حضرت عمروبن العاص تاریخ، سیاست اور سیاسی تدبر خلافت ملوکیت میں کیسے تبدیل ہوئی خلافت اور ملوکیت

حضرت عمروبن العاص اور سیاسی تدبر

حضرت عمرو بن العاص:
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قو میں جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا؟
عمر و ابن العاص ان جلیل القدر صحابیوں میں سے ہیں جن کی شمشیر سے مملکت اسلامیہ میں توسیع ہوئی، جن کی تدبیر سے امت مسلمہ کے کئی پیچیدہ مسائل حل ہوئے۔ جن کی ملک گیری و انتظامی صلاحیت سے ممالک محروسہ میں استحکام آیا اور سب سے بڑھ کر جن کے ذہن کی رسائی سے تاریخ اسلام کا رخ مڑ گیا ۔ عمرو بن العاص عسکری عبقریت (Military genius) میں سبقت پانے کے علاوہ سیاسی شطرنج کے شاہ کار بھی تھے۔ انہیں کی شمشیر سے مصر فتح ہوا۔ اگر خالد بن ولید نے عراق و شام پر قبضہ جمایا۔ اگر سعد بن ابی وقاص نے کسریٰ کو زیر کر کے ایران فتح کیا تو عمر بن العاص نے قیصر کو نیچا دکھا کر براعظم آفریقہ کے وسیع خطہ پر اسلام کا پرچم لہرا دیا۔ یہی وہ تین عظیم سپہ سالار ہیں جن کی چمکتی تلوار سے جو اسلامی ریاستیں قائم ہوئیں وہ آج بھی باقی ہیں۔ یہ سارا خطہ قدیم تہذیبوں کا گہوارہ تھا۔ اگر ایران کے آتش کدے سعد نے گل کئے تھے۔ اور اگر بابل کے کھنڈرات پر خالد نے تہذیب دمشق و بغدادا کی بنیاد ڈالی تھی تو فرعون کے اہرام مصر کی سرزمین کو عمرو بن العاص نے اسلامی گل و گلزار کا منظر بنا دیا۔ ممالک کو فتح کرنے سے بڑھ کر انتہا ہی عمدگی سے عوام کے دلوں کو موہ لینا، قبول اسلام کی دعوت دینا حق و انصاف کو نافذ کرنا اور امن و آشتی کا قیام کرنا بہت اہم ہے۔ یہ کام بھی عمرو بن العاص نے کر دکھایا۔ سب سے اہم بات ان کے ذہن کی رسائی حکمت عملی و سیاسی تفکر ہے۔ یہ حضرت معاویہ کے مشیر خاص تھے۔ جب جنگ صفین میں حضرت علی کا پلہ بھاری نظر آرہا تھا۔ معاویہ شکست کے قریب تھے۔ تو عمرو بن العاص کی تدبیر نے ہوا کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے معاویہ کو صلاح دی کہ قرآن مجید کو نیزہ پر بلند کیا جائے اور للکارا جائے کہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں آپس میں لڑیں۔ آؤ کتاب اللہ کے حکم کے آگے دونوں فریق سرتسلیم خم کریں۔ اس میں جو ہدایت ملے اس پر عمل کریں۔ صحیفہ پاک کا ذکر آتے ہی کون مسلمان ہوگا جو مزید خون بہائے گا؟ حضرت علی مجبور ہوئے ۔ جنگ رک گئی۔ طے پایا دونوں حریف اپنا اپنا نمائندہ منتخب کریں اور ان کے فیصلہ پر دونوں متفق ہو جائیں۔ چنانچہ حضرت علیؓ کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری اور معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص منتخب ہوئے ۔ اذرج کے مقام پر جو فیصلہ ہوا اس سے تاریخ کا رخ بدل گیا ۔ اس رخ کو موڑنے میں عمرو بن العاص کا ذہن کارفرما تھا۔ انہوں نے ایسی سیاسی چال چلی کہ حضرت علی مات کھا گئے اور حضرت معاویہ جیت گئے ۔ یہ وہ تاریخی فیصلہ تھا جس سے خلافت ملوکیت میں بدل گئی، خلافت راشدہ ختم ہو گئی اور حکومت الہیہ کا خواب ادھورا رہ گیا۔ عمرو بن العاص کے فیصلہ سے جس قسم کی شخصی خلافت ظہور میں آئی وہ بہت سخت جان ثابت ہوئی۔ چودہ سو سال زندہ رہی۔ اس خلافت کے مسئلہ نے ہندوستان میں بھی ایک تہلکہ مچایا، عالم اسلام میں بھی اور تاریخ عالم میں بھی۔ آخر کار ترکی کے مصطفیٰ کمال پاشاہ نے اس خلافت کو ختم کر کے اسلامی تاریخ کے ایک اہم ادارے کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔ تاہم اس واقعہ سے یہ بات ظاہر ہے کہ عمرو بن العاص نے جو قدم اٹھایا، اچھایا بر اس کو ایسی استقامت نصیب ہوئی کہ وہ صدیوں عالم اسلام پر اثر انداز ہوتا رہا۔ ان کی ذہانت و فراست ایسی تھی جو زمان و مکان کو چیر کر عالم اسلام کی قسمتوں کا فیصلہ کرتی رہی۔ اسلام کے سپہ سالاروں میں بھی تدبر وتفکر کی وہ قوت تھی جو تاریخ کا رخ بدل دے۔
عمرو بن العاص نے کچھ دیر سے اسلام قبول کیا تھا۔ جب حضرت خالد بن ولید کے دل میں عظمت پیغمبر اسلام گھر کر گئی اور جب وہ اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ کے ساتھ تلاش حق کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ کی راہ پر چل پڑے تھے تو راستہ میں حضرت عمرو بن العاص سے ملاقات ہوئی ۔ وہ جبش سے واپس ہو رہے تھے جہاں انہوں نے نجاشی شاہ سے صداقت اسلام سے متاثر ہو کر اور یقین کر کے قبول اسلام کے لئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ارادہ ہوا کہ خود مدینہ چل کر حضور کے ہاتھ مشرف بہ اسلام ہوں ۔ چنانچہ یہ تینوں ایک ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہونے مدینہ منورہ پہنچے۔ رسول اکرم نے جب ان تینوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور صحابہ کرام سے کہا مکہ نے اپنے جگر گوشے تمہاری طرف پھینک دئے ہیں ۔ سب سے پہلے خالد نے آپ پر بیعت کی، پھر عمر و بن العاص و طلحہ نے۔ یہ واقعہ ماہ صفر ۸ ہجری کا ہے جو غزوہ موتہ سے دو ماہ قبل اور فتح مکہ سے چھ ماہ قبل ظہور میں آیا۔ خالد بن ولیدکا اور عمرو بن العاص کا قبول اسلام عروج اسلام کا مژدہ جانفزا تھا۔
عمرو بن العاص فاتح مصر ہیں۔ حضرت عثمان نمی کی خلافت کا زمانہ تھا۔ ۲۴ ہجری تھی جبکہ اسکندریہ فتح ہوا۔ فتح بیت المقدس کے بعد قیصر روم ایشائے کو چک اور شام سے بھاگ کر قسطنطنیہ چلا گیا تھا۔ اپنے بقیہ ممالک کی حفاظت کی تدبیروں میں لگا ہوا تھا۔ قیصر روم ملک شام سے جاتے ہی عمرو بن العاص نے مصر پر حملہ کر دیا۔ مصر کا بادشاہ منقوش تھا۔ مقابلہ کے بغیر جزیہ کی ادائیگی پر صلح کر کے مصرو اسکندریر یہ عمرو بن العاص کے سپرد کر دیا۔ ہر قتل مصر کو اپنا صوبہ سمجھتا تھا اور مقوقش اس کا ماتحت تھا۔ مصر پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کی خبر سن کر ہر قل پر یشان ہو گیا، اور اسی رنج میں سات مہینے کے بعد فوت ہوا۔ اس کی جگہ اس کا بیٹا قسطنطین تخت نشیں ہوا قسطنطین نے اسکندریہ کو دوبارہ فتح کرنے کی غرض سے ایک زبردست فوج بھیجی۔ رومی فوج جہازوں کے ذریعہ ساحل اسکندریہ پر اتری۔ اسکندریہ میں مقوقش نے رومیوں کو داخل ہونے سے روکا اور اپنے عہد پر جو وہ مسلمانوں سے کر چکا تھا قائم رہا۔
حضرت عمرو بن العاص کو جب رومیوں کے حملہ کی اطلاع ملی تو وہ قاہرہ سے نکلے۔ رومی فوج بھی مقابلہ کے لئے آئی ۔ سخت لڑائی ہوئی۔ رومی سردار مارا گیا اور بہت سے رومی میدان جنگ میں قتل ہوئے جو بچے رہے راہ افرار اختیار کئے اور اپنی کشتیوں میں سوار ہو کر قسطنطنیہ کی راہ لی۔ عمرو بن العاص نے رومیوں کو بھگا کر اسکندریہ اور اس کے قرب وجوار کے لوگوں کے نقصانات کی تحقیق کرائی جو رومیوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ ان تمام نقصانات کو عمرو بن العاص نے پورا کیا۔ کیونکہ وہ ذمیوں کو حفاظت کے ذمہ دار تھے۔ ان کے نقصانات کو دور کرنا آپ نے اپنا فرض سمجھا۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص نے اسکندریہ کی شہر پناہ کو منہدم کر دیا اور اپنی چھاؤنی قسطاط کو واپس چلے آئے ۔ اسکندریہ کی شہر پناہ کو منہدم کرنا اس لئے ضروری تھا کہ رومیوں کا دوبارہ حمہ آور ہونے اور اسکندریہ پر قبضہ جمانے کا اندیشہ دور ہو جائے ۔ یہ واقہ ۲۵ ہجری کا ہے۔
حضرت عثمان غنی نے اپنے رضائی بھائی عبداللہ بن سعد کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا اور حضرت عمرو بن العاص کو صرف فوجی افسر رکھا۔ اس حکم سے فوجی وملکی افسروں میں ناچاقی پیدا ہوئی۔ اس نا چاقی سے حضرت عثمان غنی مطلع ہو کر ۲۲ھ میں حضرت عمرو بن العاص کو قطعا معزول و برطرف کر دیا اور عبد اللہ بن سعد کو مصر و اسکندریہ کے فوجی و ملکی کامل اختیارات دیدئے ۔ عبداللہ بن سعد حضرت عمرو بن العاص کی طرح تجربہ کار نہیں تھے۔ ان میں وہ صلاحیت ، ذہانت و فراست نہیں تھی جو عمرو بن العاص میں تھی ۔ لہذا عبد الله بن سعد مصر میں ہر دلعزیزی حاصل نہیں کر سکے۔ حضرت عمرو بن العاص کے معزول ہونے سے اہل مصر سخت مایوس ہوئے ۔ وہ اپنے نئے حاکم عبداللہ بن سعد کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہو گئے ۔ قیصر قسطنطنین نے جب عمرو بن العاص کے معزول ہونے کی کیفیت کی تو اس نے ایک زبردست فوج تجربہ کار سردار کے تحت کشتیوں کے ذریعہ اسکندریہ بھیج دی۔ شہر کے رومی یعنے یونانی لوگ رومی فوج سے مل گئے ۔ رومی فوج اسکندریہ پر قابض ہوگئی۔ یہ سن کر حضرت عثمان غنی نے حضرت عمرو بن العاص کو دوبارہ مصر کا گورنر مقرر کر کے روانہ کیا۔ حضرت عمرو بن العاص نے رومیوں پر ایسا سخت حملہ کیا کہ رومی سخت نقصان برداشت کرنے کے بعد اسکندریہ چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ حضرت عمرو بن العاص نے تیسری مرتبہ اسکندریہ کو فتح کیا۔ فتح سے پہلے آپ نے قسم کھائی تھی کہ شہر کو ویران کر دوں گا۔ مگر فتح کے بعد آپ نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ لشکر کو قتل و غارت گری کی ممانعت کا حکم دیا۔ ایک مسجد تعمیر کی جس کا نام رحمت مشہور ہوا۔ اس مرتبہ عمر و بن العاص پورے ملک مصر پر قابض ہو گئے۔ ملکی انتظامات میں لگ گئے یہ کام جاری تھا کہ حضرت عثمان غنی نے حضرت عمرو بن العاص کو مصر کی حکومت سے دوسری مرتبہ معزول کر کے عبداللہ بن سعد کو پھر سے مصر کا گورنر مقرر کر دیا۔ اس مرتبہ حضرت عمرو کو اپنے معزول ہونے کا صدمہ ہوا۔ مصر کی حالت پھر بگڑنے لگی۔ عبداللہ خود سنبھال نہ سکے۔ عمرو بن العاص کو بلایا اور ملک مصر کو ان کے حوالے کر دیا۔
حضرت عبداللہ اپنی کمزوری کی تلافی و بدنامی دور کرنے کے لئے حضرت عثمان غنی سے اجازت چاہی کہ آفریقہ پر چڑھائی کا حکم دیں۔ یہ اجازت دی گئی اور آفریقہ کا شمالی حصہ فتح کر لیا گیا۔ اس سے پہلے عمرو بن العاص نے بھی آفریقہ کے کئی علاقے فتح کر چکے تھے۔
ذہانت و فراست:
حضرت عمرو بن العاص کی ذہانت و فراست سے دربار عثمانی کا پہلا پیچیدہ مقدمہ آسانی سے حل ہو گیا۔ جب حضرت عثمان غنی خلیفہ منتخب ہوئے تو سب سے پہلے آپ کی خدمت میں حضرت عبید اللہ بن عمر کا مقدمہ پیش ہوا حضرت عبید اللہ سے جب ہرمزان کے قتل کی نسبت دریافت کیا گیا تو انہوں نے اقرار کیا۔ حضرت عبید اللہ حضرت عمر فاروق کے صاحبزادے تھے۔ حضرت عمر فاروق کا انتقال ہوئے چند دن بھی نہیں گزرے تھے اور دربار عثمانی کا یہ پہلا مقدمہ تھا۔ مسئلہ نازک تھا۔ حضرت عثمان غنی نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا کہ عبیداللہ عمر کا ر مزران کے قصاص میں قتل کر دینا چاہئے۔ لیکن حضرت عمرو بن العاص نے حضرت علی کی اس رائے سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ کسی طرح مناسب نہیں۔ ابھی کل پرسوں کی بات ہے کہ باپ مارا گیا ہے۔ آج اس کے بیٹے کو قتل کرتے ہو۔ اور لوگوں نے بھی عمرو بن العاص کی رائے کی تائید کی۔ حضرت عثمان شش و پنج میں پڑ گئے لیکن پھر فورا ہی انہوں نے فرمایا کہ یہ معاملہ فاروق اعظم کے عہد خلافت کا ہے میری خلافت کا نہیں، کیونکہ میرے خلیفہ ہونے سے پہلے یہ واقع ظہور میں آچکا تھا۔ لہذا میں اس کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا اس کے بعد حضرت عثمان نے خود عبید اللہ بن عمر کا ولی بن کر اپنے پاس سے ہرمزان کے قتل کی دیت ادا کر دی۔ حضرت عبید اللہ قصاص سے بچ گئے یہ عمرو بن العاص کی فراست کا تحفہ تھا۔
مگر ذہانت کی انتہا اس واقعہ سے عیاں ہے جو جنگ صفین اور اذرج کے مقام سے منسلک ہے جس کا ہلکا سا تذہ کرہ اوپر آچکا ہے۔ جنگ کا رخ دیکھ کر عمر و بن العاص نے معاویہ سے کہا کہ حکم دو لوگوں کو کہ فورا نیزوں پر قرآن مجید کو بلند کریں اور نعرہ لگائیں کہ ہمارے تمہارے درمیان خدائے تعالے کی قرآن مجید ہے۔ چنانچہ فورا یہ حکم دیدیا گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت علی کی فوج نے لڑائی سے ہاتھ کھینچ لی۔ امیر معاویہ کے پاس وفد بھیجا کہ نیزوں پر قرآن مجید بلند کرنے کا مطلب کیا ہے معلوم ہو۔ معاویہ نے کہا ہم دونوں خدا اور اس کے رسول کی طرف رجوع کریں گے ۔ ہر فریق اپنا ایک نائب منتخب کرے گا ان سے حلف لیا جائے گا کہ وہ قرآن مجید کے موافق فیصلہ کریں کہ خلیفہ کون ہو۔ اس کے فیصلہ پر ہم دونوں راضی ہو جائیں گے۔ یہ تدبیر عمرو بن العاص نے سوچی تھی۔ حضرت علی کی طرف سے ابو موسی اشعری منتخب ہوئے اور حضرت معاویہ کی طرف سے عمرو بن العاص ۔ ایک اقرار نامہ بھی تحریری لے لیا گیا۔ اس فیصلہ کے چھ مہینوں کے اندر مکمل فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ جنگ ختم ہوگئی۔ حضرت علی کوفہ روانہ ہوئے اور حضرت معاویہ دمشق چلے گئے۔
چھ مہینے ختم ہونے کے تھے کہ ابو موسیٰ اور عمرو بن العاص اذرج کے مقام پر جمع ہوئے ۔ دونوں نے اپنے اپنے دوست کی حمایت میں وکالت کی۔ معاویہ قریش کے ایک نامور اور شریف خاندان کے چشم و چراغ ، کاتب وحی، ام المومنین حضرت حبیبہ کے بھائی، تجربہ کار مد بر وغیرہ اور حضرت علی محضور کے داماد، علم شجاعت، تقوئی اور دیگر صفات میں حضرت معاویہ سے بہت آگے وغیرہ۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ میری تو یہ رائے ہے کہ معاویہ اور علی دونوں کو معزول کر کے عبداللہ بن عمر کو خلیفہ بنا دیا جائے۔ عبداللہ بن عمر وہاں موجود تھے انہوں نے فورا کہا مجھے منظور نہیں ہے۔ اس بات پر دونوں کا اتفاق ہوا کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کو خلافت سے الگ رکھا جائے اور مسلمانوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ کثرت رائے سے کسی کو اپنا خلیفہ منتخب کر لیں ۔ عمرو بن العاص نے اس تجویز کو پسند کر لیا اور کہا کہ ابھی یہ فیصلہ جلسہ عام میں اعلان کر دیا جائے ۔ عمرو بن العاص نے ابو موسیٰ اشعری سے کہا کہ آپ اعلان کر دیں۔ آپ نے اعلان کر دیا وہ فیصلہ جس پر میں اور عمرو بن العاص دونوں متفق ہیں یہ ہے کہ اس وقت علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرتے ہیں اور تم لوگوں کو اختیار دیتے ہیں کہ تم اتفاق رائے سے جس کو چاہو خلیفہ منتخب کر لو ۔ ابو موسیٰ منبر سے اترے، عمرو بن العاص منبر پر چڑھے اور کہا ” آپ لوگ گواہ رہیں کہ ابو موسیٰ نے ابھی اپنے دوست حضرت علی کو معزول کر دیا ہے۔ میں بھی اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علی کو معزول کرتا ہوں۔ لیکن معاویہ کو میں معزول نہیں کرتا، بلکہ بحال رکھتا ہوں ۔ کیونکہ وہ مظلوم شہید ہونے والے خلیفہ کے ولی اور ان کی قائم مقامی کے مستحق ہیں۔
عمرو بن العاص نے گہری سیاسی چال چلی۔ اس میں ایمانداری و دیانت داری کا نام نہ تھا۔ یہ ایک لحاظ سے دھو کہ تھا ہمکر و فریب کا شاہکار تھا۔ پہلے دونوں نے اقرار کیا تھا کہ دونوں فریق کو الگ رکھا جائے گا۔ گا ۔ اب ایک کو علیحدہ اور دوسرے کو بحال کیا جا رہا ہے۔ اب ایک کونا موزوں اور دوسرے کو موزوں کہنا بد عہدی تھی۔ عمرو بن العاص نے دو بڑے کام کئے جو معاویہ کے حق میں مفید نکلے۔ پہلا یہ کہ جب جنگ حضرت علیؓی جیت رہے تھے اس وقت جنگ کو روک دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ جس وقت فیصلہ حضرت معاویہ کے خلاف بھی تھا تو اس کو نیا رنگ دے کر موافق بنا دیا۔ یہ ذہانت کا کرشمہ تھا۔
یہ فیصلہ حضرت علی کے حق میں بجلی کی کڑک تھی ۔ ابو موسیٰ نے بہت چیخا، چلا یا ملامت کی شریح بن مانی نے عمرو بن العاص پر تلوار کا وار کیا۔ آپ نے خود کو بچا کر شریح پر جوابی وار کیا۔ لوگ درمیان میں آگئے۔ بات آگے بڑھنے نہ دئے ۔ حضرت علی کا عجیب حال تھا۔ خلافت ہاتھ سے جاری تھی۔ لوگ نالاں تھے۔ جنگ میں فتح یقینی تھی۔ صلح کی بات مان کر دھو کہ کھائے ، ابو موسیٰ کو وکالت دے کر مزید خسارے میں رہے، اس بات کی تصدیق ہوئی۔
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے ہوئے تم دوست جس کے دشمن آسمان اس کا کیوں ہو؟
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عمرو بن العاص وہ عظیم ہستی تھی کہ ان کی سوچ کے خلاف سیف ذو الفقار بھی کارگر نہ ہو سکی۔ معاویہ کے لئے شکست کے منہ سے بال بال بچ نکلنا کمال آفرین کام تھا۔ یہ کرشمہ عمرو بن العاص نے کر دکھایا۔ معاویہ کا خلافت سے ہاتھ دھونے کے قریب پہنچ کر پھر مسند خلافت پر جلوہ افروز ہونا مردہ کو زندہ کرنے کے مترادف تھا۔ یہ اعجاز عمر و بن العاص کی ذہانت سے ظہور میں آیا ۔ مصر کی گورنری کھو کھو کر پانا عمرو بن العاص کی صلاحیت و قابلیت کا علی الاعلان اعتراف تھا۔ بڑا آدمی وہ ہے جو طوفان کے تھیڑوں میں کشتی کو ساحل پر لگا دے۔ عمرو بن العاص صحیح معنوں میں بڑے آدمی تھے۔ عسکری مہارت میں ملک گیری میں، بالغ نظری و دور اندیشی میں سیاسی ذہانت و فراست میں عمرو بن العاص رستم زماں نکلے۔ یہ بات کہ انہوں نے حضرت معاویہ کا ساتھ دے کر خلافت راشدہ کا خاتمہ کر دیا اور لوکی کا بیج بویا، یہ کہاں تک صیح قدم تھا، اس کا جواب صرف یہ ہے کہ مشیت ایزدی میں چوں و چرا کی گنجائش نہیں ۔ عمرو بن العاص کا کام صرف یہ تھا کہ جہاں کہیں اور جب کہیں جو کام ان کے سپر د کیا جاتا تھا اس کو بخوبی انجام دیں ۔ یہ کام انہوں نے احسن طریقہ سے کر دکھایا۔
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قو میں جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا؟

عالم اسلام کے جواہر پارے(جلد دوم)

“آج کا منبر صرف مسجد کا نہیں، یوٹیوب، فیس بک اور بلاگ بھی دعوت کے منبر بن چکے ہیں۔ کیا ہم تیار ہیں؟جو طلبہ کل کے امام ہوں گے، اگر آج ڈیجیٹل ہنر نہیں سیکھیں گے، تو کل امت کے سوالات کا جواب کون دے گا؟اسلام کو سمجھنے اور دنیا تک پہنچانے کے لیے آج کا سب سے مضبوط ہتھیار: صرف کتابی علم نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارت ضروری ہے!
تو ڈیجیٹل مہارت حاصل کرنے کیلئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں اور پائیں مکمل کمپیوٹر کورس۔
https://www.youtube.com/@TariqueForU

اپنا تبصرہ بھیجیں