حضرت عمر فاروق

دوسری قسط:

رومیوں نے مسلمانوں کی مشغولیت کو غنیمت جان کر جنگ چھیڑ دی۔ حضرت عمر بہ ایک وقت دنیا کی دو بڑی طاقتوں سے نبرد آزما ہوئے۔ ایرانیوں نے پھر فوج جمع کی۔ ۱۵ھ میں قیامت خیز فیصلہ کن جنگ ہوئی جس کا نام جنگ قدسیہ ہے۔ حضرت سعد بن وقاص سپہ سالار اعظم تھے۔ اسلامی فوج تقریبا ساٹھ ہزار کی تھی۔ ایرانی لشکر کی کمان رستم کے ہاتھ تھی۔ یہ لڑائی مسلسل تین دن اور ایک رات جاری رہی۔ مسلمانوں نے شجاعت کا وہ جو ہر دکھایا کہ مغرور رستم کا سرکاٹ کر رکھ دیا۔ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ اس جنگ میں ایک لاکھ ایرانی مارے گئے۔ چھ ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ مال غنیمت خوب ہاتھ آیا۔ تاریخ اسلام میں یہی سب سے زبردست لڑائی تھی۔ سارا ملک ایران مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ آتش خانے گل ہو گئے۔ خسرو کی گستاخی خوب رنگ لائی۔ مال غنیمت میں نادرات زمانہ شامل تھے۔ نوشیرواں کے عہد کے نادرات پھر خاقان چین، قیصر روم، کسری، ہرمز، قباد، بہرام، اور دیگر صد ہا سال کے شہنشاہوں نے اکٹھا کیا ہوا خزانہ، ہیرے، جواہرات، نوشیروان کا تاج، سونے کا گھوڑا، اور سب سےعجیب ایک فرش جس کے بیچ میں ایک چمن اور چمن کے درخت سونے چاندی کے، پتے ہیرے کے، پھل جواہرات کے، زمین سونے کی، سبزہ زمرد کا اور جدولیں پکھراج کی، جب سارا سامان حضرت عمرکے سامنے سجایا گیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ رونے کا کیا وقت ہے؟ فرمایا کہ جہاں دولت کا قدم آیا، ساتھ ہی رشک و حسد بھی آیا۔ آپ کا ارشاد حرف بہ حرف صحیح نکلا۔

روم و شام بھی فتح ہو گئے۔ دو سال کے اندر بیت المقدس بھی مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ حضرت عمر خود بیت المقدس تشریف لے گئے۔ اس حالت میں کہ امیر المومنین اونٹ کا مہار پکڑے آگے آگے چل رہے ہیں اور سائبان اونٹ پر سوار ہے۔ یہ دیکھ کر لوگ حیران ہو گئے۔ دریافت پر معلوم ہوا کہ امیر المومنین اور سائبان میں یہ معاہدہ تھا کہ دونوں باری باری سے سوار ہوں گے۔ بیت المقدس پہنچے تو سائبان کی باری تھی۔ یہ دیکھ کر عیسائیوں اور یہودیوں کے حواس اڑ گئے۔ انہوں نے بیت المقدس کا دروازہ فوراً کھول دیا۔ آپ نے یہاں ایک دربار کیا۔ دنیا کی تاریخ میں کسی فاتح عالم کو وہ رتبہ نصیب نہ ہوا، جو حضرت عمرؓ کے حصہ میں آیا۔ مصر، اسکندریہ، حلب، ہواز، آذربائجان، خوزستان، خراسان، فلسطین، کوفہ، بحرین، عراق و شام اسلامی مملکت کا جزبن گئے۔ قسطنطنیہ کی فتوحات کا بھی آغاز ہوا جس کی تکمیل حضرت عثمان کے زمانے میں ہوئی۔ آج اقوام متحدہ میں ۵۶ اسلامی ممالک جو شریک ہیں۔ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جنہیں حضرت عمرؓ نے فتح کیا تھا۔

حضرت عمر کے دینی خدمات بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ شریعت کے استحکام میں جو کام آپ نے کیا وہی اسلامی فقہ عقیدہ، روایات و شعائر کا ڈھانچہ بن گیا۔ نماز تراویح کو رائج کیا۔ اذاں کا طریقہ جاری کیا۔ قرآن مجید کی ترتیب وجمع کا منصوبہ باندھا جو حضرت عثمان کے عہد میں تکمیل پایا۔ بیت المال کا اجرا کیا۔ ہجری کا آغاز کیا۔ سکہ کے موجد بھی حضرت عمرؓ تھے۔ علم فقہ کی اشاعت کی مفتوحہ ممالک میں معلم اور قاضی مقرر کئے۔ عدالتیں قائم ہوئیں۔ مسجد میں تعمیر ہوئی۔ مکہ اور مدینہ کے در میان سایہ کا انتظام کیا گیا۔ کنوئیں کھو دی گئیں۔ مسجد نبوی کی توسیع ہوئی۔ ایک خطبہ میں فرمایا کہ اے لوگو عورتوں کے مہر زیادہ نہ باندھو۔ ایک بڑھیا بول اٹھی۔ آپ کو ایسا کہنے کا کیا حق ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کہا اے شوہر و! اگر تم اپنی بیبیوں کو ڈھیر بھر مال دے دو تو پھر اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ یہ سنتے ہی آپ منبر سے نیچے اتر آئے اور کہا کہ سب لوگ عمر سے زیادہ علم رکھتے ہیں حتی کہ بڑھیا بھی۔

امور سلطنت میں کئی شہروں کی بنیاد ڈالی۔ شہر بصرہ اور کوفہ آپ ہی کے آباد کئے ہوئے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی بناڈالی۔ دستاویز میں مہینہ لکھا جاتا تھا۔ شہروں کے حاکم مقرر کئے۔ دریا پر عمال مقرر کیا۔ زکوة وصولی کا بندو بست کیا۔ شاعروں کو سخت تاکید کی کہ کسی کی ہجو نہ کریں۔ عمال کو تاکید کی کہ باریک کپڑا نہ پہنیں۔ چھانے ہوئے آٹے کی روٹیاں نہ کھائیں۔ اپنے مکان کا دروازہ بند نہ رکھیں۔ حاجت مندوں کے لئے وہ ہمیشہ کھلا رہے۔ بیماروں کی عیادت کو جائیں، جنازوں میں شرکت کریں۔ ترکی گھوڑے پر سواری نہ کریں۔ دروازے پر دربان نہ رکھیں۔ خالد بن ولید جیسے جرار سپہ سالار کو بے اعتدالیوں کی وجہ معزول کر دیا۔ یہ اس شخص کی معزولی تھی جس نے عراق و شام فتح کیا تھا۔ جب خالد مدینہ آئے تو ان سے کہا تم مجھے بہت محبوب ہو اور میں تمہاری عزت بھی کرتا ہوں،تمام عمالوں کو لکھا کہ خالد کو ناراضی یا خیانت کی بنا پر موقوف نہیں کیا گیا ہے بلکہ چند بے اعتدالیوں کی وجہ سے خالد فوج کا حساب ٹھیک نہیں رکھتے تھے۔ حساب کے کاغذات خلافت کو نہیں بھیجتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک شاعر کو دس ہزار دینار دے دئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ یہ انعام اگر اپنے صرف خاص سے دیا ہے تو اسراف ہے، اگر بیت المال سے دیا ہے تو خیانت ہے، دونوں صورتوں میں معزولی کے قابل ہے۔ پھر بھی اگر خطا کا اقرار کرو گے تو معافی کا امکان ہے۔ خالد خطا کے اقرار پر راضی نہ ہوئے۔ معزول کر دئے گئے۔ انہیں کے عمامہ میں ان کی گردن باندھ لی گئی۔ اسلامی ڈسپلن کا وہ عالم کہ سپہ سالار اعظم ذلیل کیا جا رہا ہے۔ اس کی ٹوپی اتار لی گئی ہے، مجرم کی طرح کھڑا کر دیا گیا ہے۔ وہ مطلق دم نہیں مارتا۔ اس واقعہ سے ایک طرف حضرت خالد کی حق پرستی و نیک نیتی اور دوسری طرف حضرت عمر کی شان و جلال کا منظر سامنے آتا ہے۔اصول پرستی ہو تو ایسی ہو، قانون کی اطاعت ہو تو ایسی ہو۔

ملک فتح ہونے پر کسی کو حق نہیں تھا کہ وہ……جاری……

اپنا تبصرہ بھیجیں