موسم کی طرح بدلتا ملک کا سیاسی مزاج
ہم جب جسم کے اعضاء میں تفریق نہیں کرتے تو پھر اپنے سماج کے اعضاء کےدرمیان کیسے تفریق کرسکتے ہیں؟
عمیر کوٹی ندوی
موسم کا مزاج بہت تیزی سےبدل رہا ہے اور ٹھنڈ سبک رفتاری سے اپنے قدم آگے بڑھا رہی ہے۔ہوا میںکہیں خنکی ہے تو کہیں سرد ہوائیں چلنی شروع ہوگئی ہیں ۔کہیں بارش کی پھوار طبیعت کو خوشگوار احساس سےہم کنار کر رہی ہے تو کہیں بادل کی گھن گرج، بجلی کی کڑک ، تیز وتند ہوائوںکےساتھ زور کی بارش اوراولے باری جاتے جاتے بھی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے ۔ کچھ علاقوں میں برف باری بھی ہو رہی ہے۔یہ سب ہمارے ملک میں ہو رہا ہے ، ایک ساتھ ہو رہا ہے اور ہر کوئی اسے محسوس کر رہا ہے۔ ملک کا سیاسی مزاج بھی ایک عرصہ سے موسم کی طرح ہی بدل رہا ہے ۔ایک دہائی پہلے تک ریاستی انتخابات اسی ریاست تک محدود ہواکرتے تھے، زیادہ سے زیادہ پڑوسی ریاستوں میں ان کا کچھ اثر دکھ جاتا تھا، پر اب ملک کی سیاست کا مزاج اس طرح سے بدلا بدلا سا لگ رہاہےگویا:
بدلے بدلے مرے سرکار نظر آتے ہیں
گھر کی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں
ہمارے ملک کی سیاست کا یہی حال ہے۔ موسم کی طرح ملک کے سیاسی مزاج کی تبدیلی زبان حال سے بہت کچھ کہہ رہی ہے ۔در اصل پنچایتی اورمیونسپلٹی سے لے کر پارلیمانی الیکشن تک ہر ایک کو نیشنلائز کرنے کا جنون سیاسی پارہ کو کم ہونے دینا نہیں چاہتا ہے۔ سیاسی پارے کواوپر اور اوپر لے جانے کی کوشش کے پیچھے جو محرک کار فرما ہے ،وہ آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے اکھاڑے میں پالے کو چھو لینے کی ذہنیت ہے۔ اس کی وجہ سے ہی اس وقت آئندہ ماہ چند ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا خمار سیاسی پارٹیوں میں پورے طور پر چڑھا ہوا ہے۔ کوشش تو یہ ہے کہ یہ خمار پورے ملک پر چڑھ جائے اور ہمہ وقت چڑھا رہے۔اس کی خواہش ہے کہ ایک الیکشن سے دوسرے الیکشن کے درمیان جس محنت اور جہدوجہد سے تسلسل کے ساتھ اس نے انتخابی خمار کو طاری کیا ہے وہ کسی صورت اترنے نہ پائے اور کوئی اسے اتارنے بھی نہ پائے۔حالیہ برسوں میں جو کچھ کیا گیا وہ اسی مقصد سے ہی تو کیا گیا اور بہ دستور اس کا سلسلہ جاری ہے ۔
سیاسی مزاج کی تبدیلی نےبھی اس دہائی میں موسم کی طرح خنکی، کڑک ، اولہ باری، برف باری، تند وتیز الفاظ کی بارش، بدتمیزی کےطوفان اور گھن گرج سمیت بہت کچھ دیکھا ہے ۔ اس نے لوگوں کے کرب، آہ وفغاں کو بھی دیکھا، تباہی وبربادی کو بھی دیکھا۔پھر بھی دل نہ پسیجا کیوں کہ پالے کو چھو لینے کی ذہنیت نے یہ سب کچھ ایک پلانگ کے تحت کیا ہے۔ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت سیاسی خمارکو ذہنوں پر طاری کیا ہے لہذا وہ کیسے اسے آسانی سے اترنے دےسکتی ہے۔اس وقت بھی اس کی تمام تر کوششیں جاری ہیں۔تیز وتند بیانات، اور’کپڑا پھاڑ‘،’ناتھ‘ اور’ا ناتھ‘ جیسے بے شمار حقارت آمیز الفاظ اور انداز اس کی واضح مثالیں ہیں۔اس ذہنیت نے اپنے طرز سیاست کی کامیابی پر ’واہ‘ تو کہا پراس سفر کے دوران ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اس جنوں میں ملک اور یہاں کے شہریوں کو تو چھوڑیں خود اس نے اپنا کیا کیا کھو دیا۔ حالیہ برسوں میں لوگوں نے جو کچھ دیکھا ، جو واقعات پیش آئے، سیاست وصحافت نے جو کچھ کہا اور لکھا ، جو کیا اور کرایا گیا، وہ سب تاریخ کی آنکھوں نے دیکھا ہے۔دیر سویر جب بھی تاریخ کا قلم چلے گا ، حالات، واقعات اور حوادث رقم کئے جائیں گے، تو صرف یہی نہیں لکھا جائے گا کہ کیا کیا ہوا بلکہ یہ بھی تحریر کیا جائے گا کہ کیوں ہوا۔
ہندوستانی سماج کی تاریخ زمانہ کی گردش ، حالات کی تبدیلی کو بھی زیر بحث لائے گی اور بات دور تلک جائے گی۔اس طرز سیاست، سیاسی مزاج کی تبدیلی کے پیچھے مخفی ذہنیت پر بھی قلم اٹھے گا اور اس کے محرک پر بھی بات ہوگی۔اگرکوئی نظریہ اس کا محرک قرار پائے گا تو اس کا محاکمہ بھی ہوگا ۔ خون وخرابہ، نفرت و حقارت ،تفریق وتقسیم، غیر انسانی ، غیر اخلاقی اور غیر مذہبی حرکات و رویہ پر بھی بات ہوگی۔ یہ بہت بعد میں اور اگلی پیڑھی میں نہیں ہوگا بلکہ تبدیلی کا عمل اسی وقت سے شروع ہوچکا ہے۔ عمل، طرز عمل، نظریہ پر بات کی رفتار دھیرے دھیرے تیز سے تیز تر ہو تی جارہی ہے۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے حالیہ بیان کو ہی دیکھ لیں ۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ ’ہمارے ملک کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ ہم سے الگ ہے… آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ ہندوستان پر ایک نظریہ، تنظیم کی حکومت ہونی چاہیے، جس کی ہم مخالفت کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس، بی جے پی آپ کی آستھا کی بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘۔
اس سے قبل رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نےرواں سال کے اوائل میں چھتیس گڑھ میں منعقدہ کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خود اپنی پارٹی کو جھنجھوڑا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ایک جامع ہندوستان کے حق میں ہمارا نظریاتی موقف بالکل واضح ہونا چاہئے‘۔اس موقع پر انہوں نے ہندوستانی سماج کو اقلیت اور اکثریت کی نظر سے دیکھنے اور بعض مسائل پر موقف اختیار کرنے سے گریز کرنےکے سیاسی رجحان کی نفی کرتے ہوئے اس عمل کو’ بی جے پی کے ہاتھوں میں کھیلنے جیسا ‘ قرار دیا تھا اور مسائل پر پوری قوت سے آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیاتھا۔سیاسی حلقوں کی مذکورہ اوردیگر باتوں کو یہ کہہ کر زیادہ دنوں تک نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایسی باتیں اقتدار کے لئے کی جارہی ہیں اور سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہتی ہے۔اہم بات یہ بھی ہے کہ خود مذکورہ ذہنیت کے درمیان بھی باتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور نظریات کی بحث چھڑجاتی ہے۔گاہے بہ گاہے مساوات ،انسانیت اور باہمی خیر سگالی کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔خواہ انتخابی حکمت عملی کی مجبوری کےزیر اثر ہی کیوں نہ ہو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش بھی نظر آجاتی ہے اور ان کوششوں کے درمیان نفرت اور تقسیم سے لاتعلقی کی آوازیں بھی بلند ہوجاتی ہیں۔اس کے علاوہ میڈیا، فنون لطیفہ، علم وفن ، فکروفلسفہ سمیت ہمارے سماج کے مختلف حلقوں سے بھی اس طرح کی آوازاٹھ رہی ہے ، بلند ہو رہی ہے۔یہ صورت حال ہندوستانی سماج کی خوبصورتی، کثرت میں وحدت کو بیان کرتی ہے اور امید کے چراغ کی لو کو تیز تر کرتی ہے۔
‘قلم کار اور کاویتری الکاسونی’دنیا میرے آگے:مساوات، خواتین اور معاشرے کے لیے متوازی جدوجہد‘کے عنوان سے۹؍اکتوبر کو روزنامہ جن ستا میں تحریر کردہ اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں کہ ’یہ زمین مختلف قسم کی مخلوقات سے بھری پڑی ہے، جن کی شکل، رنگ اور خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے اور وہ مل کر اس زمین کو خوبصورت بناتی ہیں۔ اس زمین کا اٹوٹ حصہ ہونے کے ناطے ہمارا ملک بھی اس تنوع سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں لوگوں،طبقوں، برادریوں، مذاہب اور فرقوں کا ایک وسیع تنوع ہے اور ان سب کی مختلف رسوم و رواج ہیں۔یہ سب دیکھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوتی ہے کہ کتنی ثقافتیں ایک ہی آب و ہوا میں یکساں جذبہ کے ساتھ سانس لیتی ہیں‘۔انہوں نے یکسانیت، مساوات اور عدم تفریق کی اہمیت کو آنکھوں کی مثال سے واضح کیا ہے۔یہ بہت خوبصورت مثال ہے۔ہم اپنی دونوں آنکھوں کا یکساں طور پر خیال رکھتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک آنکھ کی فکر کی جائے اور دوسری کو چھوڑ دیا جائے۔یا کوئی خاتون ایک آنکھ کو تو سجائے سنوارے اور دوسری کو یونہی رہنے دے۔ جب ہم جسم کے اعضاء میں تفریق نہیں کرتے ہیں تو پھر اپنے سماج کے اعضاء کےدرمیان کیسے تفریق کرسکتے ہیں؟۔تاریخ کا قلم ،سوچنے سمجھنے والا ہرذہن اور انسانیت کا درد رکھنے والا ہردل یہ سوال کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
(umairkoti@gmail.com)
👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍