حضرت سعد بن ابی وقاص اور فتح مدائن
فتح مدائن(پرشین امپائر کی فتح):
شاہ ایران یزدجرد اپنے اہل و عیال اور خزانوں کو لے کر مدائن سے نکل گیا تھا۔ تاہم قصر ابیض ( شاہی محل) اور دارالسلطنت میں مال و دولت کی کمی نہیں تھی۔ حضرت سعد قصر ابیض میں داخل ہوئے آٹھ رکعتیں صلوۃ الفتح کی پڑھیں۔ جہاں کسری کا تخت تھا وہاں منبر رکھا گیا ۔ اسی قصر میں جمعہ ادا کیا گیا۔ یہ پہلا جمعہ تھا جو دارالسلطنت ایران میں ادا کیا گیا۔ مال غنیمت میں شنہشاہ ایران کی بہت سی نادر روزگار چیزیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں۔ خاقان چین، قیصر روم ، بہرام گور، داہر شاہ ہند، نعمان بن منذر، کسری ہر مز فیروز کی تلواریں،خنجر یں دستیاب ہوئیں جو عجائب روز گار سمجھ کر شاہی خزانہ میں موجود تھیں۔ نوشیروان کا تاج ،سونے کا گھوڑا، جس پر چاندی کا زین، سینہ پر یا قوت و زمرد کا ہار، چاندنی کی اوٹنی جس پر سونے کا پالان ، مہار میں یا قوت اور سب سے عجیب ایک فرش جس کے بیچ میں سبزے کا چمن، ہر قسم کے درخت اور درختوں پر پھل پھول سب کے سب زرو جواہرات سے جڑے ہوئے ہونے کی زین، زمرد کا سبزہ پکھراج کی جدولیں ، سونے چاندی کی درخت حریر کے پتے ، جواہرات کے پھل اور ایسی ہی کئی نادر چیزیں ہاتھ آئیں۔ اہل فوج ایسے راستبارز و دیانت دار کہ جس نے جو چیز پائی جوں کی توں افسر کے پاس حاضر کر دی۔ جب سارا سامان حضرت عمرؓ کے سامنے سجایا گیا تو خود حضرت عمر کو فوج کی دیانت اور استغنا پر حیرت ہوئی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مالک کالاکھ شکر ادا کیا۔ درہم و دینار دیکھ کررونے لگے۔ لوگوں نے پوچھا کہ رونے کا کیا یہ وقت ہے؟ فرمایا کہ جہاں دولت کا قدم آتا ہے رشک و حسد بھی ساتھ آتا ہے۔ آپ کا ارشاد حرف بحرف آگے چل کر صحیح ثابت ہوا۔
حضرت سعد مدائن میں رہنے لگے ۔ اہل و عیال کو بھی بلوالیا۔ حضرت عمر فاروق نے نادرات کو مدینہ کے لوگوں میں تقسیم کروادیا۔ حضرت علیؓ کے حصہ میں اس فرش کا ایک معمولی ٹکڑا ملا جس کو آپ نے تیں ہزار دینار میں فروخت کر دیا۔ ایران کی جنگ فتح مدائن پرختم نہ ہوئی۔ یزدجرد نے پھر ایک لشکر جلولاء نامی مقام پر اکھٹا کیا۔ شہر کے گرد خندق کھدوائی حضرت فاروق اعظم کو جب یہ خبر ملی تو آپ نے ہاشم بن عتبہ کے تحت بارہ ہزار کی فوج روانہ کی۔ انہوں نے شہر کا محاصرہ شروع کر دیا یہاں بھی مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔ کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا۔ اس کے بعد حلوان فتح ہوا جہاں یزدجرد ٹہر ا ہوا تھا۔ وہ وہاں سے بھی بھاگا۔ حضرت سعد نے مال غنیمت حضرت زیاد کے ہاتھ مدینہ بھیج دیا۔ فاروق اعظم نے سارا مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ جنگ جلولاء ۱۶ ہجری میں واقع ہوئی۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ فوج بہت تھکی ہوئی ہے، اس کو آرام کرنے کا موقع دیا جائے۔یز دجرد حلوان سے بھاگ کر طولس جا پہنچا۔ وہاں کے فرماں روا سے مدد مانگی وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ آخر کار ذلت کی موت مرا۔ رسول اکرم سے خسرو کی گستاخی ایرانیوں کے لئے سخت سزا ثابت ہوئی۔
تاریخ اسلام میں قادسیہ کی جنگ ہی سب سے سخت قرار دی گئی۔ اس فتح کا سہرا حضرت سعد کے سر ہے۔ شدید علالت کے باوجود میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور گہری قیادت کا ثبوت دیتے رہے۔ سارا ملک ایران مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ یہ ایک عظیم تاریخی شہنشاہیت تھی۔ کفر و آتش پرستی کا ایک قلع قمع کر دیا گیا۔ توحید کا ڈنکا بجنے لگا۔ آتش خانے گل ہو گئے ۔ مسجدیں آباد ہونے لگیں۔ شاہ ایران کو راہ افرار اختیار کرنی پڑی۔ وہ اپنا دارالخلافہ سعد کے لئے خالی چھوڑ گیا۔ حضرت سعد نے شہر کوفہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ وہاں ایک مضبوط چھاؤنی قائم کی۔ سعد کو اس مقام کا پہلا حاکم مقرر کیا گیا۔ مگر حضرت سعد حضرت عمر فارق کی معیار سادگی قائم نہ کر سکے۔ آپ نے المدائن کے طاق خسرو کے نمونے پر کوفے میں ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا۔ فاروق اعظم خفا ہوئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایرانی عیش و عشرت کا خوف ناک اثر عربوں پر بھی پڑے۔ یہ سن کر آپ نے سعد کی بڑی زجرو تو بیخ کی۔ آپ نے اس سے پہلےحضرت خالد کو اسی قسم کی بے اعتدالی کی وجہ معزول کر دیا تھا۔ سعد کو بھی ان کے منصب سے برخواست کر دیا۔ اس کے علاوہ کوفے کے شورش پسند لوگ حضرت سعد پر جبر کا الزام بھی لگایا تھا جو غلط تھا۔ حضرت سعد کی جگہ حضرت عمار بن یاسر کو حاکم مقرر کیا۔ تاہم عمر فاروق نے حضرت سعد کی عظیم الشان فوجی اور انتظامی خدمات کا شایان شان اعتراف کیا۔ جب حضرت عمر بستر مرگ پر تھے تو آپ کے جانشین کے انتخاب کے لئے جن چھ اصحاب کبار کو منتخب کیا ان میں سے ایک حضرت سعد بھی تھے۔ فاروق اعظم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر حضرت سعد کو خلافت کے لئے چنانہ گیا تو انہیں کم از کم کسی صوبہ کا حاکم ضرور مقرر کر دیا جائے ۔ چنانچہ حضرت عثمان نے انہیں دوبارہ کوفے کی گورنری پر بحال کر دیا۔ لیکن اس عہدے پر تادیر انہیں رکھا نہ گیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت سعد سے درخواست کی گئی کہ وہ خلافت قبول فرمالیں۔ مگر آپ نے انکار کر دیا۔ وہ اب سکون کی زندگی بسر کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینے کے اقدام کی طرف بھی مائل نہ ہوئے جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلیفہ ہوئے تو حضرت سعد سیاسی و عسکری زندگی سے کنارہ کش ہو کر اپنی جاگیر واقع العتیق میں خانہ نشیں ہو گئے ۔ ستر برس کی عمر میں انہوں نے ۵۰ھ میں وفات پائی اور مدینہ المنورہ کے جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ حضرت سعد ایک جلیل القدر صحابی کے علاوہ شہرہ آفاق سپہ سالار بھی ثابت ہوئے۔
نشاں یہی ہے زمانہ میں زندہ قوموں کی کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
عالم اسلام کے جواہر پارے(جلد دوم)
“آج کا منبر صرف مسجد کا نہیں، یوٹیوب، فیس بک اور بلاگ بھی دعوت کے منبر بن چکے ہیں۔ کیا ہم تیار ہیں؟جو طلبہ کل کے امام ہوں گے، اگر آج ڈیجیٹل ہنر نہیں سیکھیں گے، تو کل امت کے سوالات کا جواب کون دے گا؟اسلام کو سمجھنے اور دنیا تک پہنچانے کے لیے آج کا سب سے مضبوط ہتھیار: صرف کتابی علم نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارت ضروری ہے!
تو ڈیجیٹل مہارت حاصل کرنے کیلئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں اور پائیں مکمل کمپیوٹر کورس۔
https://www.youtube.com/@TariqueForU
پہلی قسط
دوسری قسط