حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت
آخری قسط: خلافت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔
چھ مہینے ختم ہونے آئے۔ عمرو بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری میں گفتگو شروع ہوئی۔ دونوں نے اپنے اپنے موکلوں کے حق میں بہت کچھ کہا۔ آخر میں ابو موسیٰ اشعری نے کہا کہ معاویہ اور علی دونوں کو معزول کر کے عبداللہ بن عمر کو خلیفہ بنا دیا جائے۔ عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے۔ انہوں نے فوراً کہا کہ مجھ کو منظور نہیں ہے۔ عمرو بن العاص نے کہا کہ تم میرے بیٹے عبداللہ کو کیوں نامزد نہیں کرتے ۔ ابو موسیٰ اشعری نے کہا کہ وہ جنگ میں شریک ہو کر اپنا حق کھو بیٹھے ہیں۔ آخر میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ معاویہ اور علی دونوں کو خلافت سے الگ رکھا جائے اور مسلمانوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ کثرت رائے سے اپنا خلیفہ منتخب کر لیں ۔ عمرو بن العاص نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ ابھی چل کر جلسہ عام میں یہ اعلان کر دیں۔ یہ رائے بھی خطرہ سے خالی نہیں تھی۔ حضرت علی اپنی معزولی کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔ ادھر امیر معاویہ بھی خلافت کے خواب دیکھ رہے تھے۔ عمر بن العاص نے اشعری سے کہا تم اعلان کر دو۔ اشعری نے اعلان کیا وہ فیصلہ جس پر میں اور عمرو بن العاص دونوں متفق ہیں ، یہ ہے کہ اس وقت علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرتے ہیں اور تم لوگوں کو اختیار دیتے ہیں کہ تم اتفاق رائے سے جس کو چاہو خلیفہ منتخب کر لو۔
ابو موسیٰ منبر سے اترے۔ عمرو بن العاص منبر پر چڑھے اور کہا ” آپ لوگ گواہ رہیں کہ ابو موسیٰ نے اپنے دوست حضرت علی کو معزول کر دیا۔ میں ابھی اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علی کو معزول کرتا ہوں ۔ لیکن معاویہ کو میں معزول نہیں کرتا، بلکہ بحال رکھتا ہوں، کیونکہ وہ مظلوم شہید ہونے والے خلیفہ کے ولی اور ان کی قائم مقامی کے مستحق ہیں ۔ یہ عجیب معاملہ تھا۔ عمرو بن العاص نے گہری سیاسی چال چلی۔ ایمانداری کو خیر باد کہا۔ یہ ایک سخت دھوکا تھا۔ وعدہ خلافی تھی۔ ناموزوں سازش تھی۔ امیر معاویہ مصالحت نہیں چاہتے تھے۔ جنگ میں شکست سے بچنے حکمت علمی کو کام میں لایا۔ بد عہدی سے حضرت علی کا حق چھین لیا گیا ۔ تاریخ میں ایسے باب کا اضافہ کیا کہ جہاں سیاست ایک گندی چیز بن کر رہ گئی۔ ابو موسیٰ نے بہت چیخا، چلایا، حضرت علی کے حامی حضرت عبداللہ بن عباس نے ابو موسیٰ کی ملامت کی اور کہا کہ تم فریب کھا گئے۔ شریح بن مانی نے عمرو بن العاص پر تلوار کا وار کیا۔ وہ بیچ گئے۔ لوگ درمیان میں آگئے اور بات بڑھنے نہ دئے۔ شامی شاداں و فرحاں تھے۔ عراقی مایوس وہراساں تھے۔ حضرت علی کا عجیب حال تھا۔ خلافت ہاتھ سے جارہی تھی۔ لوگ نالاں تھے۔ جنگ میںفتح یقینی تھی صلح کی بات مان کر دھوکا ہوا حکمین کا فیصلہ کر دیا۔ تلور کے فیصلہ کی ترجیح دی۔ درمیان میں خوارج نے نیا گل کھلایا۔ خوارج نے عبد اللہ بن وہب کو اپنا امیر بنایا اور اس کے ہاتھوں پر بیعت کی۔ اپنے آپ کو اہل حق کہنے لگے۔ نہروان چلے گئے ۔ انہوں نے حضرت علی اور ان کے تابعین پر کفر کا فتوی لگایا اور حضرت علیؓ کے حامیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ خوراج کے خلاف جنگ ضروری ہوگئی۔ حضرت علی نے معاویہ کے خلاف چالیس ہزار کی فوج اکھٹا کر لی تھی۔ خوراج کو بھی دعوت دی کہ وہ بھی شامل ہو جائیں۔ انہوں نے گستاخانہ جواب دیا ۔ لکھا کہ اگر تم اپنے کافر ہونے کا اقرار کرنے کے بعد تو بہ کرو تو ہم تمہاری مدد کو تیار ہیں ورنہ ہم تم سے لڑنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے ایک مشہور صحابی عبداللہ بن حباب کو قتل بھی کر دیا ، اور ان کی بیوی اور ہمراہیوں کو بھی۔ تحقیق کے لئے حضرت علی نے حارث بن مروکو بھیجا۔ ان کو بھی قتل کر دیا۔ حضرت علی نے اعلان جنگ کر دیا۔ سب کو تہہ تیغ کر دیا۔ عبد اللہ بن وہب اور دیگر سب بڑے بڑے سرادار مارے گئے۔ یہ نہروان کی جنگ تھی۔
حضرت علی شام کی چڑھائی کی تیاری کر رہے تھے کہ مصر سے بری خبر آئی کہ محمد بن ابی بکر قتل کر دئے گئے اور عمرو بن العاص مصر پر قابض ہو گئے ۔ مصر حضرت علی کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ معاویہ نے اپنی حکمت عملی سے عوام کا دل موہ لیا۔ حضرت علی کی خلافت صرف ایران و عراق تک محدود رہی۔ اہل مکہ اور اہل یمن نے بھی امیر معاویہ کی بیعت کر لی۔ کوفہ و بصرہ میں بھی امیر معاویہ کے حامی موجود تھے۔ حضرت علی کی فوج میں عجمی زیادہ تھے اور امیر معاویہ کی فوج میں عرب لوگوں کی کثرت تھی۔ اس صورت حال میں خوارج نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا۔ نہروان کے بعد صرف نو اشخاص زندہ بچ گئے تھے۔ ان میں سے تین نے یہ فیصلہ کیا کہ عالم اسلام کی تین بڑی ہستیوں کو یعنی حضرت علی، امیر معاویہ اور عمرو بن العاص کو قتل کر دیں۔ عبد الرحمن بن ملجم کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ حضرت علی کو قتل کرے، برک بن عبداللہ کے ذمہ امیر معاویہ کو او عمرو بن بکر کے ذمہ عمرو بن العاص کو قتل کرنا طے پایا۔ ان تینوں نے قتل ایک ہی تاریخ اور ایک ہی وقت میں عمل میں لانے کا فیصلہ بھی کیا۔ ۶ رمضان ۴۰ کی تاریخ بھی مقرر کر لی۔ برک بن عبداللہ دمشق کی مسجد میں داخل ہو کر جبکہ امیر معاویہ فجر کی امامت کر رہے تھے تلوار کا ایک مار مارا اور سمجھا کہ وہ ختم ہو گئے ، وہ صرف زخمی ہوئے اور عبد اللہ گرفتار ہوا۔ مصر میں اسی تاریخ کو وقت مقررہ پر عمر بن بکر نے فجر کی امامت کرتے ہوئے خارجہ بن ابی حبیبہ کو عمرو بن العاص سمجھ کر ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ اس دن اتفاق سے عمرو بن العاص بیمار تھے۔ اسی روز کوفہ میںعبد الرحمن بن ملجم نے نماز فجر کے وقت حضرت علی پر حملہ کیا اور اس زخم کے صدمے سے ۷ رمضان المبارک ۴۰ کو حضرت علی شہید ہوئے۔ عبد الرحمن گرفتار کر لیا گیا۔
حضرت علی کی پانچ سالہ خلافت ہنگامہ خیز رہی ۔ ایک لمحہ سکون و راحت کا نہ گزرا۔ ساری مدت خانہ جنگی میں کٹی۔ مفسد و منافق لوگ آپ کے اعلیٰ ظرفی سے بے جا فائدہ اٹھاتے رہے۔ آپ میں امیر معاویہ کی حکمت عملی اور عیاری نہیں تھی۔ حضورﷺ کے داماد کی حیثیت سے خود کو خلافت کے زیادہ متحق سمجھتے تھے۔ فضا بہت بدل گئی تھی۔ دنیا طلبی، جاہ طلبی، نسلی و خاندانی فوقیت کا احساس بڑھ گیا تھا۔ قیادت و سیادت میں ایرانی و عجمی رنگ غالب آنے لگا تھا۔ عہد نبوی کے جلیل القدر صحابہ فوت ہو چکے تھے۔ جو مختصر جماعت بچ گئی تھی وہ منتشر ہوگئی تھی اور سیاست کے گندہ ماحول میں پھنسنے سے گریز کرتی تھی۔ بنوامیہ و بنو ہاشم کی رقابت پھر ابھر اٹھی تھی ۔ حضرت علی کی خلافت ایک درد بھری کہانی ہے۔ خلافت کی مدت کم تھی۔ مصائب کی شدت خوب تھی۔ مغالطوں کی کثرت تھی۔ امیر معاویہ، حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ، اور حضرت زبیر سب اس مغالطہ میں تھے کہ باغیوں کو قتل عثمان میں حضرت علی کی حمایت حاصل تھی۔ زہر کا بیج بونے والا منافق یہودی عبداللہ بن سبا تھا۔ اس کی طرف کسی کی توجہ مبذول نہ ہوئی۔
با سکندر خضر در ظلمات گفت
مرگ مشکل ، زندگی مشکل تر است
ماخوذ:عالم اسلام کے جواہر پارے (جلد دوم)