حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ

دوسری قسط:
جنگ موتہ :
قبول اسلام کے بعد حضرت خالد نے عہد نبوت ، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں مختلف معرکوں میں لشکر اسلام کی قیادت کی اور شاندار جنگی کارنامے انجام دئے۔ جمادی الاول ۸ ہجری میں غزوہ موتہ میں آپ نے شرکت کی۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم بصری کے نام دو تبلیغی خطوط حارث بن عمیر کے ہاتھ دے کر بھیجے تھے۔ راستے میں سرحد شام کے قریب مقام موتہ تک حارث پہنچے تو وہاں قیصر روم کا صوبہ دار شرجیل غسانی نے حارث کو شہید کر دیا۔ جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرجیل کی سرکوبی کے لئے تین ہزار کا ایک لشکر روانہ کیا۔ اس کی سرداری زید بن حارث کو عطا کیا۔ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن طالب اور وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ گو سردار نامزد کیا۔ اگر یہ تینوں شہید ہو جائیں تو پھر جس کو لشکر پسند کرے اپنا سردار بنالیں۔ تین ہزار کے مقابلے میں شرجیل نے ایک لاکھ فوج لا کھڑا کر دی۔ اس جنگ میں زید بن حارث، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ تینوں شہید ہو گئے ۔ خالد بن ولید کی سرداری اسلامی لشکر نے قبول کر لی۔ خالد نے اس خوبی سے دشمنوں کے لشکر عظیم پر پے در پے حملے کئے کہ رومیوں کے چھکے چھوٹ گئے ۔ اس موقع پر پہلی بار حضرت خالد کی جنگی مہارت و صلاحیت اسلام کے کام آئی۔ انہوں نے وہ اعلی ترین جنگی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف گھرے ہوئے مسلمان مجاہدوں کو دشمنوں کے نرغے سے نکال لایا بلکہ رومیوں پر کاری ضرب لگا کر ان کے دلوں میں اسلام کی عسکریت و برتری کا رعب بھی ڈال دیا۔ خالد میدان جنگ میں بجلی کی طرح کوندتے رہے۔ تین ہزار غازیوں کو ایک لاکھ جرار لشکر سے لڑایا اور انہیں شکست فاش دی۔ اسلام کی یہ عظیم فتح تھی ۔ صرف بارہ صحابہ شہید ہوئے۔ حضرت خالد فرمایا کرتے تھے کہ غزوہ موتہ میں نو تلواریں میرے ہاتھ میں ٹوٹ گئیں۔ اور آخر میں ایک یمنی تلوار ہی باقی رہ گئی۔ اس جنگ میں یہ بات واضع ہو گئی کہ میدان جنگ میں تعداد نہیں قیادت اہم ہوتی ہے۔
دس رمضان ۹ ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر حضرت خالد عسا کر نبوت میں شامل تھے۔ میمنہ کی قیادت آپ کے سپر دتھی۔ فتح مکہ کے بعد پانچویں روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی نخلہ میں العزی نامی بت کو مسمار کرنے کے لئے خالد کو بھیجا۔ اس بت کا استھان ایک نخلستان میں تھا۔ خالد نے عزیٰ کو پاش پاش کر دیا اور اس کا مندر مسمار کر دیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر بنو جزیمہ کی تادیب کے لئے آگے بڑھے۔ ان کو قتال سے منع کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہاں حضرت خالد کو جنگ کرنی پڑی اور بنو جزیمہ کے چند آدمی قتل ہوئے۔ ان کا اسباب مال غنیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب لایا گیا تو آپ نے اس کو قبول نہیں فرمایا۔ حضرت علی کے ہاتھ سارا مال غنیمت جزیمہ کے پاس واپس بھیج دیا۔ غزوہ حنین اور غزوہ طائف کے موقع پر بھی آپ لشکر اسلام کے مقدمتہ الجیش کی قیادرت کر رہے تھے جو سو سو شہسواروں پر مشتمل تھا۔ ربیع الآخر 10ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اہل نجران کی جانب روانہ کیا۔ حضرت خالد نے انہیں اسلام کی دعوت دی جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔
عہد صدیقی میں خالد کا رول:
حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں حضرت خالد نے جو عظیم الشان خدمات انجام دیں وہ بلا شبہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ نے پہلے جزیرہ عرب کے سرکش مرتدین کے خلاف اور پھر روم و ایران کے مقابلے میں حیرت انگیز جنگی کارنامے انجام دئے ۔ مرتدین کے خلاف حضرت ابوبکر نے جو افواج روانہ فرمائی ان میں سے ایک فوج کی قیادت حضرت خالد کے سپرد تھی ، صدیق اکبر نے گیارہ علم تیار کئے اور گیارہ سردار منتخب فرما کر ایک ایک جھنڈا ہر ایک سردار کو دیا۔ پہلا علم خالد بن ولید کو دیا گیا اور حکم ہوا کہ اول طلحہ بن خویلد اسدی پر چڑھائی کرو۔ پھر مالک بن نویرہ پر حملہ آور ہو۔ طلحہ ایک کا ہن تھا۔ اسلام قبول کیا ۔ پھر مرتد ہو گیا، خود مدعی نبوت بن بیٹھا۔ حضرت خالد نے طلحہ پر حملہ کر دیا۔ طلحہ ایک چادر اوڑھے لوگوں کو دھوکہ دینے ایک طرف الگ وحی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ لڑائی خوب زور و شور سے جاری ہوئی ، عین لڑائی میں کسی نے طلحہ سے پوچھا وحی نازل ہوئی یا نہیں۔ اس نے جواب دیا ہاں جبریئل میرے پاس آیا تھا۔ وہ کہہ گیا ہے کہ تیرے لئے وہی ہوگا جو تیری قسمت میں لکھا ہے۔
یہ سن کر مرتدین ایک لخت بھاگ پڑے۔ طلحہ بھی وہاں سے بھاگا۔ تمام قبائل مسلمان ہو گئے۔ طلحہ بھی مسلمان ہو کر حضرت عمر فارووق کے عہد میں مدینہ آیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
طلحہ کی سرکوبی کے بعد خالد مالک بن حذیفہ کی طرف متوجہ ہوئے اور حملہ کر دیا۔ سخت مقابلہ ہوا۔ مرتدین سے میدان خالی ہو گیا۔ پھر خالد نے مالک بن نویرہ کو تنبیہ دینی چاہی۔ مالک بن نویرہ ایک جھوٹی نبیہ سجاح کے ساتھ مل کر سخت فتنہ کھڑا کر دیا تھا۔ جب مالک بن نویرہ گرفتار ہو کر آیا اور حضرت خالد بن ولید کے سامنے پیش کیا گیا تو بعض نے اس کو واجب القتل قرار دیا اور بعض نے کہا کہ اس کی بستی سے اذان کی آواز آتی تھی۔ اس لئے واجب القتل نہیں ہے۔ حضرت خالد نے جب تفتیش کی تو قطعی شہادت دستیاب نہ ہوئی۔ پھر جب مالک بن نویرہ کی حضرت خالد سے گفتگو ہوئی تو وہ بار بار یہ کہتا رہا کہ تمہارے صاحب نے ایسا فرمایا، تمہارے صاحب کا ایسا حکم ہے۔ وغیرہ تمہارے صاحب سے مراد رسول اکرم تھے۔ حضرت خالد نے غصہ سے فرمایا کہ کیا وہ تیرے صاحب نہ تھے۔ اس نے کوئی مناسب جواب نہ دیا۔ حضرت خالد کا اشارہ پاتے ہی حضرت ضرار نے اس کا سر اڑا دیا۔ یہ واقعہ بہت طول کھینچا، حضرت خالد کے خلاف الزام لگایا گیا کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔ حضرت ابو قتادہ بہت ناراض ہوئے اور مدینہ آکر حضرت عمر فاروق سے شکایت کی اور کہا کہ حضرت خالد کو معزول کر کے ان سے قصاص لینا چاہیئے ۔ یہ ناراضگی اور بھی اس لئے بڑھ گئی کہ حضرت خالد نے بعد میں مالک بن نویرہ کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ حضرت ابو بکر یہ سب سن کر حضرت ابوقتادہ کو مجرم قرار دیا کہ خالد کی بلا اجازت کیوں لشکر سے جدا ہو کر چلے آئے ۔ حضرت صدیق اکبر نے حضرت عمر فاروق سے کہا کہ خالد پر زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی غلطی کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ صدیق اکبر نے مالک بن نویرہ کا خون بہا بیت المال سے ادا کیا۔ مالک کا قتل حضرت خالد سے بدکلامی اور شان رسالت میں گستاخی کی وجہ سے ہوا۔ علاوہ ازیں وہ صدقہ کا مال لوٹ چکا تھا اور لوگوں کو ارتداد اور بغاوت پر اکساتا رہا تھا۔ پھر یہ حقیقت بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ حضرت ابو بکر صدیق جیسی عظیم ہستی نے انہیں بری الذمہ قرار دیا تھا اور خالد کی صرف اجتہادی غلطی قرار دیا تھا۔ تاہم اس واقعہ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قرون اولی میں صحابہ کرام اپنے دشمنوں کو قتل کرنے میں کس قدر محتاط تھے اور وہ کسی معمولی شخص کے لئے ایک جلیل القدر سپہ سالار کو بھی حق وانصاف قائم رکھنے کے واسطے قتل کر ناز یرقصاص لانا ضروری سمجھتے تھے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ حضرت خالد کو صفائی کے لئے مدینہ طلب کیا گیا تھا۔ بصد غور و خوض کے بعد انہیں بری الذمہ کیا گیا اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ کے لئے روانہ کیا گیا۔
فتح مکہ کے بعد مسیلمہ کذاب حضور پاک کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا تھا جب حضور کی ناسازی طبع کی خبر مشہور ہوئی تو وہ اپنے وطن یمامہ میں نبوت کا دعوی کرنے لگا۔ حضور گو اس نے لکھا کہ نبوت میں آپ اور میں دونوں شریک ہیں۔ لہذا نصف ملک قریش کا اور نصف میرا رہے گا۔ وفات نبوی کے بعد مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے حضرت خالد کو بھیجا گیا۔ مسیلمہ کے پاس چالیس ہزار کی فوج تھی۔ حضرت خالد کے پاس تیرہ ہزار کی فوج تھی۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ لشکر کذاب کے پاؤں اکھڑ گئے وہ فرار ہونے لگے ۔ مسیلمہ میدان جنگ میں مارا گیا۔ اس لڑائی میں دشمنوں کے سترہ ہزار اور مسلمانوں کے ایک ہزار آدمی مارے گئے۔ مسیلمہ کے قتل سے ایک خطر ناک فتنہ دبا دیا گیا۔ حضرت خالد کے ہاتھوں ایک داخلی خطرہ دور کر دیا گیا۔
ایران و روم سے جنگیں:
اسلام کی ابھرتی ہوئی نئ طاقت کو دو قسم کے بیرونی خطرات درپیش تھے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں