نوجوان سڑکوں پر کیوں؟

عمیرکوٹی ندوی

نوجوان ملک اورسماج کا قیمتی سرمایہ ہے۔انہیں صحیح سمت دکھانے اور سماج کیلئے سودمند بنانے کی ضرورت ہے۔

کسان اس وقت سڑکوں پرہیںاور ان کے قدموں کی دھمک دہلی میں سنائی دے رہی ہے۔حکومت کی باتیں نہ ان کے قدموں کو روک پارہی ہیں اور نہ ہی وعدے ووعید اس کی رفتار کو بریک لگانے پر کامیاب ہو پارہے ہیں۔اس کے برخلاف انہیں روکنے کے لئے اٹھایا جانے والا ہر قدم انہیں برانگیختہ کر رہاہے ، پولیس اور اس کے درمیان رسہ کشی میں اضافہ کر رہا ہے ۔ تصادم اور کسانوں کی ہلاکتوں کی خبروں کے درمیان اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ملک زراعت پر انحصار کرنے والا یعنی ’کرشی پردھان دیش‘ کہلاتا ہے۔اس میں اسے امتیاز حاصل ہے۔آزادی سے قبل بھی اور بعد میں بھی اپنے شہریوں کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اس شعبہ نے کبھی بھی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ غذائی ضروریات کی تکمیل کے لئے اس نے اپنی قوت پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ہی تنوع اور جدت کی راہ بھی اختیار کی۔اس سے کہیں آگے بڑھ کر اس شعبے نے روزگار کے وسیع اور مستحکم مواقع بھی فراہم کئے لیکن اس کے ساتھ ہی کسانوں کے مسائل کم نہیں بہت ہیں۔ ان میں پیچیدگی بھی ہے اور تہہ داری بھی۔

ان ہی مسائل کے ساتھ آج کسان سڑکوں پر آگیا ہے۔ ان میں بیشتر نوجوان ہیں جنہوں نے ایک امید، عزم اور جوش کے ساتھ زراعت کے میدان میں قدم رکھا تھااور غذائی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ ہی روزگار کے مواقع بھی تلاش کئے تھے۔اس میں کامیابی بھی ملی اور اُس وقت خاص طور پر محسوس کی گئی جب عالمی وبا کورونا نے نظام زندگی کو مفلوج اور کاروبار زندگی کی رفتار کو روک دیا تھا ۔ اس وقت سب نے دل کھول کر اور صاف الفاظ میں اعتراف کیا تھا کہ زراعت ہی وہ شعبہ تھا جو پورے طور پر فعال تھا اور بنیادی ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ ہی روزگار بھی فراہم کر رہا تھا۔ کسانوں کو شکایت ہے کہ اسی کھلے دل کے ساتھ ان کے مسائل کا نہ اعتراف کیا جارہا ہے اور نہ ہی ان کے حل کے لئے صاف صاف کوئی یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔ اس کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ اپنے اندر بہت ساری پیچیدگیاں لئے ہوئے ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ابھی زیادہ وقت نہیں بیتا جب کسانوں نے ملک کی تاریخ کا طویل ترین احتجاج کیا تھا اور اس میں بڑی تعداد میں اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دی تھیں۔ ان کی کچھ باتیں مان لی گئی تھیں۔ تاہم کسان بار بار کہتے رہے ہیں ان کے مسائل حل نہیں ہوئے ہیں اور بہت سی باتیں ابھی بھی مانی جانی باقی ہیں۔

توجہ دینے والی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت سڑکوں پر کسانوں کے علاوہ کچھ دوسرے نوجوان بھی ہیں۔ان میں وہ بھی ہیں جن کی طرف کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اشارہ کیا ہے۔بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران اترپردیش کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اس ریاست کا مستقبل نشے کی حالت میں سڑک پر ناچ رہا ہے۔انہوں نے کہا ’میں وارانسی گیا ۔وہاں میں نے دیکھا رات کو ٹی جے بج رہا ہے اورشراب پیئے سڑک پر لیٹتے ہوئے یوپی کا مستقبل ناچ رہا ہے‘۔انہوں نے اس کی بھی نشاندہی کی کہ شراب میں مست ہو کر یہ ناچنے والے کون ہیں اور ان کی سماجی حیثیت کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’آپ کی جگہ سڑک پر بھیک مانگنے کی ہے، آپ کا کام سڑک پر جا کر پوسٹر دکھانے کا ہے‘۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بنارس میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ جن کے اپنے ہوش ٹھکانے نہیں ہیں وہ یوپی کے نوجوانوں کونشیڑی(نشہ کا عادی) کہہ رہے ہیں‘۔اس سے ماوراءیہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان تیزی سے نشہ کی لت کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق ۲۰۲۲ء میں ملک میں ۱۶؍سے ۲۵؍برس کے نوجوانوں کی ۲۳؍فیصد آبادی نشہ کی شکار تھی۔ سال درسال اس لت میں اضافہ کے رجحان کے درمیان حالیہ مدت میں اس کا تناسب کیا ہوگا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت ہے جب حکومت کی طرف سے نشہ کے خلاف بیداری لانے کی کوشش لگاتار کی جارہی ہے۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مختلف انجمنیں، ادارے، تنظیمیں،مذہبی حلقے اور افراد اس میں اپنا تعاون دیتے ہیں۔اس کے علاوہ اشتعال انگیزی بھی سڑکوں پر ہے۔ کھلے عام لوگوں کی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچا دیا جاتا ہے۔ طاقت کا نشہ بھی ان سب کے درمیان سرپر سوار ہو کر ناچتا ہوا نظر آتا ہے۔ حالانکہ ملک کے سبھی سنجیدہ شہری اس کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو اس سے باز رکھنے کی تدبیر بھی اختیار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود طاقت کا نشہ اس وقت سر چڑھ کر بول رہا ہے۔تازہ ترین معاملہ مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈر شوبھندو ادھیکاری کا ایک سکھ آئی پی ایس افسر کو خالصتانی کہنے کا ہے ، یہ معاملہ اب عدالت میں پہنچ گیا ہے۔اس پر کسی قسم کی پشیمانی کی جگہ زبان سے ’ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے‘کی بات نکل رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ طاقت کا نشہ ہی سب سے طاقت ور ہوتا ہےاور اس کا زور دوسروں کو اپنے سامنے جھکانے پر ہوتاہے، پھر چاہے ظلم کی کسی بھی حد کو چھولیا جائے۔ویسے تو انسانی سماج میں اس کی مثالیں ہر جگہ موجود ہیں لیکن سردست بات مدھیہ پردیش کی جہاں حالیہ ماہ وایام میںیکے بعد دیگرے کئی واقعات پیش آگئے۔ تازہ ترین معاملہ سیونی ضلع کا ہے لیکن اس سے قبل ذکر دو دیگر واقعات کا۔

حال ہی میں بیتول ضلع میں ایک شخص کو برہنہ کرکے الٹا لٹکا کر پٹائی کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔اس کے بعد سیدھی میں ایک آدیواسی نوجوان پر پیشاب کرنے کے واقعہ نے پورے ملک کو شرمسار کر دیا تھا۔ اب تازہ معاملہ سیونی ضلع کے آدیواسی ریزرو اسمبلی حلقہ برگھاٹ سے سامنے آیا ہے۔ریاست میں حکمراں جماعت کا ایک لیڈر ایک آدیواسی شخص کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہاہے۔ اس واقعہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ خبروں کے مطابق اس ویڈیو میں ایک سیاسی لیڈر آدیواسی شخص جس کانام سنتوش کاکوڑیا بتایا جارہا ہے کوپلاس اور قینچی سے نوچتا ہوا نظر آرہا ہے ، اس کے علاوہ وہ پٹائی کرتے اور گالیاں دیتے ہوئے بھی دکھ رہا ہے۔جب کہ اس ویڈیو اور اس موقع کی جاری تصاویر میں متاثرہ شخص درد سے تڑپتا ہوا نظر آرہا ہے۔مدھیہ پردیش ہی کیا کئی ریاستوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اور لگاتار پیش آتے جارہے ہیں۔یہ چیخ چیخ کر طاقت کے نشہ کے سرپر سوار ہونے کا اعلان کر رہے ہیں لیکن اترنے کے بجائے یہ نشہ بڑھتا جارہا ہے اور سڑکوں پر پھیلتا جارہا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟۔

واقعہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو ان کی ضرورتوں، مجبوریوں،پریشانیوں اور بے روزگاری نے سڑکوں پر لاکر کھڑا کیا ہے۔ بے راہ روی انہیں سڑکوں پر لے کر آئی ہے۔نشہ میں برباد ہوتی زندگی انہیں سڑکوں پر نچارہی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کو اپنے غلط عزائم ومقاصد کے لئے استعمال کرنے والے ورغلا، بہلاوپھسلا کر انہیں سڑکوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ سڑکوں پر موجود یہ نوجوان دولت وطاقت اور عہدہ ومنصب کے حصول کی لالچ اپنے سینوں میں دبائے انسانی جانوں اور عزت وآبرو سے کھلواڑ کرنے والوں کے لئے چارہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ خود ایسے نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کی یہ اولین اوربنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انہیں گمراہ کرنے ، ورغلانے اور ان کا استحصال کرنے والوں کے عزائم کو بے نقاب کریں، انہیں ناکام بنائیں اور نوجوانوں کی تربیت واصلاح کی فکر کریں ۔ یہ ملک اور سماج کا قیمتی سرمایہ ہیں ضروری ہے کہ انہیں صحیح سمت دکھائی جائے اور سماج کے لئے سود مند بنایا جائے۔
(umairkoti@gmail.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں