پیغام
جس طرح کھانا پینا اور نسل کی افزائش انسانی جبلت ہے، یہی درجہ نیند کا بھی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب اور دن اور رات کا آگے پیچھے آنا، نشانیاں بھی ہیں اور انسان کے لیے نعمت بھی۔ نیند کے لئے سورج کا نکلنا اور ڈو بناہی کافی نہیں ، ہمارے جسم کے اندر بھی ایک نظام ہے جو ہمیں سونے کے لئے کہتا ہے ۔ جیسے ہی اندھیرا ہونے لگتا ہے ایک کیمیکل ہمارے دماغ میں پیدا ہوتا ہے جو بار بار کہتا ہے کہ اندھیرا ہونے والا ہے، اندھیرا ہو گیا ہے، اندھیرا ہو چکا ہے آپ سمجھ دار ہیں ، اب سوجائیں ، مگر ہم نہیں ہوتے ۔ سوئیں کیسے، ابھی ٹی وی پر پسندیدہ پروگرام چل رہا ہے، اسا ئنمنٹ مکمل نہیں ہوا، کل کے امتحان کے لئے پڑھنا ہے۔ اگر آپ صبح چھ بجے اٹھے تھے تو دس بجے آپ کو جاگتے ہوئے سولہ گھنٹے ہو چکے ہیں۔ ان سولہ گھنٹوں میں ایک دوسرا کیمیکل اتنی مقدار میں جمع ہو جاتا ہے جو آپ پر سونے کا دباؤ ڈالتا ہے۔ بارہ بجتے بجتے اٹھارہ گھنے کا جمع شدہ کیمیکل آپ کو زبردستی سلا دیتا ہے۔ ٹی وی دیکھتے دیکھتے آنکھیں بوجھل ہو جاتی ہیں۔ رات دیر تک جگنا بہت بری بات ہے۔ صحت متاثر ہوتی ہے۔ اور انسان بہت سی پریشانیوں میں گھر نے لگتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ جوقت سونے کا ہے اس وقت میں سو جائیں، تا کہ آپ کی صحت بنی رہے۔ رات میں جلد سونے سے صبح جلد اٹھنے میں مددملتی ہے ۔ فجر کی نماز آسانی سے ادا ہو سکتی ہے۔ صبح کے وقت تھوڑا قرآن کی تلاوت ہو سکتی ہے۔ صبح جلدی بیدار ہونے میں عجیب برکتوں کے فیصلے ہوتے ہیں، لہذا جلدی سوئیں اور صبح جلدی اٹھنے کی فکر کریں ۔
Mashallah 👍