سائبر کرائم اور ڈیپ فیک

یہ مسئلہ ترقی کے عروج پر پہنچنے کے دعویدار دنیا کیلئے ایک نئے چیلنج کے طور پر ابھرکر سامنے آیا

عمیر کوٹی ندوی

ڈیپ فیک کےبڑھتے ہوئے معالات کے درمیان حکومت نے ایڈوائزری جاری کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کوکچھ ہدایات دی ہیں۔تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو آئی ٹی قوانین پر عمل کرنے کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ ایسے مواد کی جس کی آئی ٹی قوانین کے تحت اجازت نہیں ہے اس کے بارے میں صارفین کو واضح طور پر مطلع کیا جانا چاہیے۔ایڈوائزری میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ’ ڈیجیٹل ثالثوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ صارفین کو تعزیری دفعات بشمول آئی پی سی اور آئی ٹی ایکٹ۲۰۰۰ کے بارے میں آگاہ کیا جائے…… سروس کی شرائط اور صارف کے معاہدوں میں واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ ثالث یا پلیٹ فارم متعلقہ ہندوستانی قوانین کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانونی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کے پابند ہیں………آئی ٹی قوانین کے ڈیو ڈیلیجنس سیکشن کے رول۳(۱)(بی) کے تحت ان پلیٹ فارمز کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے قواعد، ضوابط، رازداری کی پالیسی اور صارف کے معاہدے کو صارف کی مطلوبہ زبان میں بیان کریں‘۔

سائبر جرائم کا ہی ایک حصہ ڈیپ فیک ہے ۔ دولت، سرمایہ داری، طاقت، اختیار، اقتدار اور شہرت کی نا ختم ہونے والی خواہش کے درمیان سے ترقی کے عروج پر پہنچنے کی دعویدار دنیا کے لئے ایک نئے چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آنے والی یہ آفت نہ جانے کتنوں کو اپنا نشانہ بناچکی ہے۔فرد، خاندان، جماعت، ادارے، حکومت سے بھی آگے بڑھ کر بین ممالک اور بین الاقوامی اداروں میں بھی اس کی دراندازی اورنقب زنی کی خبریں آئے دن میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔سیاست کی باہمی رسہ کشی میں بھی اس کے تماشے لوگ دیکھتے ہیں اور دانتوں تلے اپنی انگلیاں دبا لیتے ہیں۔ سیاسی صورتحال تو یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنا ایک میڈیا سیل بنا رکھا ہے اوروہ راتوں دن کیا کرتا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔تصاویر سے چھیڑچھاڑ، آوازوں میں تصرف،ویڈیو کی کٹنگ پسٹنگ جسے عرف عام میں ڈاکٹرڈ ویڈیو کے نام سے جانا جاتا ہے یہ سب کس بات کا اظہار ہے۔معروف صحافیوں کے خبریں پیش کرتے ہوئے ویڈیوز اور آوازوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے انہیں ادویات فروخت کرتے ہوئے دیکھایا جارہا ہے اور سوشل میڈیا میں اس وقت اس طرح کے ویڈیوز کی بھرمار ہے لیکن سیاست اس پر خاموش ہے اور اس کی خاموشی کی وجہ بھی آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔

سائبر جرائم سے عام لوگ پریشانی محسوس کر رہے ہیں اور اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس لئے کہ زیادہ تر اس کے شکاربھی وہی ہو رہے ہیں، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ جو انٹرنیٹ کا استعمال کرتےہوئےآن لائن سہولیات سے فائدہ اٹھاتا ہے اور سوشل میڈیا سے جڑا ہے۔سائبر جرائم کے بڑھتے واقعات اور اس کی تباہ کاریوں کے درمیان ریزروبینک آف انڈیا(آربی آئی) بھی لوگوں کو آگاہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اس وقت تو تقریبا روزآنہ کی بنیاد پراور متعدد مرتبہ دن میں کئی بار اس کی طرف سے موبائل پر پیغامات ارسال کرکے لوگوں کو خبردار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آربی آئی نے اس سے متعلق اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’غیر مجاز فاریکس ٹریڈنگ پلیٹ فارم پر لین دین نہ کریں‘۔اسی طرح اس نے اپنے ایک دوسرے پیغام میں کہا کہ’ بینک سے کسی بھی قسم کی رعایت حاصل کرنے میں مدد کا وعدہ کرنے والے پیغامات سے ہوشیار رہیں، کیونکہ وہ دھوکہ دہی پر مبنی ہو سکتے ہیں‘۔ان انتباہات کے باوجود لوگ دھوکہ دہی کا شکار ہو رہے ہیں اور بیشتر پڑھے لکھے شکار ہورہے ہیں۔

سائبر فراڈ کاسب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ شکار ہو رہاہے ، اس کا تازہ ترین ثبوت دو واقعات ہیں۔ ایک میں بمبئی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور دوسرے میں پونے کے ایک انجینئر کے ساتھ فراڈ ہوا۔بمبئی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس آر ڈی دھنوکا نے اپنے پین کارڈ کی تفصیلات مانگنے والے ایک پیغام کے ذریعے بھیجے گئے لنک پر کلک کیا تو ان کے بینک اکاؤنٹ سے۴۹۹۹۸ روپے نکال لیے گئے۔جسٹس دھنوکا نے ممبئی پولیس کے سائبر سیل سے کی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کے موبائل فون پر نامعلوم نمبر سے ایک پیغام آیاتھا اور ساتھ میں ایک لنک تھا۔پیغام میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے قومی بینک میں محفوظ کردہ اپنے پین کارڈ کی تفصیلات کو اپ ڈیٹ کرنے میں ناکام رہتےہیں تو ان کا اکاؤنٹ غیر فعال کر دیا جائے گا۔انہوں نے لنک پر کلک کیا، ویب سائٹ پر مخصوص سلاٹ میں پین کارڈ کی تفصیلات درج کیں اور اس کے بعدان کے اکاؤنٹ سے مذکورہ رقم نکل گئی۔یہ معاملہ بینکوں خاص طور پر آر بی آئی کی طرف سے بار بار کی جانے والی اس ہدایت کے باوجود پیش آیاکہ بینک فون پر صارفین سے ان کی ذاتی تفصیلات طلب نہیں کرتے ہیں اور اس طرح کی کال آنے پر تفصیلات شیئر نہ کریں بلکہ متعلقہ برانچ سے رابطہ کریں۔

دوسرے معاملہ میں پونے کے انجینئر نے سوشل میڈیا پر پارٹ ٹائم نوکری کی پیشکش دیکھی جس میں جاب آفر کے ساتھ ایک لنک بھی تھا۔اس پر کلک کرنے کے بعد انجینئر کو کال آئی اور اسے بتایا گیا کہ یوٹیوب ویڈیوز کو پسند کرنے پر اسے معاوضہ دیا جائے گا۔ انجینئر کو کچھ ٹاسک دئے گئے،ویب لنک کے ذریعہ ایک فارم بھروایاگیا اور پھر اکاؤنٹ سے۱۷ء۶؍ لاکھ روپے نکال لیےگئے۔ یہ رقم کوچی، جے پور، مالدہ اور اٹارسی کے کئی کھاتوں میں منتقل کی گئی۔ آربی آئی ، پولیس انتظامیہ اور سائبر کرائم پر نظر رکھنے والوں کی طرف سے برابر صارفین کو ہوشیار رہنے کی تلقین اور توجہ دلائے جانے کے باوجود اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں۔مثلا حال ہی میں ایک واٹس اپ پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ہیلو! صبح بخیر، کیا میں ( باضابطہ نام کے اندراج کےساتھ)سے بات کر رہی ہوں؟ ہماری کمپنی آپ کو پارٹ ٹائم جاب پیش کر رہی ہے جو آپ اپنی موجودہ جاب کو متاثر کیے بغیر کہیں سے بھی کر سکتے ہیں۔ آپ اس جاب کو کرکے روزانہ۳۰۰۰ سے۱۰۰۰۰؍روپے کما سکتے ہیں۔ کیا میں ملازمت اور تنخواہ کی تفصیلات پیش کر سکتی ہوں؟‘۔

اس طرح کے پیغامات سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پر حتی کہ موبائل میسیج میں بھی آئے دن موصول ہوتے رہتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی تقریبا سبھی پلیٹ فارم پر حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے انتباہی پیغامات بھی ارسال کئے جاتے ہیں۔ ان میں بتایاجاتاہے کہ پارٹ ٹائم جاب کے لیے کسی بھی سوشل میڈیا اشتہار یا پیغام پر بھروسہ نہ کریں۔اگر کوئی آپ کو گوگل میپس پر ویڈیو کا جائزہ لینے یا پسند کرنے کے بدلے رقم کی پیشکش کرتا ہے تو اس سے دور رہیں۔کسی کے کہنے پر اپنے فون میں کوئی ایپ انسٹال نہ کریں۔کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے جاب آفر لیٹر طلب کریں۔اس کے علاوہ نوکری کی پیشکش کے اشتہار میں ہجے چیک کریں وغیرہ۔اس کے باوجود واقعات پیش آرہےہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سائبر جرائم اور ڈیپ فیک جیسے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک مسئلہ پر بات انتباہات اور محض ایڈوائزری جاری کرنے سے نہیں بنے گی۔ اس کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے۔ ضرورت ’میڈیاسیل‘ کی طرف بھی نظراٹھاکر دیکھنے اور اسے بھی ضابطہ کے دائرے میں لانے کی ہے۔اس سے بھی کہیں زیادہ ضرورت عوام کو بیدار کرنے اور یہ بتانے کی ہے کہ لالچ بری بلا ہے۔ جو دولت اپنی نہ ہواس کی طرف للچائی ہوئی نظر سے دیکھنانہیں چاہئے ۔آمدنی کے لئے جائز ذرائع اختیار کئے جائیں اور آئین وقانون کی مکمل طور پر پاسداری کی جائے۔یہ پہلوہمیشہ ذہن میں تازہ رہے کہ ’ازی منی‘ یعنی جائز ذرائع سے ہٹ کراور بغیر محنت کےآسانی سے اور یک مشت حاصل ہونے والی دولت کی حرص اپنے ساتھ آفتوں کا پہاڑ لے کر آتی ہے۔(umairkoti@gmail.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں