خود کوپہچانو تو سب اب بھی سنور سکتاہے

اگرپوری دنیاپر نظر ڈالی جائے تو واضح طور پر سمجھ میں آتاہے کہ اس وقت کسی بھی حکومت کیلئے اپنی نظریہ اور پروپیگینڈا کو عوام پر تھوپنے کیلئے جس طاقت کو استعمال میں لایاجارہاہے وہ ہے موجودہ زمانے کا سب سے طاقتور ہتھیار میڈیا۔ چاہے وہ پرنٹ میڈیاہویاالیکٹرانک میڈیایا سوشل میڈیا۔اس وقت میڈیا دنیا کا سب سے طاقتور ہتھیارہے۔ پچھلے کچھ دہائیوں سے یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ جس کے قبضہ میں میڈیاہے وہی فاتح زمانہ اور غالب ہے۔ چاہے سیاسی اعتبارسے ہو،معاشی اعتبار سے ہویا معاشرتی اعتبارسے۔
پوری دنیا میں مسلمان اور اسلام کے خلاف ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت اسی میڈیائی ہتھیارکااستعمال کرکے نفرت پھیلائی جارہی ہے اور جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت لوگوں کے ذہن ودماغ کو زہر آلود کیاجارہاہے ۔اور مسلمانوںکے پاس اس کیلئے کوئی دفاعی ہتھیار نہیں سوائے اس کے کہ آپسی اختلافات میں الجھے رہیں ۔اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو ابدی ہے جس میں کوئی تبدیلی ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے ۔یقینا دعویٰ تو صدفیصد سچ ہے ۔لیکن اس ابدی کتاب میں ہر زمانے اور ہر نازک حالات کیلئے کیارہنمائی کی گئی ہے ،بدلتے ہوئے عالمی حالات اور زمانے کے پیش نظر کبھی اس پہ غورکیاہے؟بس صرف شکوہ کرتے رہیںکہ ہمارے پاس تو ایساکوئی دفاعی ہتھیارنہیںہے۔ میڈیاتو انکا ہے ،بکاہواہے ،ہم کیاکرسکتے ہیں ۔ اور بس یہی سوچ کراپنی ذمہ داری سے سکبدوش ہوجاتے ہیں۔
علماء قدیم نے میڈیا کے استعمال کو ہی حرام قراردیاتھا۔ لیکن کبھی سورۃالانفال کے اس آیت{واعدو الھم مااستطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللہ و عدوکم} پر غورکیا؟قرآن ہمیں کس چیز کی طرف رہنمائی کررہاہے؟ جبکہ ہر کوئی اس بات کو ماننے پر مجبور ہے کہ میڈیا اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔لیکن جب ہم حالات کے پیش نظر اس آیت پر غورکرتے ہیں تو واضح طور پر سمجھ میں آتاہے کہ قرآن ہمیں اس طاقت کی تیاری کی طرف اشارہ کررہاہے جس کے ذریعہ سے ہم اپنے دشمنوں کومات دے سکیں۔لفظ’’قوۃ‘‘میں ہر وہ طاقت یاآلاء کار شامل ہوجاتاہے جواس وقت کے ہتھیارکا دفاع کرسکے اور اس آلاء کار کیلئے جس تعلیم کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے سب اس کے اندر شامل ہے۔میری ناقص رائے کے مطابق لفظ’’خیل‘‘ (گھوڑا)کا استعمال اس زمانے کے طاقتور ہتھیار کے اعتبارسے کیاگیاہے کیونکہ گھوڑا اس زمانے میں کسی بھی جنگ کو فتح کرنے کیلئے سب سے طاقتور ہتھیار سمجھاجاتاتھا۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ ہر زمانے میں اس کاوہی معنی مراد لیا جائے ۔پھر قرآن کاابدی ہونے کاکیامطلب ؟ہرزمانے میں میں طاقتور ہتھیاربدلتی رہتی ہے اور بدلتی رہے گی۔اسی اعتبار سے لفظ’’ خیل ــ‘‘ کی تشریح بھی بدلنی پڑیگی۔کیونکہ یہ کوئی حکمت کی بات نہیں کہ دشمن ہمارے اوپر توپ وبارود اور میزائل سے حملہ کرے اور ہم نیزہ اور تلوار لیکرمقابلہ کیلئے میدان میں اتریں جب کہ یہ معلوم ہو کہ یہ مقابلہ کیلئے یہ آلاء کار ناکافی ہے۔ حکمت تو یہ ہے کہ د شمن جس ہتھیار سے لیس ہوکر صف آراہے اسی ہتھیار سے ان کامقابلہ کیاجائے ورنہ یہ مقابلہ نہیں خودکشی کے مترادف ہوگا۔

اسی طریقے سے جبکہ دہائیوں سے پوری دنیا میڈیا کاسہارالیکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کمر بستہ تھی اور مسلم رہنماء میڈیاکے استعمال پر پابندی عائد کرنے میں لگے تھے ۔میڈیاکے استعمال پر جائز وناجائز کے فتوے میں الجھے ہوئے تھے۔ اگر حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چند دہائی پہلے ہی اس میڈیائی طاقت سے متنبہ ہوکر قوم کو اس سے آگاہ کئے ہوتے اورحالات کے پیش نظر اس کے استعمال کی صحیح رہنمائی کئے ہوتے تو آج یہ نوبت نہ آتی ۔ابھی بہت کچھ نہیں بدلاہے اب بھی وقت ہے مسلمان خود اپنا دفاعی ہتھیار سے لیس ہوکر میدان میں اترے ۔ تاکہ اس آیت کے مطابق اپنے اور اللہ کے دشمنوں کے دلوں میں خوف پید اکرسکے۔ورنہ آنے والے کچھ سالوں میں بہت برانتیجہ برآمد ہونے والاہے۔ ہندوستان میں میڈیا نے چندسالوں میں جو کردار اداکیاہے اس سے ہر شخص آشنا ہے۔پھر بھی اس کے مقابلے کیلئے اس جیسے آلاء کار کا نہ اختیارکرنا کیااس آیت کریمہ کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

طارق انور ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں