ہندوستانی سیاست اور مسلمانوں کا لائحہ عمل
ہندوستانی سیاست اور مسلمانوں کا لائحہ عمل:
طارق انور ندوی:
ہندوستان، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے، صدیوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ اور جین مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ جیتے اور جُز بن کر ملک کی ترقی میں شریک رہے ہیں۔ مگر آج، جب ہم سیاست کے بدلتے رخ کو دیکھتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنوع اب سازشوں اور تعصبات کی بھینٹ چڑھتا جا رہا ہے ،اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والی قوم، مسلم قوم ہے۔
مسلمان: ایک قوم، ایک شناخت، ایک چیلنج ۔
ہندوستان کے مسلمان نہ صرف تعداد میں کروڑوں میں ہیں، بلکہ ان کی تہذیبی، علمی اور تاریخی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ مگر آج وہ تعلیم، صحت، روزگار، میڈیا، عدلیہ، پولیس اور سیاست جیسے شعبوں میں پسماندگی کا شکار ہیں۔ سیاسی جماعتیں اکثر انہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی ہیں، اور بعض اوقات انہیں حب الوطنی کی کسوٹی پر بھی کَس دیا جاتا ہے۔یہ صورت حال محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک منظم سوشیولوجیکل اور سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اب وقت ہے کہ مسلمان صرف تماشائی نہ بنے رہیں، بلکہ بیداری، منصوبہ بندی اور جدوجہد کے ساتھ آگے آئیں۔
مسلمانوں کا لائحہ عمل: روشنی کی طرف بڑھنے کا راستہ۔
(1)تعلیم:ترقی کی پہلی سیڑھی ۔
اگر مسلمان واقعی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں اپنے بچوں کو ہر حال میں تعلیم دینی ہوگی ،نہ صرف دینی تعلیم، بلکہ جدید عصری، سائنسی، قانونی اور تجارتی تعلیم بھی۔ تعلیم وہ ہتھیار ہے جو انہیں خود اعتمادی، شعور اور سماجی مقام عطا کرے گا۔
(2)سیاسی بیداری:اپنی قسمت خود لکھیں۔
اب وقت ہے کہ مسلمان صرف ووٹر نہ رہیں، بلکہ خود قیادت کریں۔ بلدیاتی اداروں سے لے کر پارلیمنٹ تک، انہیں اپنی موجودگی درج کرانی ہوگی۔ دیانت دار، پڑھے لکھے، اور خدمت گزار نمائندوں کو آگے لانا ہوگا، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں۔
(3)اتحاد:مسلکی اختلافات ختم کریں۔
امت میں اتحاد نہ ہو تو قومیں بکھر جاتی ہیں۔ ہمیں سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث جیسے مسلکی اختلافات کو ذاتی دائرے میں رکھ کر ملت کے مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔
(4) میڈیا اور بیانیہ:اپنی آواز خود بنیں۔
آج کا میڈیا کئی بار مسلمانوں کی تصویر کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان صحافت، فلم سازی، یوٹیوب، ریڈیو، بلاگنگ اور سوشل میڈیا میں سرگرم ہوں۔ اپنے مسائل کو دنیا کے سامنے خود لائیں۔
(5)قانونی شعور: اپنے حقوق خود پہچانیے۔
اپنے حقوق پہچانیےمسلمانوں کو قانون، آئینی حقوق اور عدالتی نظام کی مکمل معلومات ہونی چاہیے۔ ہر بستی میں قانونی مدد مراکز بننے چاہییں جہاں مظلوموں کو انصاف کی راہ دکھائی جا سکے۔
(6)بین المذاہب میل جول:نفرت کے خلاف محبت کی فضا۔
نفرت کا جواب نفرت نہیں، بلکہ حسنِ اخلاق، امن، اور بھائی چارے سے دیا جانا چاہیے۔ اپنے پڑوسیوں، دوستوں اور غیر مسلم بھائیوں سے بہتر تعلقات استوار کر کے ہم فرقہ وارانہ خلیج کو کم کر سکتے ہیں۔
نتیجہ: امید اور حوصلے کا پیغامی۔
یہ سچ ہے کہ آج کا وقت مسلمانوں کے لیے آزمائش کا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر تاریکی کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ اگر مسلمان متحد ہو جائیں، تعلیم کو اپنا مقصد بنا لیں، قانون اور سیاست کو سمجھیں، اور اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں ۔تو کوئی طاقت انہیں ان کے جائز مقام سے محروم نہیں رکھ سکتی۔یہ ملک ہمارا ہے، اور ہمیں اس میں اپنا مقام خود بنانا ہوگا ۔نہ کسی کے رحم و کرم پر، نہ کسی کے سہارے پر، بلکہ علم، اخلاق، اتحاد اور شرافت کے ساتھ۔
بدلو خود کو، وقت خود بدلے گا
چراغ خود جلاؤ، اندھیرا خود ہٹے گا