حطین کی جنگ

دوسری قسط: فتح بیت المقدس

دوبارہ پھر جنگ چھڑ گئی ۔ حطین میں مقابلہ ہوا۔ یہ فیصلہ کن جنگ تھی۔ صلاح الدین کو فتح نصیب ہوئی۔ فلسطین اور یروشلم پر قبضہ ہو گیا۔ طبریہ کا فوجی قلعہ، الناصره السامرة ، صيدا، بیروت ( بترون ) عكا، رملہ ، غزہ اور حبرون سب فتح ہو گئے ۔ پھر صلاح الدین نے یروشلم پر چڑھائی کی ۔ اور ۱۱۸۷ء میں بیت اللحم ، بشنیہ اور کوہ زیتون پر قبضہ کر لیا۔ شہر کے مغرب کی طرف صلاح الدین نے خیمہ نصب کیا۔ سخت مقابلہ شروع ہوا۔ آخر میں کامیابی صلاح الدین کو ہی نصیب ہوئی ۔ حطین کی جنگ فیصلہ کن جنگ ثابت ہوئی۔ فلسطین کی مسیحی سلطنت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ مسیحی لشکر کے جوانمر دقید کر لئے گئے ۔ یروشلم کا حکمران، شاٹیلون، جنین کا بادشاہ ریجی نالڈ اور دیگر بڑے بڑے امراء گرفتار کر لئے گئے ۔ ساری مسیحی فوج اسیر بن گئی۔ اس جنگ میں تمیں ہزار آدمی مارے گئے ۔ ایک ایک مسلمان تمھیں تمھیں عیسائیوں کو خیمے نے یروشلم کے لائے گئے ۔ سلطان نے سیروس کی رسی میں باندھ کر لے جاتا دیکھا گیا۔ صلاح الدین کا یہ ایک عظیم کارنامہ تھا۔ سلطان کی عظمت جنگ میں جیت سے بڑھ کر جنگ کے بعد حمیت انسانی کے مظاہرے میں مضمر ہے۔ سلطان نے لڑائی کے میدان میں اپنا خیمہ نصب کرایا۔ شکست خوردہ بادشاہوں کو طلب فرمایا۔ وہ وشلم کے بادشاہ کو اپنے پہلو میں بٹھایا۔ اسے پیاسا دیکھ کر برف میں سرد کیا ہوا پانی پیش کیا۔ ایک صدی قبل عیسائیوں نے یروشلم پر قبضہ کرتے وقت جو مظالم مسلمانوں پر ڈھائے تھے ان کا انتقام لینے کے بجاے صلاح الدین نے اعلان کیا کہ چالیس دن کے اندر عیسائی شہر سے سلامتی کے ساتھ نکل سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ فی مرد دس دینار، فی عورت پانچ دینار اور فی بچہ ایک دینار تاوان جنگ ادا کر دیں۔ بہت سے شہریوں کو زرند یہ لئے بغیر چھوڑ دیا۔ دس ہزار افراد کا فدیہ خود سلطان نے ادا کیا۔ کئی ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا۔ لین پول (Lane Poole) سلطان کی عظمت اور عالی ظرفی کی تعریف کرتےہوئے لکھتا ہے کہ ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں آیا جس میں کسی عیسائی پر زیادتی کی گئی ہو۔

فتح بيت المقدس

حطین کی فتح کے بعد وہ مبارک موقع جلد آ گیا جس کی سلطان کو بے حد آرزو تھی ۔ جس کا خواب وہ ہمیشہ دیکھا کرتا تھا اور وہ جو اس کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا یعنی بیت المقدس کی فتح ۔ سلطان کو بیت المقدس کی ایسی فکر تھی اور اس کے دل پر ایسا بار تھا کہ پہاڑ اس کے متحمل نہیں تھے۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں