فلسطین کیلئے ہم کیا کریں؟
فلسطین، بیت المقدس اور غزہ ان مقدس مقامات میں سے ہے جن سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے، یہ حق و باطل کا امتیاز ہے، ہمارے تَن سے سر جدا ہوجائے؛ لیکن بیت المقدس سے علیحدگی ناممکن ہے، اس وقت تمام دجالی طاقتیں، صہیونی اور صلیبی سازشوں کا رخ اس کی طرف ہے؛ ایسا لگتا ہے کہ سبھوں نے قیامت بپا کرنے کی ٹھان لی ہے، اب وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح اسلام کا طرہ چھین لیا جائے، اس کا چراغ گُل کردیا جائے، مسلمانوں کی رہی سہی شوکت اور نشان بھی مٹ جائے، یہودیت کا عروج ہو اور پوری دنیا ایک ہی جھنڈے تلے آجائے، مگر اللہ اہل غزہ اور فلسطین کو سلامت رکھے؛ جنہوں نے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بیت المقدس کی تقدیس و تعظیم کیلئے بہادیا، سپر پاورز سے بھڑ گئے اور کم مائیگی کے باوجود انہیں سوچنے پر مجبور کردیا؛ لیکن ابھی دشواریاں کم نہیں ہوئی ہیں، خبریں تشویشناک گردش کر رہی ہیں، مصر کا کردار تو شروع سے مشکوک و منافقانہ رہا ہے، عبدالفتاح کی قیادت میں مزید شدت کی ہی امید ہے، بنیامین نتن یاہو اور امریکی لابی اب ہر ممکن کوشش میں ہیں کہ اہل غزہ کو اس حال میں لا دیا جائے جہاں وہ خود تھک ہار کر بیٹھ جائیں اور مصالحت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں، مگر ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ حصار جتنا سخت ہوگا اسی قدر مومنین کیلئے ایمانی قوت و ہمت فراہم کرے گا، شعب ابی طالب کو ایک ٹریننگ سینٹر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ممکن ہے کہ یہ دجالين اپنے مکر میں خود پھنس جائیں اور اہل ایمان بھٹی سے تپ کر چمکتا دمکتا سونا بن کر نکلیں، افسوس کا مقام ہے کہ بیت المقدس اور اہل غزہ کے ساتھ شب و روز ناانصافیوں کے باوجود ہماری رگ غیرت میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، بہت سے یوں لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ!! لیکن جنہیں فکر ہے ان کی راتیں کروٹ بدل بدل کر گزرتی ہیں، دل و دماغ میں بیت المقدس کی تصویر لگی رہتی ہے، فلسطین کی گود میں پڑی لاشیں بے چین کئے رہتی ہیں اور وہ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ اس سلسلے میں ایک کا واقعہ سیرت طیبہ سے بھی ملتا ہے، ایک صحابیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: یہ حشر و نشر کی سر زمین ہے، یہاں آؤ اور نماز ادا کرو کہ اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نماز ادا کرنے کے برابر ہے، ان صحابیؓ نے استفسار کیا: اگر میرے اندر وہاں تک جانے کی استطاعت نہ ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کم سے کم تیل کا ہدیہ ہی بھیج دو، جو وہاں چراغ میں کام آئے – ( سنن ابن ماجہ: ۱۰۴۵) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم سے جو بن سکے وہ کر گزریں، یہ بیت المقدس کا حق اور ہمارا ایمانی فریضہ اور صدائے غیبی ہے کہ:
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سے
کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
خصوصاً اس وقت بیت المقدس اور فلسطین کے سلسلہ میں مزید متحرک ہونے اور عالمی برادری میں غلغلہ مچانے کی ضرورت ہے، اسرائیل کے چہرے سے نقاب اتر رہا ہے، دنیا بھر میں اس کی ظالمیت اور جارحیت کے چرچے ہیں، فلسطینی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ اور توسیع پسندی کے خلاف غصہ کا سیلاب امنڈ پڑا ہے، احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں، فلسطین کے حق میں جھنڈے لہرائے جارہے ہیں؛ بہرحال ضرورت ہے کہ لوہا گرم ہے ہر ممکن ہتھوڑا مارا جائے، دعا و مناجات کے ساتھ ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی فلسطین کا درد اگر رکھتے ہیں تو بقدر استطاعت میدان جہد میں اتریں، اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروائیں، قلمکار ہیں تو لکھئے! قوت گویائی ہے اور مخاطب تک بات پہنچانے کی عمدہ صلاحیت ہے تو بولئے! بالخصوص تاریخی واقعات کے تناظر میں عقلی و فکری گفتگو کیجئے! بتائیے کہ کسی کی زمین پر قبضہ کرنا کیونکر ناجائز ہے، ورنہ چین، کشمیر، نیپال وغیرہ کا رونا مت روئیے! استاذ گرامی قدر فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ نے اپنے ایک فکری مضمون اس طرف توجہ دلائی ہے، آپ بھی پڑھئے اور گرمجوشی کے ساتھ اہل غزہ اور فلسطین کیلئے کھڑے ہوجائیے! آپ رقمطراز ہیں: “- – – قرآن نے یہود و نصاریٰ کی نفسیات اور ان کے اندرونی جذبات کی خوب ترجمانی کی ہے اور یہ بات جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مبنی بر واقعہ تھی، اسی قدر آج بھی ہے کہ : ’’یہود و نصاری آپ سے اس وقت تک راضی ہو ہی نہیں سکتے ، جب تک آپ ان کے دین کے پیرو نہ ہو جائیں ، آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت تو وہ ہے جو اللہ کی ہے ، اگر آپ علم حاصل ہونے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگیں تو آپ کے لئے اللہ کے مقابلہ کوئی حامی و مددگار نہ ہوگا ۔ ‘‘(بقرۃ : ۱۲۰) قرآن نے اس میں یہود و نصاری کے اندرونی جذبات کو کھول کر رکھ دیا ہے اور خلافت عثمانیہ کے سقوط سے اب تک عالم اسلام میں جو جنگیں ہوئی ہیں، وہ سب اس کے واضح شواہد ہیں ، اس لئے جب تک مسلمان اپنے مذہبی تشخصات اور اپنے ثقافتی امتیازات کو خیر باد نہ کہہ دیں اور پوری طرح مغربی فکر اور مغربی ثقافت کے سامنے جبینِ تسلیم خم نہ کردیں ، ان کی تشفی نہیں ہو سکتی اور ان شاء اللہ مسلمان کبھی اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ دین کے لئے سب کچھ کھونے کو ’’پانا‘‘ اور اللہ کی راہ میں رگِ گلو کٹانے کو ’’ جینا ‘‘ تصور کرتے ہیں اور یہ ان کے ایمان و عقیدہ کا حصہ ہے ! اس پس منظر میں ہم مسلمانانِ ہند قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اور انھیں حقیقی صورتِ حال کا ادراک کرنے میں مدد دیں ، منصف مزاج ہندو بھائیوں (جن کی آج بھی اس ملک میں اکثریت ہے) کو ساتھ لے کر حکومت ہند سے خواہش کریں کہ وہ اپنی ناوابستہ پالیسی پر قائم رہے اوراسرائیل کی حمایت سے باز رہے، وہ ظالم اور مظلوم کو ایک پلڑے میں نہ رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اسرائیلی کمپنیوں کی تجارتی اشیاء کا بائیکاٹ کریں کہ یہ بھی منکر پر ناراضگی کے اظہار اور ظالم سے بے تعلقی برتنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے، اور شرعاً بہ حیثیت مسلمان ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اس سلسلہ میں جو طریقہ اختیار کرنا ہمارے لئے ممکن ہو ، ہم اس سے دریغ نہ کریں، یہ انسانی فریضہ ہے ، یہ شرعی ذمہ داری ہے اور حمیت ایمانی اور غیرت اسلامی للکار کر ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کیا ہم اس کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ؟؟” (شمع فروزاں:٢١/٥/٢٠٢١)
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ مضمون ہے
بہترین صلاح، اللہ فلسطین اور فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے آمین۔