حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی قسط(١)

تمہید
اقتصادی ترقی انسانی ترقی ہے، اور انسانی ترقی ہی ملکی وملی تعمیر کا پیش خیمہ ہے، اسلام انسانیت کی ترقی و تعمیر چاہتا ہے، اسے نئی نئی بلندیوں تک پہنچانا، اسے زمانے کے ساتھ نہیں بلکہ زمانے کی قیادت کرنے، پوری قوم و ملت اور انسانیت کو صراط مستقیم پر لگانے، ایک نئی دنیا بسانے اور نیا سماں بنانے کی ہدایت دیتا ہے، اسلام کوئی فرسودہ دین نہیں جو انسان کو غار و کھوہ میں رہنے اور اپنے آپ کو دیس دنیا سے کاٹ کر جینے کی ترغیب دے، اسلام رہبانیت کو پسند نہیں کرتا بلکہ ربانیت کا داعی ہے، مادی دنیا میں رہ کر اس سے یکسر بغاوت خسران کا باعث ہے، یہ کیسی عقل مندی ہے کہ کوئی آخرت کی کامیابی، رب کی رضا کا متمنی ہو تو وہ خود کو دنیا سے الگ کر لے، زید کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے، نہ جانے کہاں کی تعلیم پائی ہے کہ لوگوں نے زہد کو فقر و فاقہ اور کسمپرسی میں شامل کر لیا ہے، زہد، استغنی آسائش کی موجودگی میں رب کی رضا کیلئے خود کو الگ کر لینے کا نام ہے، مگر یہاں عالم یہ یے کہ جو لوگ دولت و ثروت سے لیس ہوجاتے ہیں اور وہ معمولی بھی دین کی حس رکھنے لگتے ہیں، چہرے پر داڑھی، ٹوپی اور شلوار قمیض استعمال کرنے لگتے ہیں؛ کہ لوگوں کو دولت سے دور بھاگنے، لعن و طعن کرنے لگتے ہیں، بلاشبہ دنیا کو دل میں بسا لینا، معدہ پرست ہوجانا، خود کو شکم کا پجاری بنا لینا جائز نہیں، ایک مومن کے یہ شایان شان بھی نہیں؛ لیکن وہیں یہ بھی اس کے لائق نہیں کہ وہ بھیک مانگتا پھرے، دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مومن کو غیر افضل قرار دیا، اور فرمایا: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ وَالْمَسْأَلَةَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى فَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ (صحيح بخاری:١٤٢٩) “ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ ( دوسری سند ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ان سے مالک نے ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔ “*
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے باب منعقدہ کے تحت ان احادیث کو لاکر یہ ثابت فرمایا کہ ہر مرد مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ صاحب دولت بن کر اور دولت میں سے اللہ کا حق زکوٰۃ ادا کرکے ایسا رہنے کی کوشش کرے کہ اس کا ہاتھ ہمیشہ اوپر کا ہاتھ رہے اور تازیست نیچے والا نہ بنے؛ یعنی دینے والا بن کر رہے نہ کہ لینے والا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا، وہ خود کفیل ہو، اپنی زندگی کو بہتر بنانے والا اور ساتھ دوسروں کو عنایت کرنے والا ہو، ایک مومن کی زندگی ایسی ہونی چاہئے کہ وہ دوسروں کیلئے معاشی اعتبار سے بھی رحمت کا باعث بنے، شکم سیری کا سبب ہو، حدیث میں اس بات کی بھی ترغیب ہے کہ احتیاج کے باوجود بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا چاہیے بلکہ صبرو استقلال سے کام لے کر اپنے توکل علی اللہ اور خود داری کو قائم رکھتے ہوئے اپنی قوت بازو کی محنت پر گزارہ کرنا چاہیے، ایک مرتبہ اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات کا عادی جائے، دوسروں سے اپنی ضروریات پوری کروانے لگے تو وہ سماج کیلئے ناسور بن جاتا ہے، آرام پسند، تن پسند اور راحت پسند ہوجاتا ہے، وہ محنت و کوشش اور عمل سے دور ہو کر قوم وملت کیلئے بوجھ ہوجاتا ہے، اب آپ دیکھئے کہ دین کا کیا مطالبہ ہے؟ جو دین انسانوں کو محنت کرنے، جہد مسلسل اور سعی پیہم کرنے کی ترغیب دے کیا یہ مناسب ہے کہ اس کے ماننے والے کمزور، فقیر، لاغر اور مسکین ہوں؟ ان کی معاشی زندگی دوسروں کی رہین منت ہو؟ وہ دوسری قوم کے سامنے ہاتھ پھیلائے؟ ہرگز نہیں، مگر افسوس کہ ایک عرصے سے یہ تصور دیا جارہا ہے کہ دولت و ثروت کیلئے کوششیں، بہتر زندگی کی کاوشیں غیر اسلامی ہے، اس سوچ کا سرا کہاں پہنچتا ہے؟ اس کی تعیین تو مشکل ہے؛ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے معاش و معیشت کی حقیقت سمجھیں، ان شاء اللہ آئندہ سطور میں سعی ہوگی کہ پہلے بحوالہ اجمالاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی صورتحال اور نقطہ نظر پیش کیا جائے اور پھر قدرے تفصیل کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تمام ذرائع معاش کو بیان کیا جائے.* واللہ الموفق المستعان

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

اپنا تبصرہ بھیجیں