غلطیوں سےسیکھئے

(قاسم علی شاہ)
کمپنی کامالک اپنی نشست پر براجمان تھا۔ اتنے میں ایک شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ مالک نے اجازت دی اور وہ اندر آکر خاموشی سے بیٹھ گیا ۔یہ اس کمپنی کا معمار تھا جو اپنے فن میں طاق تھا اور ایسی دل کش اور خوب صورت عمارتیں بناتا کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے۔ معمار اپنے کام سے بے حد محبت کرتا تھا اور اس جنون کی بدولت وہ ایساماہر بن چکا تھا کہ پورے شہر میں اس کی مثال نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے مالک کے سامنے ایک کاغذ رکھا، مالک چونک پڑا کیوں کہ وہ استعفیٰ تھا۔ معمار کا دِل نوکری سے اچاٹ ہوگیا تھا اور اب وہ پرسکون زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ مالک نے اسے اپنا استعفیٰ واپس لینے اور ساتھ میں تنخواہ بڑھانے کی آفر بھی دی لیکن معمار نے انکار کردیا۔ مالک بولا:”ٹھیک ہے، تم کمپنی کے لیے ایک آخری مکان تعمیر کر لو اس کے بعدچلے جانا۔“معمار نے ہامی بھرلی اور اپنے کرئیر کے آخری پراجیکٹ پر کام شروع کرلیا۔ وہ جلد از جلد اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ تقریباً دو مہینے بعد مکان مکمل ہوگیا۔ معمار نے مالک کو اطلاع دی اور وہ نیا مکان دیکھنے کے لیے آگیا لیکن اس کی تعمیر دیکھ کر وہ مایوس ہوا، کیوں کہ اس میں وہ جاذبیت اور کشش نہیں تھی جیسی تعمیر کردہ مکانوں میں ہوا کرتی تھی۔ اس نے گھر کادروازہ کھولا اور چابی معمار کو پیش کی۔ معمار نے نہ سمجھنے والی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ کہنے لگا:” تم نے کئی سال میری کمپنی میں کا م کیا ہے، یہ اُن خدمات کے اعزاز میں تمھارے لیے تحفہ ہے۔“معمار خوشی سے نہال ہوگیا۔ وہ گھر کے اندر داخل ہوا اور اس کے در و دیوار کو چھونے لگا ۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ مکان اس کی ملکیت ہے۔ لیکن یہ خوشی عارضی تھی۔ کچھ دیر بعدوہ پشیمانی کے بھنور میں اترنے لگا، کیوں کہ یہ مکان اس نے بے دلی کے ساتھ بنایا تھا اور ایسی مہارت کامظاہرہ نہیں کیا تھا جس کے لیے وہ مشہور تھا۔ وہ سوچنے لگا، کاش مجھے پتا ہوتا کہ یہ مکان میرا ہے تو میں اس کی تعمیر میں اپنی تمام قابلیت لگا دیتا اور اسے یادگار عمارت بناتا… لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اگلے روز وہ مالک کے پاس گیا اور اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔ اس نے عہد کیا کہ آئندہ وہ پوری دل جمعی اور ایمان داری کے ساتھ کام کرے گا، کیوں کہ اس غلطی نے اسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔

زندگی ایک سفر ہے اور انسان جس راستے پر یہ سفر طے کرتا ہے وہ سیدھا اور ہموار نہیں ہوتا، کہیں اس میں نوکیلے پتھر آتے ہیں، کہیں کانٹے، کہیں نشیب آتا ہے اور کہیں فراز۔ عقل مند انسان اگر ٹھوکر کھاکر گرجائے تو اس کے بعد بڑی احتیاط کے ساتھ چلتا ہے اورپھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے لیکن بے وقوف شخص ان ٹھوکروں سے سبق نہیں سیکھتا اور اسی وجہ سے اس کی زندگی میں بار بار ایسے حالات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

مجھ سے ایک سوال پوچھا جاتاہے کہ کون سی عمر میں انسان Mature (سمجھ دار) بن جاتا ہے؟

اس کی کوئی خاص تعریف نہیں ہے کہ زندگی کے کس موڑ پر آکر انسان عقل و شعور حاصل کرلیتا ہے البتہ اس بارے میں مختلف آرا ہیں کہ جب انسان تعریف و تنقید کی قید سے آزاد ہوجائے، جب وہ انسانیت سے محبت کرنے لگے، جب وہ جذبات کے بجائے عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرے، جب وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دینے لگے اورجب وہ بولنے سے پہلے سوچے اور پھر قدم اٹھا ئے تو ایسا شخص سمجھ دار ہے۔ البتہ میرے نزدیک انسان اس وقت سمجھ دار بنتا ہے جب وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا شروع کرلے۔ یعنی اس سے غلطی سرزد ہوئی، اس نے سبق سیکھا اور پھر اگلی بار ایسی غلطی دہرانے سے باز رہا۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم خود کو سمجھ دارمحسوس کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں لیکن ہمارا خیال غلط ہوتا ہے۔ کیوں کہ سیکھنے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ایسا شخص اپنی غلطی نہیں دہراتا اور اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو اس کامطلب یہ ہے کہ آپ سمجھ دار نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6133 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔

ایمان والے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی زندگی میں جو بھی مشکلات آتی ہیں، وہ ان سے سبق سیکھ کر آگے بڑھتا ہے۔ اس کے راستے میں پتھر آگرے تو وہ اس سے ٹکراتا نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتا ہے اور اپنے لیے نیا راستہ بناتا ہے۔

معروف انگریزی شاعر ’ولیم بلیک‘ کہتا ہے کہ بے وقوف شخص اگر آپ کو کا م یاب دکھائی دے تو اسے نظرانداز کیجیے لیکن عقل مند انسان سے غلطیاں بھی ہوجائیں تو ان سے سبق حاصل کیجیے۔

زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ دیر ٹھہر کر اپنا جائزہ لیا جائے اور اپنی ان تمام غلطیوں کو نوٹ کیا جائے جو زندگی کے سفر میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں۔ یہ غلطیاں ہمارے لیے قیمتی اثاثہ بن سکتی ہیں، اس شرط کے ساتھ کہ اگر ان سے کچھ سیکھ لیاجائے۔ ہماری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم زندگی کو ہمیشہ پیسے اور دولت سے ماپتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ترقی کامعیار یہ ہے کہ ایک سال میں آمدن کتنی بڑھی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف مال و دولت کا نام نہیں ہے۔ اس میں صحت، رشتے، پُرخلوص لوگ اور چین و سکون بھی ہے۔ اس میں ہماری ذہنی ترقی، قابلیت اور صلاحیت بھی ہے۔ اس میں وہ غلطیاں بھی ہیں جن سے ہم نے سیکھا اور نقصان سے بچ گئے۔ ہمیں زندگی کو ان پیمانوں سے بھی ماپنا چاہیے کہ اس سال میں نے کیا کچھ نیا سیکھا، میری ذہنی صحت کتنی بہتر ہوئی، میری زندگی میں کتنے اچھے لوگ شامل ہوئے اور میر ا سکون و اطمینان کس قدر بڑھا۔

جب انسا ن یہ تسلیم کرلیتا ہے کہ ہاں مجھ سے غلطی ہوئی تھی تو پھر اس کی ترقی شروع ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ٹھوکر کھانے کے بعد بھی اپنی غلطی نہیں مانتے۔ اس کی وجہ ہماری انا ہے۔ انا ہمیشہ برتری کی خواہش مند ہوتی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اگر میں نے غلطی مان لی تو اس سے میری قدر کم ہوجائے گی۔ بس یہی وجہ ہے کہ ہم مار کھانے کے باجود بھی نہیں سدھرتے۔
میں نے اپنی 42 سالہ زندگی میں کافی اسباق سیکھے ہیں اور آج کی تحریر میں کچھ چیزیں آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔

مجھے زندگی نے سکھایا کہ وہی انسان ترقی کرسکتا ہے جو حقیقی ارتقائی عمل سے گزرا ہو۔ جس نے ٹھوکریں کھائی ہوں اور محنت و مشقت کے ساتھ زندگی بسر کی ہو۔ ایسے تمام لوگ جو چھلانگ مارکر کسی منصب تک پہنچتے ہیں ان کی کام یابی عارضی ہوتی ہے اور وہ جلد زوال کا شکار ہوجاتے ہیں۔

فطرت اور انسان کا بہت دیرینہ تعلق ہے۔ ہم اگر فطرت کا مشاہدہ کریں تو اس میں ہر چیز رفتہ رفتہ آگے بڑھتی ہے۔ کسان زمین میں بیج ڈالتا ہے، کچھ دنوں بعدوہ زمین کے اندر پھوٹتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ زمین کا سینہ چاک کر باہر نکلتا ہے۔ اسے پانی، دھوپ اور ہوا ملتی ہے تواس کے تنے میں مضبوطی آتی ہے اور مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد وہ اس قابل بنتا ہے کہ انسان کو فائدہ دے سکے۔ انسا ن بھی اگر قدم بہ قدم ترقی کے اصول پر چلے تو وہ بڑی کام یابی پالیتا ہے لیکن جب وہ اس اصول کی خلا ف ورزی کرتا ہے تو وہ نقصان اٹھاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بعض بچے چھوٹی عمر میں بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرلیتے ہیں۔ اس چیز کی بھرپور تشہیر کی جاتی ہے اور ہر ایک کو بتایا جاتا ہے کہ دیکھو، اس بچے نے کتنا شان دار کارنامہ سرانجام د یاہے لیکن حقیقت میں وہ بچے فکری طورپر کچے ہوتے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں توآپ کو ان کے اندر کوئی دانائی نہیں ملے گی، کیوں کہ وہ زندگی کے ان مشکل تجربات سے نہیں گزرے ہوتے جس کے بعد انسان کے اندر پختگی اور سنجیدگی آتی ہے۔حقائق بتاتے ہیں کہ ایسے بچے عملی زندگی میں ناکامیوں کاشکار ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں دکھاوے کی روایت کافی بڑھ چکی ہے۔ تعلیمی ادارے بھی بچوں کے اعلیٰ نمبروں کو اشتہار بناتے ہیں۔ وہ اچھے خطاط کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے اپنے طلبہ کو خوش خط بناتے ہیں اور پھر بچوں کو کتابیں رٹواتے ہیں۔ اس کے بعد جب بچہ امتحان میں بیٹھتا ہے تو نفیس خط کے ساتھ پرچہ حل کرتا ہے۔ مضمون اس نے پہلے سے رٹا ہوتا ہے، چنانچہ اسے جوابات لکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ یہ پرچہ جب ممتحن کے پاس جاتا ہے تووہ خوب صورت لکھائی اور درست جوابات دیکھ کر انتہائی متاثر ہو جاتا ہے اور بچے کو پورے نمبر دے دیتا ہے۔بچہ پوزیشن حاصل کرتا ہے اورپھر تعلیمی ادارے بڑے بڑے بینرز لگوا کر ایسے بچوں کی بھرپور تشہیر کرتے ہیں اوریوں معاشرے میں دکھاوے اور مقابلے کی فضا شروع بڑھ جاتی ہے۔

یادرکھیں کہ اگر آپ نے زندگی میں زینہ بہ زینہ ترقی نہیں کی تو آپ اپنی حاصل کردہ کام یابی قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ کیوں کہ کام یابی کی چوٹی پر بڑی تیز ہوائیں چلتی ہیں اور ان کے سامنے وہی شخص ثابت قدم رہ سکتاہے جو محنت کرکے یہاں تک پہنچا ہو۔ زندگی میں درپیش مشکلات، رُکاوٹیں اور ان کے لیے جدوجہد کرنا معمولی بات نہیں، یہی وہ عوامل ہیں جو انسان کے اندر توانائی پیدا کرتے ہیں اور ان کی بدولت وہ اس قابل بنتا ہے کہ ان طوفانی ہواؤں کا مقابلہ کرسکے۔

میں نے زندگی سے دوسرا سبق یہ سیکھا ہے کہ پُرسکون گھر زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ایک شخص دنیا کا مال دار ترین انسان ہے لیکن اگر اسے یہ نعمت حاصل نہیں تو وہ بدقسمت ہے۔ ہمارے معاشرے میں 25 سے 35 برس تک کے جوان عام طورپر زیادہ سے زیادہ پیسا کمانا چاہتے ہیں۔ ان کے سرپر یہی دھن سوار ہوتی ہے کہ اچھی گاڑی لینی ہے، ذاتی گھر بنانا ہے اور خوب پیسا جمع کرنا ہے لیکن اس ساری جدوجہد میں ان سے ایک بڑی بھول ہوجاتی ہے۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے، بیوی کو اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ لوگ اپنی زندگی میں ا س قدر مصروف ہوتے ہیں کہ انھیں وقت نہیں دیتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ایسا شخص بوڑھا ہوجاتاہے اور اسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔بچے آزاد پنچھی کی طرح اڑان بھر کر نکل چکے ہوتے ہیں۔

ہم پر ہمارے والدین کا بھی حق ہوتا ہے۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے کیوں کہ ہم زندگی میں بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت کرتے ہیں۔ بعض اوقات والدین کو پیسوں اور وسائل کی نہیں بلکہ ایسے فرد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتیں سنے۔ اس عمل سے ان کی اکثر پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔

میں نے تیسرا سبق یہ سیکھا ہے کہ زندگی میں چند بے تکلف دوست ضرورہونے چاہییں جن سے آپ اپنے دل کی باتیں کہہ سکیں۔ یہ ایسے لوگ ہوں جو باحیا اور پُرخلوص ہوں۔ جن پر آپ آنکھیں بند کرکے اعتماد کرسکیں، جن کے ساتھ آپ اپنا دُکھ بانٹ سکیں، جن کے ساتھ آپ قہقہہ لگا سکیں، رو سکیں اور دل کھول کر اپنا درد بیان کرسکیں اور جب ان کی صحبت سے اٹھیں تو آپ ہلکے پھلکے ہوچکے ہوں۔

اگر آپ کی زندگی میں مخلص لوگ ہیں تو شکر ادا کریں، اگر نہیں ہیں تو کوشش کرکے بنالیں۔کیوں کہ پُرخلوص لوگوں کے بغیر زندگی خشک جھیل کی مانند بن جاتی ہے۔ زندگی جذبات کی بنیاد پر ہی خوب صورت بنتی ہے۔ آپ دوسروں کی خاطر قربانی دیتے ہیں اور بدلے میں آپ کو بھی اپنائیت ملتی ہے۔
میں نے زندگی سے چوتھا سبق یہ سیکھا ہے کہ خود تجربہ کرنے کے بجائے دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔ وہ لوگ جنھوں نے زندگی میں آپ سے زیادہ مارکھائی ہے، انھیں سنیں، ان کے ساتھ تعلق رکھیں، ان کے بارے میں پڑھیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔

اپنی زندگی میں ایسے لوگ بھی رکھیں جن سے آپ مشورہ کرسکیں۔ یہ بات نپولین ہل نے اپنی مشہور زمانہ کتاب Think and grow rich میں بھی لکھی ہے۔ وہ بتاتا ہے، دنیا کی کام یاب ترین شخصیات میں یہ عادت پائی جاتی تھی کہ وہ اپنی مجلس شوریٰ رکھتے تھے، جس کے ساتھ وہ ہر اہم موضوع پر مشورہ کرتے تھے اور اسی بنیاد پر وہ شان دار ترقیاں حاصل کرتے تھے۔

اگر آپ اپنے ساتھ سچے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ سے غلطیاں ہوں گی، مگر آپ نے انھیں پچھتاوانہیں بنانا، ان سے سبق سیکھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ ایک دانش ور کا قول ہے کہ غلطیاں محنت کرنے والوں سے ہوتی ہے، نکموں کی زندگیاں تو دوسروں کی غلطیاں نکالنے میں گزر جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں