن بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے وہ مختلف قسم کے نفسیاتی عوارض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بہ ظاہر لگتا ہے کہ جسمانی تشدد سے بچے کو صرف جسمانی تکلیف ملتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ دوران تشدد بچے کے دماغ میں ایسی خطرناک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو اس کی ذہنی صحت کو تباہ کردیتی ہیں۔
آئیے اس کے نفسیاتی نقصانات کا جائزہ لیتے ہیں۔
جسمانی تشدد کے شکار بچے خود کو بے کار اور معاشرے سے الگ سمجھتے ہیں۔ ان کا اپنی ذات پر اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی بڑھتا جاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم بھی خود نہیں اٹھاسکتے۔ ان کی قوت فیصلہ انتہائی کمزور ہوتی ہے اور صلاحیت رکھنے کے باوجود بھی وہ معاشرے کے لیے مفید انسان نہیں رہتے۔
ایسے بچوں میں بے چینی (Anxiety) اور صدمہ (Depression) بڑھ جاتاہے۔ یہ مسلسل پریشانی، ناامیدی اور بے سکونی کی کیفیت میں رہتے ہیں کبھی کبھار یہ جذبات بے قابو ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ دیگر نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ایسے بچے دوسروں پر اعتبار نہیں کرتے، یہاں تک کہ اپنے بہن، بھائی اور ماں باپ پر بھی بھروسا نہیں کرتے۔ یہ لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنانا چاہتے ہیں لیکن شک کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکتے۔
انھیں غصے، ناراضی اور نفرت جیسے جذبات پرقابو نہیں ہوتا۔ ان کا مزاج بہت جلدی بدلتا رہتا ہے۔بات کرتے کرتے اچانک شدید غصے میں آجاتے ہیں۔ اس وجہ سے لوگ ان سے دور رہنا چاہتے ہیں۔
بچپن کا تشدد ان کی ذہنی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ ان کی توجہ اور ارتکاز کی قوت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے امتحانات میں ان کے نمبر کم آتے ہیں۔ ایسے بچے اسکول میں اساتذہ کے غصے کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ جلدی سیکھ نہیں سکتے اور یہ چیز تعلیمی کرئیر پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
یہ بچے انتقامی جذبات سے لبریز ہوتے ہیں۔ انھیں تعمیر سے زیادہ تخریب میں مزہ آتا ہے اور اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ یہ بچے منفی عناصر کے ہاتھ چڑھ کر معاشرے کے امن و سکون کو برباد کر دیں۔
ماہر نفسیات کارل یون کہتا ہے کہ بچوں کو مارنے کی عادت نسل در نسل چلتی ہے۔
تشدد کی وجہ سے بچے کے مزاج میں جارحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسا بچہ باپ کی غیر موجودگی میں اپنی ماں سے لڑتا ہے اور چھوٹے بہن بھائیوں پر اپنا غصہ نکالتا ہے۔ والدین کاتشدد اس قدر برا طرز عمل ہے جو رُکتا نہیں ہے۔ متاثرہ بچہ جب باپ بنتا ہے تو پھر وہ اپنے بچوں کو مارتا ہے اوریہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔
لہٰذا بچوں پر تشدد کرنے والے والدین کو یہ سلسلہ فوری طورپر بند کرنا چاہیے۔
جسمانی تشدد بچوں کو روحانی طورپر بھی شدید متاثر کرتا ہے۔
یہ ان کے بھروسے کو توڑ دیتا ہے۔ ان کا خدا پر توکل کمزور ہوجاتا ہے۔ ایسے بچے الحاد کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور خدا کی ذات پر سوال بھی اٹھاسکتے ہیں۔ ان کے اندر روحانی خلا پایا جاتا ہے جو انھیں بے سکون رکھتا ہے۔
ان کے اندر پچھتاوے اوراحساس کم تری کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر تشدد اس لیے ہوا کیوں کہ ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ یہ احساس انھیں اپنی نظروں میں انتہائی کم وقعت بنا دیتا ہے۔
ایسے بچے تذبذب اور اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں ہمدردی اور اخلاقیات کی ترغیب دی جاتی ہے لیکن ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوتا ہے۔ انھیں معاشرے کی یہ دورنگی سمجھ نہیں آتی۔ وہ رحم اور احسان مندی کی تعلیمات کو اپنی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ناکام ہوجاتے ہیں، کیوں کہ انھوں نے تذلیل دیکھی ہوتی ہے۔اسی وجہ سے وہ معاشرے کے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہیں اورپوچھتے ہیں؛ اگر یہ چیزیں واقعی موجود ہیں تو پھر ہم ان سے محروم کیوں ہیں؟
ان بچوں میں مقصدیت کی کمی پائی جاتی ہے۔ یہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے اور ہم نے جانا کہاں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ا ن بچوں میں اُمید نہیں ہوتی۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح بچپن اذیت ناک گزرا، مستقبل بھی ایسے ہی گزرے گا۔
ایسے بچے تنہائی پسند بن جاتے ہیں۔ یہ معاشرے کا سامنا کرنا نہیں چاہتے۔ انھیں اپنے ساتھ وقت گزار کر سکون ملتا ہے لیکن اس کی وجہ سے یہ انسانوں سے دور ہوجاتے ہیں اور ان کی سماجی حیثیت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
تنہائی کی سوچیں جب انھیں تنگ کرتی ہیں تو ایسے میں اس بات کا غالب گمان ہوتاہے کہ یہ نشہ کی عادت میں مبتلا ہوجائیں۔ آ ج فٹ پاتھ کے کنارے ہمیں پھٹے پرانے کپڑوں اور میلے کچیلے جسموں کے ساتھ جو لوگ نظر آتے ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جنھیں ماں باپ نے اس قدر تکلیف دی ہوتی ہے کہ وہ منشیات میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اس تفصیل سے آپ یہ بات بہ خوبی سمجھ چکے ہوں گے کہ بچوں پر جسمانی تشدد انھیں جسمانی، روحانی اور نفسیاتی طورپر شدید متاثر کرتاہے۔ لہٰذا ہمیں اس چیز سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ پھر بچوں کوشرارت یا غلطیوں سے کیسے روکا جائے؟
اس کا جواب بہت آسان ہے۔ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کرلیں کہ بچہ شرارت ضرور کرے گا۔ آپ اسے ماریں، سزا دیں یا کچھ بھی کرلیں۔ اس نے اپنی عادت دہرانی ہے۔ البتہ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ خوش گوار تعلق بنایا جائے، ان کے ساتھ معاہدہ طے کیاجائے کہ آپ نے اگر کوئی غلط حرکت کی تو اس کی وجہ سے آپ کو آئس کریم (یاکوئی دوسری پسندیدہ چیز) نہیں ملے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ غلطی کی صورت میں بچے پر مت چلائیں۔ نیوروسائنس کے ماہرین کہتے ہیں کہ جب چیخ چیخ کربچوں کو کوئی بات سمجھائی جارہی ہو تو ان کادماغ بند ہو جاتا ہے اور وہ اس کیفیت میں نہیں ہوتے کہ آپ کی بات قبول کرسکیں۔ بچے کے ذہن میں بات بٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ نرم لہجے میں بات کرتے ہوئے انھیں مانوس کریں اور اس کے بعد انھیں نصیحت کریں۔
تیسری تجویز یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ اپنی بات چیت کا جائزہ لیں۔ ایسا تونہیں کہ آپ کی گفتگو ”مت کرو، چپ رہو، بیٹھ جاؤ، باہر نکلو“ جیسے تحکمانہ جملوں پر مشتمل ہو۔ اگر ایسا ہے تو اپنی اصلاح کریں، کیوں کہ بچے آپ کے ان جملوں کے عادی بن چکے ہیں اور اب یہ ان پر زیادہ اثر نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے روکنے کے باوجود بھی وہ شرارت سے باز نہیں آتے۔
اس عادت کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ بچوں کے ذہن میں آپ کی تصویر سنگ دل انسان کی صورت میں بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے آپس کا تعلق کمزور ہو جاتا ہے اور بچے آپ سے دور ہوجاتے ہیں۔
یادرکھیں کہ بچوں کے ساتھ بات چیت کرنا اور انھیں اپنے قریب کرنا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر آپ کے تعلق میں خلا رہے گا تو اسے باہر کا کوئی شخص بھردے گا اور وہ جیسا چاہے آپ کے بچے کی ذہن سازی کرے گا۔ عین ممکن ہے کہ وہ اسے برا انسان بنا دے۔

