حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی(٣)
معاش اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی معاشی پہلو سے بھی نمایاں حیثیت رکھتی ہے، آپ نے کبھی بھی دنیاوی امور کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا، کمانے، محنت کرنے اور زندگی بہتر بنانے کی کاوشوں کو مذموم نہیں سمجھا بلکہ انہیں ممدوح جانا، ظاہر ہے کہ یہ قرآن مجید کے احکام کی تکمیل ہے، حلال کمائی کی فضیلت کو قرآن مجید نے اللہ کا فضل قرار دیا ہے، سورہ جمعہ میں ہے:فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَ اذْكُرُوا اللّٰہَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (جمعہ:١٠) “پھر جب نماز پوری ہوجائے تو اللہ کی زمین میں پھیل جاؤ ، اللہ کی روزی تلاش کرو اور اس کو کثرت سے یاد کرتے رہو ؛ تاکہ تم فلاح پاؤ” – – آپ غور کیجئے کہ نماز ادا کرنے کے بعد زمین میں پھیل جانے اور روزی تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اس میں اس بات کا بھی اشارہ موجود ہے کہ مسلمان کو کسب ِمعاش کی طرف توجہ دینی چاہئے ، جہاں عبادت کے اوقات میں عبادت کی جائے ، وہیں دوسرے اوقات میں روزی حاصل کرنے پر توجہ دی جائے ؛ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ حلال رزق حاصل کرنا فرض نماز کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے ۔ (کنز العمال : ۴؍۱۶ ، حدیث نمبر : ۹۲۳۱) بَس اتنا ضروری ہے کہ روزی تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ بھولے ، ذکر کا تعلق زبان سے بھی ہے ،دل سے بھی ہے اور عمل سے بھی ، زبان سے ذکر یہ ہے ہے کہ آدمی جہاں اور جس حال میں رہے ، اگر اس وقت اللہ کا نام لینا خلافِ ادب نہ ہو تو زبان کو اللہ کے نام سے تر رکھے ، دل سے ذکر یہ ہے کہ اللہ کی یاد دل میں بسی رہے اور عمل کے ذریعہ ذکر یہ ہے کہ جیسے نماز اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ادا کی ، اسی طرح کاروبار کو بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہی انجام دے ؛ چنانچہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ نے یہاں ’’ ذکر ‘‘ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت مراد لی ہے ۔ (دیکھئے:آسان تفسیر قرآن مجید)
اگر ایک شخص اس طریقے پر زندگی گزارتا ہے تو اس سے بہتر کوئی دوسرا مومن نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف حلال کمائی کی طرف رغبت دلائی بلکہ آپ نے خود تجارت کی، بازار کی گرم بازاری میں حصہ لیا، انہیں بیان کرنے کیلئے مستقل دفتر کی ضرورت ہے، آپ صرف اس سے اندازہ لگائیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو کس قدر دعائیں بھی سکھائی ہیں جن سے روزی روزی کا بہترین بندوبست ہو، بلاشبہ رزق اللہ تعالی کی جانب سے طے ہوتا ہے، اس لئے اسی سے مانگنا اور اسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا سزاوار یے، قرآن مجید نے اس جانب توجہ دلائی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ ۖ إِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ( العنكبوت :17)۔ تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کررہے ہو اور جھوٹی باتیں دل میں گڑھ لیتے ہو۔سنو !جن جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کررہے ہو وہ تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ کی دعاؤں میں ایک حصہ معاشی تنگی سے پناہ مانگنے پر مبنی ہے، چند دعائیں پیش کی جاتی ہیں.(جاری)
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
04/01/2024