بہار میں آر جے ڈی کی مسلم دوستی کا اصل چہرہ

بہار میں آر جے ڈی کی مسلم دوستی کا اصل چہرہ

طارق انور ندوی:
تعارف”سیاست صرف وعدوں کا کھیل نہیں، عمل کا پیمانہ بھی ہونا چاہیے۔”راشٹریہ جنتا دل (RJD)، بہار کی وہ علاقائی جماعت ہے جسے مسلمان ایک طویل عرصے تک اپنی سیاسی چھت سمجھتے رہے۔ لالو پرساد یادو کو اکثر مسلمانوں کا “سیاسی نجات دہندہ” سمجھا گیا، کیونکہ انہوں نے فرقہ واریت کے خلاف سخت موقف اپنایا اور بی جے پی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔لیکن آج جب ہم RJD کی تقریباً تین دہائیوں پر مبنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو یہ سوال لازمی ہو جاتا ہے:کیا واقعی آر جے ڈی نے مسلمانوں سے وفا کی؟ یا انہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا؟
تاریخی پس منظر:
لالو یادو کا عروج اور مسلم ووٹرز کی امیدیں1990 کا عشرہ:
بابری مسجد کے انہدام (1992) کے بعد لالو یادو وہ واحد لیڈر تھے جنہوں نے ایل کے ایڈوانی کی رتھ یاترا کو بہار میں روک کر، مسلمانوں کے دل جیتے۔مسلمانوں کو لگا کہ اب انہیں ایک ایسا لیڈر ملا ہے جو ان کی حفاظت بھی کرے گا اور نمائندگی بھی دے گا۔نتیجتاً، مسلمانوں نے کانگریس کو چھوڑ کر آر جے ڈی کی طرف رخ کیا۔
RJD کا نعرہ:”MY فارمولہ مسلم + یادو اتحاد،اس اتحاد نے دہائیوں تک آر جے ڈی کو اقتدار تک پہنچایا
زمینی حقائق:
آر جے ڈی کی مسلم دوستی محض نعرہ یا حقیقت؟
نمائندگی:- ٹکٹ کی تقسیم :ہر الیکشن میں مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے کم ٹکٹ دیے گئے۔ مثال کے طور پر، 2020 اسمبلی الیکشن میں RJD نے صرف 14 مسلمانوں کو ٹکٹ دیے، جب کہ 40 سے زیادہ سیٹیں مسلم اکثریتی تھیںاور آبادی کے تناسب سے بھی دیکھا جائے مسلمانوں کے حق میں 41 سیٹیں آتی ہیںجبکہ RJDیعنی یادو کی آبادی کے تناسب صرف 34 سیٹیں آتی ہیں ، کبھی کسی نے پوچھا کب تک ہم صرف ووٹ بینک بنے رہیںگےہمیں نمائندگی کب ملے گی۔
پارٹی میں مسلم قیاد ت:- پا رٹی کا کنٹرول آج بھی لالو خاندان کے ارد گرد ہے۔ کوئی بھی بااختیار مسلم رہنما (مثلاً شکیل احمد، تسلیم الدین، یا عبدالغفور) پارٹی میں دیرپا اور بااثر کردار نہ نبھا سکا۔
اسمبلی میں طاقت :-مسلمان ایم ایل اے تو منتخب ہوئے، مگر فیصلہ ساز کمیٹیوں اور پالیسی میٹنگز سے اکثر دور رکھے گئے
ترقیاتی پسماندگی:
لالو راج (1990-2005) کے دوران بہار کے بیشتر مسلم اکثریتی علاقے کشن گنج، ارریہ، کٹیہار، مدھے پورہ وغیرہ ،تعلیم، صحت، اور انفراسٹرکچر میں نہایت ہی پسماندگی کا شکار ہے۔مدرسوں کی جدید کاری، مسلم طلبہ کے لیے اسکالرشپ، یا روزگار کی اسکیمیں محض دعوے یا کاغذی عمل تک محدود رہے۔
جذباتی سیاست بمقابلہ ترقیاتی سیاست:
آر جے ڈی نے ہمیشہ مسلمانوں کو فرقہ پرستی کا خوف دلا کر اپنا ہمنوا بنایا،آج سے تھوڑا پیچھے جاکر 2020 کا لیکشن کا بیان اٹھا کر دیکھ لیجئے اور اس کے پیچھے جا کر 2015کا الیکشن کا بیان دیکھئے، یا اس سے پہلے کا۔ہر الیکشن میں یہی باتیں ملیں گی ۔
– ہم نہ رہے تو بی جے پی آ جائے گی” یہ جملہ آر جے ڈی کا مستقل ہتھیار رہا۔
– سیکولرزم کا دعویٰ عمل کی بجائے زبان سے سیکولرزم، مگر پالیسیاں صرف نعرہ تک محدود۔
– انتخابی نعروں میں مذہبی جذبات مگر حقیقی مسائل تعلیم، صحت، ہنر کو نظر انداز کیا گیا۔
آخر ملا کیاہمیں ؟صرف فرقہ پرستی کا ڈر اور خوف چاہے وہ مرکزی حکومت کا (وزیر اعظم)الیکشن ہو یا ریاستی (وزیر اعلیٰ )کا الیکشن۔ اوراگر اب بھی ہم صرف انہیں نعروں پہ ووٹ کرتے رہے اور اپنا لیڈر نہیں بنائے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرے گی۔آپ با شعور ہیں ، عقلمند ہیں خود سوچیں اور اپنے اسمبلی کی تاریخ اٹھا کر دیکھیںکہ کتنی بار RJDممبر جیت کر آئے لیکن آپ علاقے کیلئے کتنا کام کیا، کوئی اسپتال بنوایا، سڑکیں بنوائیں،سرکاری اسکولوں ٹھیک کیا، سرکاری اسکیموں کو آپ تک پہونچا، تھانے اور بلاک کا کرپشن کو روکا، آخر کیاکیا جو آپ کو اور آپ کی نسلوں کیلئے فائدہ مند ہو۔۔؟
حالیہ سیاسی رویہ :-تیجسوی یادو اور موجودہ حالا ت۔
تیجسوی یادو نے نوجوان قیادت کا چہرہ ضرور اپنایا، مگر مسلمانوں کے لیے کوئی مخصوص پالیسی یا ٹھوس پروگرام اب تک پیش نہیں کر سکے۔ 2020 کے الیکشن میں آر جے ڈی نے اپنے امیدواروں کی فہرست میں کئی ایسی مسلم اکثریتی نشستوں پر غیر مسلم امیدوار کھڑے کیے جہاں مسلم امیدوار جیتنے کی زیادہ امید رکھتے تھے۔الائنس (مہاگٹھ بندھن) میں بھی مسلمانوں کی کوئی مؤثر نمائندگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔
آر جے ڈی کے مسلم دوستی کے نقصانات:
(1)سیاسی انحصار: مسلمانوں نے آر جے ڈی پر اندھا اعتماد کر کے اپنی سیاسی خودمختاری کھو دی۔
(2)قومی سطح پر بے آواز: بہار کے مسلم مسائل کبھی قومی پلیٹ فارم پر نہیں اٹھائے گئے۔
(3)معاشی و تعلیمی پسماندگی: ترقیاتی اعداد و شمار کے مطابق مسلم اکثریتی علاقے آج بھی ریاست کے سب سے کمزور علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے آئندہ لائحہ عمل:
✅ سیاسی بصیرت اپنائیں:صرف جذباتی نعروں پر ووٹ نہ دیں، بلکہ پارٹیوں سے تحریری منشور طلب کریں
✅ قیادت خود پیدا کریں:تعلیم یافتہ، قابل اور عوامی خدمت کرنے والے مسلم نوجوانوں کو آگے لائیں
✅ متبادل قیادت کو موقع دیں:اگر مقامی مسلم سیاسی قوتیں (جیسے AIMIM، SDPI یا آزاد امیدوار) مخلص اور قابل ہوں، تو ان پر اعتماد کر کے نیا راستہ ہموار کریں۔
✅ اتحاد اور شعور پیدا کریں:مسلک، ذات اور برادری سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد میں فیصلہ کریں
نتیجہ:
آر جے ڈی کی “مسلم دوستی” ایک سیاسی چال ثابت ہوئی، جس نے مسلمانوں کو جذباتی طور پر تو وابستہ رکھا، مگر عملی طور پر محروم کیا۔ آج بھی مسلمانوں کی نمائندگی، ترقی اور شناخت RJD میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔لہٰذا، وقت آ گیا ہے کہ مسلمان خود کو صرف نعروں سے نہ بہلائیں، بلکہ سیاسی، سماجی، اور تعلیمی میدان میں باوقار قیادت اور باعمل سیاست کی طرف قدم بڑھائیں۔

اردو میں کمپیوٹر کورس کرنے کیلئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں، اس چینل کمپیوٹر کورس کی تمام ویڈیوز مل جائے گی، بالکل آسان اور سہل انداز میں اورآپ کی زبان میں سمجھایاگیاہے۔

TariqueForU https://www.youtube.com/@TariqueForU

اپنا تبصرہ بھیجیں