حضرت عمرؓ فاروق
آخری قسط:-
ملک فتح ہونے پر کسی کو حق نہیں تھا کہ وہ ایک انچ زمین کا بھی حقدار بنے۔ ساری زمین کاشتکاروں کو دے دی گئی۔ حضرت عمر کا خیال تھا کہ زر، زن، زمین فساد کے بیج ہیں، ان کو عربوں سے جتنا دور رکھا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ آپ نے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر دیا جو ایک انقلابی کارنامہ تھا۔ دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا حکمران نظر نہیں آتا جس کی قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں، کاندھے پر مشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی بھر آتا ہو، فرش خاک پر سوتا ہو، بازاروں میں پھرتا نظر آتا ہو، اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتا ہو، تزک واحتشام کے نام سے نا آشنا ہو، پھر بھی ایسا رعب کہ عرب و عجم لرز جائیں وہ : یہ وہ فاتح کسری تھا کہ جنگ قادسیہ کا حال سننے روزانہ مدینہ سے دور نکل جاتا تھا۔ ایک دن ایک شتر سوار تیزی سے آرہا تھا جو قاصد تھا۔ آپ اس کے برابر دوڑے جا رہے اور وہ جنگ کی خوشخبری سنارہا تھا۔ جب وہ دونوں شہر میں داخل ہوئے توسبھوں نے آپ کو امیر المومنین کے لقب سے پکارا اور پوچھا کہ کیوں دوڑے جارہے ہو۔ شتر سوار کانپ اٹھا۔ وہ نہ جانتا تھا کہ آپ ہی خلیفہ ہیں۔ آپ نے فرمایا کچھ ہرج نہیں تم سلسلہ کلام جاری رکھو، مجمع عام کو خوشخبری سنائی اور کہا کہ میں غلام کا غلام ہوں اور تم کو تعلیم دیتا ہوں، قول سے نہیں فعل سے۔ آپ کا عدل و انصاف ایسا تھا کہ خود اپنے فرزند پر حد جاری کی۔ آپ نے ضرورتمندوں کے لئے وقف کا شعبہ جو قائم کیا وہ آج بھی زندہ ہے۔
آپ کے جذبہ ایمانی، جمعیت اسلامی و درد انسانی کے کارناموں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ تن تنہا مدینے کی گلیوں میں پھرا کرتے۔ راتوں کو گشت لگاتے تاکہ کوئی مصیبت میں ہو تو اس کے کام آئیں۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی کے خیمہ سے رونے کی آواز آئی۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ اس کے بیوی دروزہ میں مبتلا ہے اور گھر پر کوئی عورت نہیں۔ دوڑے اپنے گھر پہنچے اور اپنی بیوی ام کلثوم کو ساتھ لائے۔ تھوڑی دیر بعد ام کلثوم نے پکارا امیر المومنین اپنے دوست کو مبارکباد دیجئے کہ لڑکا تولد ہوا۔ امیر المومنین کا لفظ سن کر اعرابی کانپ اٹھا۔ آپ نے فرمایا کچھ خیال نہ کرو۔ کل میرے پاس آجانا بچہ کا وظیفہ مقرر کر دوں گا۔ ایک دفعہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک شخص کا دایاں ہاتھ کٹ گیا ہے۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ وہ جنگ موتہ کا حادثہ تھا۔ آپ پر رقت طاری ہو گئی۔ روکر کہنے لگے کہ تم کو وضو کون کراتا ہوگا، کپڑے کون پہناتا ہوگا، پھر اس کے لئے ایک نوکر مقرر کر دیا۔ ایک مرتبہ ایک بڑھیا کہنے لگی کہ جب سے عمر خلیفہ ہوا ہے مجھے ایک پیسہ بھی نہ ملا۔ آپ نے فرمایا کہ عمر کو تمہارا حال کیا معلوم ؟ تم نے اس کو اطلاع کیوں نہ دی؟ کہنے لگی وہ امیر المومنین ہے۔ اس کو مشرق سے مغرب تک کا حال معلوم کرنا چاہئے۔ یہ سن کر وہ رونے لگے۔ بڑھیا کو جب معلوم ہوا کہ اس نے امیر المومنین کے منہ پر برا کہا ہے تو وہ گھبرا گئی۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ حرج نہیں۔
آپ نے پچیس اشرفیوں کے عوض بڑھیا سے تحریر میں ظلم کا ازالہ لکھوالیا۔ ایک مرتبہ آپ نےدیکھاکہ ایک شخص شراب پی رہا ہے،عورت بھی پاس بیٹھی ہے۔گانا بجانا بھی ہورہا ہے۔ آپ نے کہا اے دشمن دین کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ تیرے کرتوت اللہ سے پوشیدہ ہیں۔ اس نے کہا امیر المومنین جلدی نہ کیجئے۔ میں نے صرف ایک گناہ کیاہے، لیکن آپ سے تین گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ کسی کے عیب کا تجس نہ کرو، اور آپ نے کیا۔ دوم یہ کہ آپ میرے گھر میں دروازے سے نہیں بلکہ دیوار پھاند کر آئے ہو۔ سوم یہ کہ میری اجازت کے بغیر آئے ہو۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا اگر میں معاف کر دوں تو تجھ سے کوئی نیکی ظاہر ہو گی۔ اس نے توبہ کی اور کہا کہ پھر ایسا کبھی نہ کروں گا۔
ایک مرتبہ آپ نے سنا کہ ایک ماں اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہے کہ دودھ میں پانی ملا دو۔ بیٹی نے کہا امیر المومنین کا اعلان ہے کہ دودھ میں پانی نہ ملانا۔ ماں نے کہا امیر المومنین یہاں کہاں ہیں۔ بیٹی نے جواب دیا اللہ کی قسم ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ظاہر میں اطاعت، باطن میں مخالفت، یہ سن کر آپ خوش ہوئے اور اس لڑکی سے اپنے صاحبزادے عاصم کا نکاح کر دیا اور فرمایا کہ اس نکاح میں برکت ہوگی۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز اسی لڑکی کے نسل سے ہیں۔ ایک شب آپ نے دیکھا کہ ایک عورت کے گرد بچے بیٹھے رور ہے ہیں۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ بھوک کی وجہ دیچی میں پانی بھر دیا ہے اور بچوں کو بہلا رہی ہے کہ سو جائیں۔ آپ رو پڑے بیت المال گئے، ساری چیزیں لے آئے۔ خود روٹی تیار کی اور اپنے ہاتھوں سے بچوں کو کھلایا۔ مال غنیمت میں حصہ سب برابر رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ چادریں تقسیم ہوئیں۔ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ سلمان فارسی نے ٹو کا، سب کو ایک چادر ملی، آپکو کیسے دو چادر؟ آپ نے کہا ایک چادر سے میرا جسم ڈھک نہیں سکتا تھا، میں نے میرے بیٹے عبداللہ کی چادر بھی مانگ لی۔ ایک مرتبہ بحرین سے مشک آیا۔ آپ کی بی بی حضرت عاتکہ نے کہا کہ میں تول دوں؟ آپ نے کہا نہیں وہ تمہارے ہاتھ میں لگے گا، وہ تم اپنی گردن پرمل لوگی جس سے دوسروں سے زیادہ مشک تمہارے حصہ میں آجائے گا، آپ نے بیت المال سے جتنی رقم لی تھی اپنا باغ فروخت کر کے وہ رقم بیت المال میں جمع کرادی۔
غرض سینکڑوں واقعات شاہد ہیں کہ آپ سے بڑھ کر کسی نے عدل و انصاف، مساوات، غریبوں کی خبر گیری، طہارت اخلاق اور حسن معاشرت کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش نہیں کیا۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ حکومت الہیہ کے خواب کو سچا کر دکھانا ہے۔ اقامت دین کو استحکام بخشنا ہے۔ ایک صالح نظام حیات کا نقشہ پیش کرنا ہے۔ دعوت اسلام کو ممالک کے گوشہ گوشہ تک پہچانا ہے۔ تہذیب حجاز کے ڈھانچے میں اسلامی روح پھونکنا ہے۔ عجز بندگی، خوف خدا، اطاعت رسول و خدمت خلق کے جذبہ کو عام کرنا ہے۔ ضمیر انسانی میں لطافت بھرنا ہے جس سے دین اور دنیا دونوں سنور جائیں۔ شان اسلام کو سر بلند کرنا ہے۔
لہو کا قطرہ قطرہ وقف گلشن کردیا تو نے
جمال ذات سے پھولوں کا دامن بھر دیا تو نے
حوالہ: عالم اسلام کے جواہر پارے
قسط اول: https://guftar.in/حضرت-عمر-فاروق/
قسط دوم: https://guftar.in/حضرت-عمر-فاروق-2/