مسجد اقصیٰ مسلمانوں کاقبلہ اول

مجاہد عالم ندوی

مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا اسرائیلیوں کی منصوبہ بندی ہے

بیت المقدس 624ء تک تیرہ سال تک مسلمانوں کا قبلہ اول رہا ۔نبوت کے دسویں سال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حکم سے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جائے گئے جہاں آپ نے انبیاء علیھم السلام کی امامت فرمائی۔ یہودی یروشلم میں اپنے مسیحا دجال کی آمد سے قبل ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کا مسیحا دجال آکر دنیا پر حکومت کرے گا اور ہزاروں سال سے عذاب میں مبتلا یہودیوں کا نجات دہندہ ہوگا، صدیوں سے یہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لئے تن من دھن کی بازیاں نسل درنسل لگارہے ہیں۔ اسرائیل بنانے کے لئے دنیا بھر کے یہودی جہاں جہاں موجود تھے فلسطین جاکر آباد ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے اس کو اپنا مذہبی فریضہ قراردیاہے۔

فلسطین میں جہاں یہودیوں کی آبادی صرف 8 فیصد تھی ٓآج یہودی فلسطین میں 92فیصد سے زیادہ ہیں۔اور نہتے بے بس فلسطینیوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ متعدد مسلم عرب ممالک اسے باقاعدہ تسلیم کرچکے تھےاور اب بات ہی کچھ الگ ہوگئی ہے۔ اب سب کچھ بدل گیاہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وفات کے بعد 586قبل مسیح میں عراقی بخت نصر نے ہیکل سلیمانی کو تباہ و برباد کرکے زمین دوز کردیاتھا۔ کچھ صدیوں بعد یہودیوں نے دوبارہ تعمیر کیاتو رومی طیطوس نے ہیکل سلیمانی سمیت سارے شہر کو نیست و نابود کردیا اور یہودیوں کو یروشلم سے ماربھگایا۔ بنواسماعیل نے اس جگہ پر مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی تھی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے یروشلم کو فتح کرلیا۔ اس کے بعد فلسطین ترکی کی خلافت عثمانیہ کے آخر تک ان کا حصہ رہا۔ یہودی اپنے جس نجات دہندہ دجال کے انتظار اور تیاریوں میں ہیں اس کا خاتمہ ہماری مذہبی روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر کریں گے۔

دجال کے پاس کوئی روحانی ماورائی طاقتیں نہیں ہون گی بلکہ تصور کیاجاسکتا ہے کہ وہ تمام جدید سائنسی ترقی کو کنٹرول کررہا ہوگا جس میں مریخ اور چاند پر موجود انسانی سائنسی خلائی اسٹیشن سے زمین پر موجود ایٹمی ہتھیاروں ، جنگی طیارروں، میزائلوں، کہیں آگ لگانا، توکہیں مسلسل بارشیں برسانا، سمندری طوفان لانا، زمینی زلزلے پیداکرنے کاتمام سائنسی سسٹم اس کے کنٹرول میں ہوگا۔ وہ فضائی آکسیجن بند کرکے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتاردے گا، یہ یہودی بنی اسرائیل کہلاتے ہیں، اورحضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو رب کے حکم سے فرعون کے عذاب سے نجات دلائی، ان کی ہدایت کے لئے تورات نازل ہوئی، آسمان سے من و سلویٰ بھی انہیں کے لئے آتے رہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بائبل (انجیل) بھی ان کی مذہبی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ قرآن مجید کی سب سے بڑی اور پہلی سورۃ بقرہ میں بھی رب کائنات باربار انہیں یہودیوں کو ہدایت دے رہاہے کہ ۔۔۔اے یعقوب کی اولاد۔۔۔ اے بنی اسرائیل۔۔۔ یاد کرو میرا وہ احسان۔۔۔!!! لیکن یہ ایسی احسان فراموش قوم ہے کہ خدا کے کسی نبی کسی پیغمبر کے سمجھانے پر بھی راہ راست پر نہیں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی عبادت کے لئے گئے تو پیچھے سے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ نبیوں پر الزام تراشیاں کیں، یہودی ہمیشہ خدائی احکامات کے برخلاف ہی چلتے رہے اور چلتے آرہے ہیں، قرآن میں جگہ جگہ ان کی نافرمانیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ خدا کے سخت منع کئے گئے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام اب بھی ان کے معاشی رہنماہیں۔ یارب العالمین آپ سے التجا ہے کہ اس یہودی قوم کو نیست و نابود کردے ، ان کےعزائم کو کچل دےاور قبلہ اول “مسجد اقصیٰ” اور فسلطین کے مسلمانوں کو غیبی طاقت عطا فرما اوران کی مدد فرما، اے اللہ تو انہیں کامیابی سے ہمکنار کردے۔ آمین یارب العالمی۔

مجاہد عالم ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں