جنگ جمل اور جنگ صفین
قسط دوم: خلیفہ سوم حضرت علی رضی اللہ عنہ
بصرہ کے قریب حضرت عائشہ اور حضرت علی دونوں کا لشکر خیمہ زن ہوا۔ درمیان میں حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت علی میں گفتگو بھی ہوئی۔ حضرت عائشہ، طلحہ و زبیر مصالحت پر راضی تھے۔ ایسے وقت میں زبیر کے بیٹے عبداللہ نے کہا کہ ان کے والد حضرت علی کے لشکر کو دیکھ کر بزدل بن گئے پھر بھی وہ صلح کے لئے راضی ہو گئے۔ عبداللہ بن سبا پریشان ہو گیا۔ بڑی عیاری سے سبا کے لوگ زبیر سے کہنے لگے کہ حضرت علی نے لڑائی شروع کر دی ہے۔ ادھر حضرت علی سے کہنے لگے کہ حضرت زبیر نے لڑائی چھیڑ دی ہے۔ گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔ حضرت عائشہ بھی شریک جنگ رہیں۔ انہیں دیکھ کر فریقین سہم گئے۔ لوگوں نے سوچا کہ ام المومنین سپہ سالار بن کر آئی ہیں۔ حضرت طلحہ زخمی ہوکر انتقال کر گئے۔ حضرت زبیر کو بھی قتل کر دیا گیا۔ دس ہزار سے زیادہ مسلمان مقتول ہوئے۔ دونوں طرف کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ جنگ کیوں ہو رہی ہے اور اس کا کیا مقصد ہے۔ صرف منافقین خوش تھے۔ کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سب سبا کی سازش ہے۔ حضرت عائشہ کا اونٹ بھی زخمی ہو گیا۔ حضرت علی نے محمد بن ابی بکر کو حکم دیا کہ جا کر اپنی بہن کی حفاظت کرو۔ خود حضرت علی تشریف لائے۔ سلام کیا اور دریافت کیا اماں جال آپ کا مزاج بخیر ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا مالک آپ کی ہر غلطی معاف فرمائے۔ مزید کہا کاش میں آج سے میں برس پہلے مر جاتی۔ حضرت علی نے بھی وہی بات دہرائی کہ میں بھی میں برس پہلے مر جاتا۔ اس لڑائی میں حضرت عائشہ کا لشکر میں تیس ہزار کا تھا۔ اور حضرت علی کا میں بیس ہزار کا۔ حضرت علی کا پلہ ہی بھاری رہا۔ حضرت علیؓ نے بھی معذرت کی اور حضرت عائشہ نے بھی۔ حضرت علی، حضرت عائشہ اور محمد بن ابی بکر تینوں بصرہ تشریف لے گئے۔ تمام اہل بصرہ نے حضرت علی کی بیعت کی۔ حضرت عائشہ کو بصداحترام مکہ روانہ کیا۔ یہ بالکل بے کار کی جنگ ثابت ہوئی۔
جنگ جمل ختم ہوئی تو حضرت معاویہ کو فکر شروع ہوئی کہ اب حملہ ان پر ہوگا۔ انہوں نے لوگوں کو بہکانا شروع کیا کہ قتل عثمان میں حضرت علی کا ہاتھ تھا اور حضرت علی باغیوں کے بنائے ہوئےخلیفہ ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ قاتلین عثمان کو حضرت علیؓ نے اپنے لشکر میں شامل کر لیاہے۔ حضرت عمرو بن العاص بھی مصر سے چل پڑے اور حضرت معاویہ کے حامی بن گئے۔ حضرت علیؓ کوفہ چھوڑ کر مدائن چلے آئے۔ حضرت معاویہ نے جنگ چھیڑ دی۔ فریقین ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے۔ حضرت معاویہ نے دریائے فرات پار کر کے پانی پر قبضہ کر لیا۔ حضرت علی نے کہلابھیجا کہ فوج کو پانی سے محروم نہ رکھا جائے۔ معاویہ نے اس بات کو ٹھکرا دیا۔ حضرت علی کی فوج نوے ہزار اور حضرت معاویہ کی اسی ہزار کی تھی صلح کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔ کئی روز جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ گویا دو عظیم لشکر آپس میں جنگی مشق کر رہے ہیں۔ جنگ صفین کا یہ پہلا مرحلہ تھا۔ مصالحت کا دروازہ بھی کھلا تھا، بات چیت بھی جاری تھی اور لڑائی بھی۔ مشکل اس بات کی تھی کہ سبائی جماعت کسی صورت صلح نہیں چاہتی تھی۔ مسئلہ نازک تھا۔ حضرت علی خلافت سے سبکدوش ہونانہیں چاہتے تھے۔ معاویہ بھی ضدی تھے کہ باغیوں کو سزادی جائے۔ حضرت علی کی دشواری یہ تھی کہ محمد بن ابی بکر، سپہ سالار مالک اشتر اور عمار بن یاسر کو کیسے سزا دیں۔ امیر معاویہ کے مقابلہ میں حضرت علی خلافت کے زیادہ مستحق تھے۔ ادھر امیر معاویہ اپنے آپ کو ابو سفیان کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے امیر عرب سمجھتے تھے۔ خون عثمان کا قصاص طلب کرنے میں حق بجانب سمجھتے تھے۔ سبائی
جماعت شرارت میں مشغول تھی۔ تاہم مصالحت کی ایک اور کوشش کی گئی، مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔
فیصلہ کن لڑائی یکم صفر ۳۷ ھ کو شروع ہوگئی۔ ایک ہفتہ جنگ جاری رہی۔ لڑائی کا رنگ حضرت علی کو خطر ناک نظر آرہا تھا۔ حضرت عمار شہید ہوئے، یہ رات جمعہ کی رات تھی جبکہ حضرت اویس قرنی بھی شہید ہوئے۔ اس رات کو لیلتہ الہریرہ کہتے ہیں۔ لڑائی ختم نہ ہوئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت علی معاویہ کے خیمہ تک پہنچ گئے اور للکارا کہ مسلمانوں کو قتل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آؤ ہم ایک دوسرے سے قسمت آزمائی کرلیں۔ عمرو بن العاص نے کہا بات معقول ہے۔ معاویہ نے کہا حضرت علی کا مقابلہ کوئی بشر نہیں کر سکتا۔ جنگ نہ رکی۔ طرفین کے تقریباً ستر ہزار آدمی مارے گئے۔ لڑائی کا رخ حضرت علی کے لئے بہتر ہونے لگا۔ شامیوں کا لشکر اسی ہزار سے پچیس ہزار رہ گیا، حضرت علی کے ابھی ساٹھ ہزار باقی تھے۔ گھمسان کی لڑائی پھر شروع ہوگئی۔ شامی شکست یقینی نظر آرہی تھی۔ ایسے وقت پر عمرو بنالعاص نے ایک تدبیر سوچی جس سے جنگ کا ہی نہیں تاریخ کا رخ بدل گیا۔
حضرت معاویہ پریشان تھے۔ عمرو بن العاص نے معاویہ سے کہا کہ لوگوں کو حکم دو کہ قرآن مجید نیزوں پر بلند کریں اور نعرہ لگائیں کہ ہمارے تمہارے درمیان قرآن مجید موجود ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت علی کی فوج نے لڑائی سے ہاتھ کھینچ لی۔ حضرت علیؓ نے دریافت کیا کہ نیزوں پر قرآن مجید بلند کرنے کا کیا مطلب ہے۔ جواب ملا کہ فریقین خدا اور رسول کی طرف رجوع کریں۔ دونوں اپنے اپنے وکیل منتخب کریں اور ان سے حلف لیں کہ وہ قرآن مجید کے موافق فیصلہ کریں اور دونوں اس فیصلہ پر راضی ہو جائیں۔ معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص منتخب ہوئے اور حضرت علی کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری۔ ایک اقرار نامہ بھی تیار کر لیا گیا کہ چھ مہینوں کے اندر وکیل اپنا فیصلہ سنا دیں۔ جنگ رک گئی۔ دونوں لشکر صفین چھوڑ کر کوفہ اور دمشق چلے گئے ۔
جنگ ختم ہوتے ہی سبا کی سازش شروع ہوئی۔ وہ چاہتا تھا کہ جنگ نہ رکے۔ اس کی جماعت دباؤ ڈالنے لگی کہ اقرار نامہ فسخ کر دو۔ اس بات سے وہ جماعت حضرت علیؓ سے الگ ہو گئی۔ اس جماعت کے دو گروہ تھے۔ ایک گروہ حضرت علیؓ کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا تھا وہ خوارج کہلایا۔ دوسرا گروه اطاعت لازمی قرار دیتا تھا وہ شیعان علی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہیں سے شیعہ سنی کا آغاز ہے۔ خوارج حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کو خطا کار سمجھتے تھے۔ خلافت کے خلاف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی امیر یا خلیفہ کے بغیر سارے امور کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق مسلمانوں کےمشورے اور اکثریت رائے سے انجام دئے جائیں۔
چھ مہینے ختم ہونے آئے۔ عمرو بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری میں گفتگو شروع ہوئی۔ دونوں نے اپنے۔۔۔۔۔