Love and reality, real love, reality of love

محبت

مری فطرت محبت ہے مرا ایماں محبت ہے۔۔۔ جسے پڑھتی ہے چشم شوق وہ قرآن محبت ہے۔

محبت کا حقیقی رنگ کب دیکھا ہے دنیانے۔۔۔ محبت کو غلط الفاظ میں سمجھا ہے دنیانے۔

محبت موج دریا میں ، محبت چاند تارروں میں۔۔۔ محبت مستقل سوز محبت ہے شراروں میں۔

محبت دیدہ مجنوں میں لیلیٰ بن کے پوشیدہ۔۔۔ محبت کوہکن کے دل میںں شیریں بن کے خوابیدہ۔

محبت اصل میں سرمایہ احساس ایمانی ۔۔۔ محبت صاحب معراج کی معراج روحانی۔

تبسم جب مشیت کے لبوں پر کھیلتا آیا ۔۔۔ محبت کا پجاری ہر مصیبت جھیلتا آیا۔

لب اقراء سے نکلیں نغمہ توحید کی تانیں ۔۔۔ ہویدا قل ھواللہ احد سے ہوگئیں شانیں۔

خدا نے جب یہ چاہا مظہر کامل کروں پیدا ۔۔۔ کوئی بزم جہاں کا صاحب محفل کروں پیدا۔

امانت کا محبت کی کوئی ہوتا امیں آخر ۔۔۔ ہوئے مکہ میں پیدا رحمۃ للعالمیں ﷽ آخر۔

خدا کی ذات کو جب ساجد اصنام پہچا ۔۔۔ تو اتممت علیکم نعمتی کاراز سمجھا نے۔

کتاب آخری کے چار عنوان جلی آئے ۔۔۔ ابوبکر وعمر فاروق و عثمان و علی آئے۔

لیا جب امتحان عشق حسن جاودانی نے ۔۔۔ جبیں عشق کو چوما عروس کامرانی نے

علامہ انور صابری دیوبندیؒ

اپنا تبصرہ بھیجیں