حزب اختلاف کی سیاست
حکمراں طبقہ کو چیلنج کرنے والوں کی حالت ’جوتوں میں دال بٹنے‘ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں
عمیر کوٹی ندوی
پارلیمانی انتخابات تقریباً سر پر آپہنچے ہیں اورتاریخوں کا اعلان بھی اب زیادہ دور نہیں رہا۔ حکمراں طبقہ ملک میں مسلسل تیسری بار حکمرانی کا خواب دیکھتے ہوئےاپنی انتخابی سیاست اور انتخابی چالوں کے علاوہ پورے ملک کو جس خاص رنگ میں رنگ چکاہے وہ اس وقت گھردفتر، گاڑی گھوڑے، گلی چوراہے ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ ’پران پرتشٹھا‘سے متعلق جشن وجوش نے یہ بتا دیا ہے کہ پسماندہ اور اوبی سی طبقہ تکالیف و شکایات، استحصال ، ظلم وجبر کی ہزارہاباتوں کو بیان کرنے کے باوجود کدھر جارہا ہے۔مذہبی رہنماؤں کی تقریب سے خود کو دور رکھنے، صاف الفاظ میں اس پر تنقید ، مذہبی رسومات وتصورات اور روایات کی خلاف ورزی کے صریح بیانات نے بھی اس طبقہ سمیت کسی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔اب تک کی سماجی صورتحال بھی بتا رہی ہے کہ ملک کی معاشی حالت ، کساد بازاری،بے روزگاری،ملازمت و تجارت کی غیر اطمینان بخش صورت ، سماجی نابرابری سمیت اس ضمن کی بہت سی باتیں اور ڈھیروں مسائل بھی لوگوں کے سیاسی رجحانات کو بدلنے میں بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال حکمراں طبقہ کی انتخابات کے تئیں مستعدی ، منصوبہ بندی اور اقدامات کو بیان کر رہی ہے۔
دوسری طرف سیاسی میدان میں حکمراں طبقہ کوجو لوگ چیلنج کرنا چاہتے ہیں ان کی حالت ’جوتوں میں دال بٹنے‘ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔یہ بات ڈھکی چھپی نہیں طشت از بام ہے اورایک ہانڈی تو بہار میں پھوٹ بھی گئی ہے۔ان لوگوں نے بلند وبانگ دعوؤں کے ساتھ حکمراں طبقہ کے مدمقابل ایک اتحاد قائم کیا اور اس کا ایک خوبصورت نام بھی رکھا ’انڈیا‘(آئی این ڈی آئی اے)۔ اس سےیقیناً ان لوگوں کو امید کی ایک کرن نظر آئی جو حالات کی تبدیلی کی خواہش دلوں میں لئے بیٹھے تھے۔ وہ جڑے بھی اور ساتھ چلے بھی ، ہم قدم وہم رکاب بھی ہوئے لیکن ملک کے موجودہ سیاسی ماحول اور سیاسی جماعتوں کے عزائم کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک خاص طبقہ کی طرف سے سماج کو باٹنے کی جاری کوششوں پراس سب کا شاید ہی کوئی اثر پڑا ہو۔ ملک کو متحد کرنا اور رائے عامہ کو ہموار کرنا تو بہت دور کی بات ہے خود ان کے درمیان اب تک اتحاد قائم نہیں ہوپایا ہے۔ اتنا کچھ دیکھنے اور اس کا سامنا کرنے کے باوجود مفادات، ترجیحات اور زبان کاقابو میں نہ آنا اس کی بنیادی وجہ ہے۔اتحادی پارٹیوں کے عام کارکنان ولیڈران ہی نہیں پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز اور ذمہ داران کی طرف سےآپس میں ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا اور کہا جارہا ہے۔
دراصل پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر علاقائی اور مرکزی سیاست کے مابین رسہ کشی نے ایک عجیب سی بے یقینی کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔اسی رسہ کشی کو دیکھ کر کہنے والے اپوزیشن اتحاد کو ’سیاسی دلدل‘کہہ رہے ہیں حتی کہ اسے ’جمہوریت کے سیاسی دلدل‘ سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ بات چاہے جتنی عجیب لگے لیکن کسی نہ کسی حدتک اور کسی نہ کسی حقیقت کو یہ ضرور بیان کر رہی ہے۔ہر پارٹی کا اپنا ایک وجود، دائرۂ اثراور علاقہ ہے، اس کے ساتھ ہی اس کو وسعت دینے کا عزم بھی ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ قباحت اس میں ہے کہ یہ پارٹیاں گوکہ اپنی باتوں اور دعوؤں کے ذریعہ ملک، سیکولرزم، جمہوریت، آئین، عدل ومساوات کا ورد کرتی ہیں اور ملک کے عوام سے اس میں ان کا ساتھ اور قربانی دینے کوکہتی ہیں لیکن وہ خود مفاہمت کے لئے رتی برابر بھی کچھ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔اس کی جگہ اگر ان کو فکر ہے تو بس ان سب باتوں کے سہارے دوسروں کے دائرہ میں داخل ہونے اور اپنے دائرے کو وسیع کرنے کی ۔ بلکہ زیادہ سچ تو یہ ہے کہ اس میں شامل بہت سی جماعتوں کے لئے تو خود کے وجود وبقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔اس تعلق سے بہار کا منظر بہت کچھ کہہ رہا ہے۔
اس اتحاد میں شامل جماعتوں کا سیٹوں کی تقسیم سے قبل خود اپنے اپنے گرد دائرے کا نہ کھینچنا اور اپنی نیتوں کو درست نہ کرنا باہمی رسہ کشی کی بڑی وجہ ہے۔سب جانتے ہیں کہ کئی پارٹیاں ہیں جو اپنی اپنی ریاستوں میں بڑا اثر رکھتی ہیں۔وہاں ان کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ جس کی جہاں پوزیشن مضبوط ہے وہ پوری تیاری اور طاقت کے ساتھ انتخابی میدان میں اترےاور وہاں تھوڑا بہت اثر رکھنے والی دیگر پارٹیاں اپنے قد وقامت کے اعتبار سے حصہ لینے کے ساتھ اس پارٹی کا پوری طرح سے ساتھ دیں اور اس کی طاقت بنیں۔لیکن اس کے برعکس ہو رہا اور کوئی کسی کے لئے کچھ چھوڑنے یا دینے کو تیار نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی بہت سی مضحکہ خیز باتوں میں ایک یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ اس دلدل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھینچاتانی کرتے وقت وہ ساری حدیں پار کرلی جاتی ہیں جو باہم حریف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بولتے وقت اکثرکرتی رہتی ہیں۔ اس میں خاص طور پر حکمراں طبقہ سے وابستگی اور اس کے نظریہ سے ہم آہنگی ،اہنکاری وغیرہ الزامات شامل ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ باتیں ایک جذبہ اورارادہ کے ساتھ باہم شیروشکر ہوکر آگے بڑھنےکی راہ میں اہم رکاوٹ پیدا کرنے والی ہوتی ہیں اور خود الزام عائد کرنے والے کے تعلق سے ڈھیروں سوالات کھڑے کرتی ہیں۔
ایک مضحکہ خیزبات اور ہے۔خود کو مبینہ طور پر سیکولر ہونے کی دعویدار کم وبیش تمام پارٹیاں سارے داؤ پیچ تو خود چلتی ہیںاور انتخابی عمل میں شراکت داری کے اعتبار سے ایک طبقہ کو خاطر میں نہیں لاتیں حتی کہ خود پر ایک خاص’ ٹیگ‘لگنے سے اس قدر خوف زدہ رہتی ہیں کہ وہ طبقہ کہیں ان کے ساتھ فریم میں نظرنہ آجائے لیکن پورے انتخاب میں انہیں کامیابی سے ہم کنار کرانے کی امید اسی طبقہ سے وابستہ کئے ہوتی ہیں اور ناکام ہونے کی صورت میں شکست کا سارا ملبہ اسی مخصوص طبقہ پر بڑی آسانی سے ڈال کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے اور اس کامشاہدہ ملک کے عوام ہر بار اور بار بار کرتے رہے ہیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہورہاہے۔حصہ داری سے انہیں محروم رکھے جانے کی بات تو یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے لیکن ڈوبتی ہوئی نیا کو پار لگانے اور امید کی کرن بننے کی توقع اس سے ہی وابستہ کی جارہی ہے ۔ اس بار بھی فرقہ پرستی ، مذہبی جنون کو انتخابی سیاست پرطاری کرنے کی کوشش وکاوش ’اینٹی‘ اور ’پرو‘،’ورودھ‘ اور ’تشٹی کرن‘ سے ہی جاکر مل رہی ہے۔
’مشکل ‘کے ساتھ ’آسانی‘ ایک مسلمہ حقیقت اور فطری اصول ہے۔باالفاظ دیگر ’آپدا ‘میں ’اوسر‘ کو حالیہ برسوں میں اہل سیاست نے کثرت سے استعمال اور حکمت عملی کے طور پر اختیار کیا ہے۔اب جب کہ ملک کی سیاست اور سماجی ہلچل گزشتہ چندبرسوں سے خاص طور پر اس طبقہ کے ارد گرد مرتکز کردی گئی ہے اور حالیہ انتخابی سیاست بھی اسی رنگ میں رنگ دی گئی ہے تو خود اس طبقہ کے لئے موجودہ ’آپدا ‘ میں ایک ’اوسر‘ ہے۔یہ اسے ’مشکل ‘کے ساتھ ’آسانی‘ کے مسلمہ فطری اصول نے دیا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کی شکست وکامیابی کی فکرمندی اور اندیشوں سے خود کو آزاد رکھتے ہوئے یہ طبقہ ملک کے ذی ہوش اور سوجھ بوجھ کے مالک شہری کا کردار ادا کرے۔سیاست ہی نہیں سماج میں درآئی خامیوں کو دور کرنے اور صحت مند معاشرہ تشکیل دینے کی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ ملک میں قانون سے روگردانی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو اور لوگوں کو بتائے کہ انسانیت کی بھلائی وکامیابی، ملک کی تعمیر وترقی عدل وانصاف کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں ہے۔کہے کہ لاقانونیت سے نہ کبھی کسی کا بھلا ہوا ہے اورنہ آئندہ کبھی ہوگا، اس لئے ضروری ہے کہ ملک کا ہرشہری خواہ اس کی انتخابی سیاسی دلچسپی کچھ بھی ہو ملک کے تمام شہریوں کے تئیں مثبت کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دے۔(umairkoti@gmail.com)