مذہبی طبقہ کے لئے تجارت کی اہمیت
محمد طاہرخان ندوی
عام طور پر عوام کی ذہنوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی عالم دین ہے یا مسجد کا امام ہے تو انہیں مسجد و محراب تک ہی خود کو محدود رکھنا چاہیے اور مساجد کے ذمہ داران ان کے آگے جو روکھی سوکھی روٹی ڈال دیں بس شکر کے وظیفے پڑھتے ہوئے اسی پر اکتفا کرلینا چاہئے ۔ اگر کوئی عالم دین یا مسجد کا امام کاروبار کی طرف قدم بڑھائے اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارت شروع کرے تو انہیں طعنہ دیا جاتا ہے اور انہیں ایک ( فعلِ حرام ) کا مرتکب سمجھا جاتا ہے ۔ جبکہ شریعت اسلامیہ نے حلال رزق کمانے والوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی روک ٹوک بلکہ حلال کمانے والے کو ” الکاسب حبیب اللہ” کے لقب سے نوازا ہے یعنی حلال کمانے والے اللہ کے محبوب ہوتے ہیں ۔
حلال رزق کمانا ایک عبادت ہے اور اس کے لئے محنت کرنا جد و جہد کرنا اللہ کو محبوب بھی ہے ۔ اگر آپ انبیاء کرام کی زندگیوں کو دیکھیں تو آپ کو یہ بات نظر آئے گی کہ انبیاء کرام بھی تجارت اور زراعت کیا کرتے تھے ۔ حضرت آدم علیہ السلام زراعت یعنی کھیتی باڑی کا کام تھا ۔ حضرت ادریس علیہ السلام سلائی کا کام کرتے تھے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام زرہیں بنایا کرتے تھے ۔ اسی طرح اس کائنات کے آخری رسول جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تجارت کو اختیار فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا سامان تجارت لے کر ملکوں اور علاقوں کا سفر فرمایا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پاٹنرشپ میں بھی تجارت کی ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کی اہمیت بھی سمجھائی اور تجارت کے اصول بھی ۔ آپ نے فرمایا ” التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء ” ایسا تاجر جو اپنی تجارت میں سچا اور امانت دار کل قیامت کے دن اس کا حشر نبیوں ، صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔ اسی طرح ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے چھوٹے بچوں کا پیٹ پالنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے محنت مشقت کرتا ہے وہ اللہ کے راستے میں ہے اسی طرح جو شخص اپنے بوڑھے والدین کا پیٹ پالنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت مزدوری کرتا ہے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے یہاں تک کہ اگر وہ شخص اپنا پیٹ پالنے اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچنے کے لیے محنت مشقت کرتا ہے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے ۔ اسی طرح ایک دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کو جھوٹ ، دروغ گوئی اور خیانت سے روکنے کے لیے فرمایا کہ” التجار يحشرون يوم القيامة فجاراً اِلا من التقىٰ وبرّ و صدق ” کہ تاجر حضرات قیامت کے دن فاجر و فاسق بناکر اٹھائے جائیں گے سوائے ان تاجروں کے جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، نیکی کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں ۔
تجارت یا کاروبار کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک محبوب شئی ہے اگر آپ صحابہ کرام کی زندگیوں کو دیکھیں یا خلفائے راشدین کی زندگیوں کو دیکھیں کہ وہ بھی تجارت کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کپڑوں کی تجارت کرتے تھے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ریشم کی تجارت کرتے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو عرب میں ” رئیس التجار ” کہا جاتا تھا ۔ خلفائے راشدین کے علاوہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جیسے بڑے بڑے صحابہ کرام تجارت کرتے تھے یا زراعت سے منسلک تھے اور انہوں نے اپنی تجارت کو ” دعوتِ دین ” اور ” تبلیغِ دین ” کا ذریعہ بھی بنایا چنانچہ انہوں نے ملکوں کا سفر کیا اور اپنی صداقت ، سچائی اور امانت داری کو اہل دنیا پر پیش کیا جس سے متاثر ہو کر ملک کے ملک اور شہر کے شہر اسلام میں داخل ہو گئے ۔ آج انڈونیشیا ، ملائیشیا ، برونائی اور شری لنکا جیسے ممالک انہی صحابہ کرام کی دینداری ، امانت داری اور تجارت کی وجہ سے مفتوح ہوئے ۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی تجارت کرتے تھے ۔ ان کا اپنا ریشم کا کارخانہ تھا جس میں سینکڑوں مزدور کام کیا کرتے تھے اسی طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی کپڑوں کے بہت بڑے تاجر تھے ۔ اسی طرح ائمہ متقدمین میں ایسے ایسے نام ملتے ہیں جو خاص کر کسی پیشہ یا تجارت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر امام قدوری رحمۃ اللہ علیہ ہانڈیوں کی تجارت کرتے تھے ۔ عربی زبان میں ” قدوری ” ہانڈی کو کہا جاتا ہے اور امام قدوری اسی نام سے پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں ۔ امام ابوبکر جصاص چونے کا کام کرتے تھے ۔ امام بزار غلہ فروش تھے ۔ امام زیات تیل فروش تھے ۔ یہ سبھی حضرات اپنے وقت کے امام بھی تھے اور تاجر بھی تھے ۔ موجودہ حالات میں علماء ، ائمہ کرام اور دینی مدارس میں خدمات انجام دینے والوں کے لیے تجارت کو اختیار کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے ۔ اگر علماء معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو انہیں بہت سارے مسائل سے نجات مل سکتی ہے ۔ وہ اپنی بات کھل کر عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں ۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ غریبوں کی خدمت کر سکتے ہیں ۔ وہ ” ید سفلیٰ ” کی فہرست سے نکل کر” ید علیا ” میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ انہیں صرف زکوٰۃ و صدقات کے مسائل اور حج و عمرہ کے فضائل بتانے اور سمجھانے تک ہی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ وہ خود صاحبِ نصاب ہوں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور حج کی ادائیگی بھی کریں گے ۔ اس لئے آج علماء حضرات کو چاہئے کہ وہ دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ تجارت کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں اور عوامی نکتہ چینی اور طعنوں سے بے فکر ہو کر اپنا کام جاری رکھیں ۔