حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدہ
:یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا تین مراحل پر مشتمل معاہدہ
قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں بدھ کو رات گئے ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ یہ جنگ کے اختتام کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔‘
دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی ہے۔نائب وزیر اعظم کملا ہیرس اور وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ’غزہ میں لڑائی رک سکے گی، فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور یرغمالیوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ 15 ماہ کی قید کے بعد ملنے کا موقع ملے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے تک پہنچنا ’آسان نہیں تھا اور ان کے تجربے کے مطابق یہ سب سے مشکل مذاکرات میں سے ایک تھے۔وہ کہتے ہیں کہ ایران گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں خاصا کمزور ہے اور حزب اللہ بھی ’بری طرح کمزور ہو چکا ہے‘ جبکہ حماس نے بھی اپنے متعدد سینیئر رہنماؤں اور جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد اس معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم اب بھی بہت سے اہم نکات موجود ہیں جو اسے مستقل جنگ بندی کا معائدہ بننے سے روک سکتے ہیں۔ اس معاہدے کی تفصیلات کے حوالے سے تاحال باضابطہ طور پر اعلان ت نہیں کیا گیا ہے۔
امن معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟
امریکہ نے غزہ میں 15 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کے لیے کچھ وسیع شرائط وضع کی تھیں۔ اس کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے حکام قطر، مصر اور امریکہ کے ثالثوں کے ذریعے تفصیلات پر بات چیت کر رہے تھے۔معاہدے کا مسودہ تین مراحل پر مشتمل ہے جس کے بارے قطری وزیرِ اعظم کو امید ہے کہ یہ ’مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق مجوزہ امن منصوبے کا پہلا مرحلہ 42 دن یا 60 دن تک جاری رہنے والی جنگ بندی ہے۔ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ حماس معاہدے کے پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کر دے گی۔ اس کے بعد آئندہ ہفتوں میں مزید یرغمالیوں کی رہائی کا عمل روک دیا جائے گا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مسودے میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر 33 یرغمالیوں کو اسرائیل واپس بھیجا جائے گا۔
ان میں:
(1)بچے۔
(2)خواتین، بشمول خواتین فوجی۔
(3)50 سال سے زیادہ عمر کے مرد۔
(4)زخمی اور بیمار افراد۔
فیز ون: 42 روزہ جنگ بندی:
فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے پہلے روز حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تین افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔اسرائیل کا ماننا ہے کہ ان یرغمالیوں میں سے زیادہ تر زندہ ہیں لیکن حماس کی جانب سے ان کے بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان میں سے 94 غزہ میں موجود ہیں جن میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔ چار اسرائیلی ایسے بھی ہیں جنھیں جنگ سے پہلے اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے دو ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی سے متعلق تجویز کردہ مسودے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے 16ویں دن اسرائیل اور حماس امن منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مذاکرات شروع کریں گے۔ اس میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے باقی تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی شامل ہو گی۔اسرائیل شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے رہائشیوں کو علاقے کے جنوب سے واپس آنے کی اجازت دے گا، بشرطیکہ ہتھیاروں کی جانچ پڑتال کی جائے۔پیدل سفر کرنے والے افراد کو ساحلی روڈ کے ذریعے غزہ میں اپنے گھروں تک جانا ہو گا۔ جو لوگ گاڑیوں کے ذریعے سفر کریں گے انھیں صلاح الدین روڈ کے ذریعے وسطی غزہ میں داخلے کی اجازت ہو گی۔غزہ کی 23 لاکھ آبادی میں سے تقریباً تمام کو اسرائیلی انخلا کے احکامات، اسرائیلی حملوں اور جنگ کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پڑے ہیں۔

جنگ بندی کے آغاز کے چند روز بعد اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی سے مرحلہ وار انخلا کے حصے کے طور پر وسطی غزہ میں نیٹزاریم کوریڈور سے نکلنا شروع کر دیں گے۔تاہم اسرائیل مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد کے ساتھ فلاڈیلفیا کوریڈور میں کچھ فوجی رکھے گا۔مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ کو آہستہ آہستہ بیمار اور زخمی افراد کے علاج کے لیے علاقہ چھوڑنے کے لیے کھول دیا جائے گا اور مزید انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی۔
فیز ٹوFase-2: ۔۔۔
