علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مسلمان
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے، لیکن، مسلمان سو رہے ہیں !
✍: سمیع اللہ خان
مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ آخر مسلمان کونسا نشہ کرکے خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں کہ اب علیگڑھ مسلم یونیورسٹی بھی ان کے ہاتھوں سے چھینی جارہی ہے لیکن ان پر کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے،
سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کےخلاف مقدمہ سنا جارہا ہے، یونیورسٹی کے موجودہ کردار کےخلاف کورٹ سے جم کر منفی تبصرے آرہے ہیں، آئینی بینچ سماعت کررہا ہے، مودی سرکار کا کہنا ہےکہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی درجہ ختم کیا جائے، یہ یونیورسٹی دیش کی ہے صرف مسلمانوں کی نہیں !
اگر اس یونیورسٹی کا مسلم درجہ ختم۔ہوا تو کیا ہوگا اور کتنا بڑا نقصان ہوگا آپ جانتے ہیں؟
مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی درجہ کوئی قیامت نہیں بلکہ سیکولرزم اور جمہوریت کی تعریف میں موجود اقلیتی فلاح و بہبود کے زمرے میں آتا ہے، جس کی ضمانت آئین نے مسلمانوں کو دی تھی،
آر۔ایس۔ایس۔ کے زرخرید دانشوران جوکہ نچلی ذات کے نمائندہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں انہوں نے بھی مہم چلائی ہے اور ماحول بنا رہے ہیں کہ علیگڑھ یونیورسٹی کا مسلم درجہ ختم۔کرو، وہاں سے مسلمانوں کا دبدبہ ختم۔کرو، وہاں ہندو وائس۔چانسلر بنواؤ صرف مسلمان ہی کیوں وائس چانسلر بنتا ہے؟ زیادہ تر پروفیسر مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں؟ بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بہت زیادہ مسلمان بچیاں حجاب کی آزادی اور ہر ہاسٹل میں مساجد کی سہولتوں کے ساتھ کیوں تعلیم حاصل کررہی ہیں؟ یہ سب سہولتیں مسلمانوں کو ایک یونیورسٹی میں کیوں مل رہی ہیں؟
یہ میں نے آپکو صورتحال سمجھانے کے لیے مختصراً خلاصہ پیش کیا ہے،
آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اب آر ایس ایس اور مودی سرکار کے کیا ارادے ہیں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کےخلاف؟ اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو ہمارے بزرگوں اور مخلص ملّی سربراہوں کی یادگار اس عظیم۔دانشگاہ کا یہ لوگ کیا حشر کریں گے؟
اس لیے میں مسلسل اپیل کررہا ہوں کہ مسلمان اس معاملے میں غفلت سے باز آئیں، اس کے وجود اور اس کی حیثیت کو بچانے کے لیے سامنے آئیں،
اصل میں عدالت بھی یہ جانچ رہی ہےکہ مسلمان کوئی ردعمل دیں گے یا نہیں؟ یا دیگر ظالمانہ فیصلوں کی طرح اسے بھی برداشت کرکے مسلمان علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے دستبردار ہوجائیں گے. اسی لیے سوشل میڈیا پر آر۔ایس۔ایس نے بھی مہم شروع کرائی ہے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کےخلاف،
میری گزارش ہےکہ مسلمانوں کے سیاسی، مذہبی اور ملی قائدین حکومت کے عزائم کےخلاف سخت بیانات جاری کریں، سب ملکر احتجاج کا اعلان کریں، چیف جسٹس آف انڈیا اور صدر جمہوریہ کو خطوط لکھے جائیں، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا سامنے آئیں، یونیورسٹی میں مناسب انداز میں اپنے موقف کا اظہار کریں اور حکومت کو پیغام بھیجیں، جے۔این۔یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبا بھی قانونی طورپر احتجاج کا ماحول بنائیں، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے فضلا کی جو بھی Alumni associations ہندوستان اور خاص طورپر بیرونِ ہند میں ہیں وہ سامنے آئیں، حکومت کو اس اقدام سے باز رہنے کا انتباہ کریں، چیف جسٹس اور صدر کو خط لکھیں، یوروپ اور خلیجی ممالک میں موجود فضلائے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی جو تنظیمیں ہیں وہ چمنستانِ سرسید کو بچانے کے لیے خاص طورپر اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور اقدامات کریں،
یہ جو کچھ دلت ۔ او۔بی۔سی دانشوران علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کےخلاف آر۔ایس۔ایس کے ٹاسک پر کام کررہے ہیں انہیں روکنے کے لیے امبیڈکروادی لیڈروں سے ملاقاتیں کی جائیں، پرکاش امبیڈکر، وامن میشرام، بھیم آرمی کے چندر شیکھر، مایاوتی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سے مل کر ان سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی حمایت میں بیانات دلوانا بہت ضروری ہے۔
یہ سارے کام منظم طورپر سپریم۔کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے کرنے کی ضرورت ہے، اور اگر خدانخواستہ فیصلہ خلاف آگیا تو لمبے آئینی شاہین باغ آندولن کی تیاری رکھنا چاہیے،
یہ سب کام ہمارے لیڈروں کو کرنا چاہیے میں گزشتہ کئی دنوں سے آواز لگا رہا ہوں عام مسلمان تو بہت بیدار ہوچکے ہیں لیکن مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ہماری مرکزی ملی تنظیموں اور نمائندہ سیاسی جماعتوں کے مسلم لیڈران مسلمانوں کے انتہائی حسّاس اور نازک مسائل پر کئی کئی دنوں کےبعد رائے دینا شروع کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس ملت کے کارآمد اور بیدار مغز کارکنان کی کوئی ٹیم نہیں یا پھر وہ پہلے ہی ہار مان لیتے ہیں اور ملت کو پیش آنے والے خطرناک نقصانات کو روکنے کی کوشش کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔
خدارا، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملے میں اتنی بڑی غلطی نہ کریں، اسے بچانے کی کوشش کریں، ہم اگر آج بھی کوششیں شروع کریں تو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو مسلمانوں کے لیے بچا سکتے ہیں_