جمہوریت اور آمریت کی بحث

عمیرکوٹی ندوی

تلخ و تند اظہار اورتبصرہ کا معاملہ نہ پہلا ہے اور نہ آخری،کیا بااثراور کیا بے اثر سبھی سیاست داں اس میں اپنا کردار اداکر رہے ہیں۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے ’آج تک‘ نیوز چینل کے ’اجنڈا آج تک‘ پروگرام میں کہاہے کہ’ ‘اگر ایسا ہوتا ہے کہ چندریان میں گاندھی خاندان کے لوگوں کو بیٹھا کربھیج دیں تو اس سے ملک کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے….. خوشامد کی سیاست، پی او کے مسئلہ، مسئلہ کشمیر، سب حل ہو جائے گا۔ میرے خیال میں گاندھی خاندان کو وی آر ایس دیا جانا چاہیے‘۔ اس سے قبل اسی سال ستمبر میں انہوں نے کہا تھا کہ’ ‘کئی بار لگتا ہے کہ چندریان میں گاندھی خاندان کے افراد کو بیٹھا کر کہیں اور بھیج دیں‘۔ اس بیان کو کیا کہیں گے اور کس خانہ میں ڈالیں گے۔ یہ محض اظہار رائے نہیں ایک سوچ ہے، ایک ذہنیت ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اسے چھپانے کی کوشش تو کیا اس وقت تو قصداًاس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس اظہار کا مقصد ظاہر ہے کہ ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی انتخابات میں میدان مارنا اور اس کے لئے ہر حد سے گزر جانا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے بسوا سرما نے یہ بھی کہا کہ ’وہ سوشل میڈیا پر گنتے ر ہیں، ہم ای وی ایم پر گنتے ر ہیں گے‘۔

اس وقت میڈیا کے سامنے ایک اور رائے کے اظہارکا معاملہ بھی ہے۔دراصل شیوسینا کے لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ میں تحریر کردہ اپنے مضمون میں اپنی ایک رائے کا اظہار کیا تھا۔اس پر سخت ردعمل کے اظہار کے ساتھ ہی مقدمہ بھی درج کرادیا گیا۔بی جے پی کے یوتمال کنوینر نتن بھوٹاڈا نے’ ‘سامنا‘ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر راؤت کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔بی جے پی لیڈر نتن بھوٹاڈاکے مطابق مضمون میں لکھا گیاہے کہ’ اگر کانگریس مدھیہ پردیش، راجستھان میں جیت جاتی تو پی ایم مودی۲۰۲۴ء سے پہلے کچھ بڑا کرتے‘۔ اسے ایک رائے، اندازہ، تجزیہ یا الزام جوبھی کہیں، اس سے اختلاف ہوسکتا تھا، کسی کوبھی ہوسکتا تھا اور کیا بھی جانا چاہئے،لیکن کیا یہ ملک سے غداری،مذہب، ذات، جائے پیدائش، رہائش، زبان کی بنیاد پرمختلف طبقوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، نفرت یا بد نیتی کو پیدا کرنے یا اسے فروغ دینے کے زمرے میں آتا ہے؟۔

ممکن ہے کہ آتا ہو، تب ہی تو مہاراشٹرپولیس نےیوتمال کے عمرکھیڈ پولیس اسٹیشن میں ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۲۴ (اے) (غداری)،۱۵۳ (اے) (مذہب، ذات، جائے پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پرمختلف طبقوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے)، ۵۰۵ (۲) (مختلف طبقوں کے درمیان دشمنی ، نفرت یا بد نیتی پیدا کرنے یا اسے فروغ دینے والے بیانات) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس پرممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت نے ردعمل کا اظہار کیا، کہا کہ ’کچھ دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پر تبصرہ کیا تھا ۔ کیا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا….. آپ بھول گئے ہیں کہ ہمارے ملک میں جمہوری نظام ہے اور بہت سے لیڈر بیانات دیتے ہیں۔ اگر لوگ ایسا کرتے ہیں توکیا ان کے خلاف مقدمات درج کروائیں گے؟….. ایسا کرنے پر یہ بات ذہن میں رہے کہ پھر انہیں یہ کہنے کا قطعی حق نہیں ہوگا کہ انہوں نے ایمرجنسی کے خلاف جنگ لڑی تھی‘۔

تلخ و تند اظہار اورتبصرہ کا معاملہ پہلا نہیں ہے اور موجودہ روش کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی ہے کہ آخری بھی نہیں ہوگا۔حالیہ برسوں میں برسراقتدار نظریہ سے قریب ودور کا رشتہ رکھنے والے ، موقع کا فائدہ اٹھانے والے، ذمہ دارانہ منصب اور اعلیٰ عہدوں پر فائز، نظریہ ساز، بااثر اور بے اثر، حتی کہ اقتدار سے محروم سیاست داں ، سبھی اس میں اپنا کردار اداکر رہے ہیں۔ گرما گرم بیانات اور آراء کے اظہار کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو رہا ہے۔اس کے نتیجہ میں حالیہ برسوں میں ملک کی سیاسی فضا جس قدر مسموم ہوئی شائد کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس اعتبار سے یہ ملک کی سیاست ہی نہیں تاریخ کے لئے بھی بہت اہم ہے اور اسے تاریخ اپنے ریکارڈ میں محفوظ رکھے گی۔وہ یہ بھی یاد رکھے گی کہ اس مسمومیت کے نتیجہ میں سیاست نے بہت سی چیزوں کو داؤ پر لگا دیا۔کس قیمت پر یہ بھی یاد رکھا جائے گا اور یہ بھی کہ ایسا کرتے وقت لوگوں کواس بات کاذرہ برابر بھی خیال نہ رہاکہ’ ہمارے ملک میں جمہوری نظام ہے‘۔

یہی بات ڈی ایم کے ممبر پارلیمنٹ کنی موجھی نے بھی کہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’بی جے پی جانتی بھی ہے کہ جمہوریت کیا ہے؟‘۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ ‘میں نہیں جانتی کہ (پارلیمنٹ میں سیکورٹی لیپس پر حکومت سے) وضاحت طلب کرناغیر قانونی طرز عمل کیسے بن گیا‘۔ کانگریس صدر ملکا رجن کھڑگے نے کہا کہ ’یہ آمریت کے رنگ کو ظاہر کرتا ہے جو موجودہ نظام کی شناخت ہے‘۔سی پی آئی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے اس عمل کو جمہوریت کا قتل قرار دیا۔مزید کہاکہ ’بی جے پی کے جس رکن پارلیمنٹ نے پاس جاری کیا تھا،اس سے کوئی بھی سوال نہیں کیا گیالیکن وزیر اعظم مودی سے سوال پوچھنے والے اپوزیشن کے ۱۵؍اراکین کو معطل کردیا گیا‘۔

پارلیمنٹ میں سیکورٹی لیپس کا معاملہ بہت سنگین ہے اور اس پر چہار جانب سے ڈھیروں سوالات ہو رہے ہیں لیکن جواب کسی کانہیں اور نہ دیا جارہا ہے۔ عرصہ ہوا میڈیا سے کلام بھی بند ہے اور میڈیا کی زبان بھی بند ہے۔ نوبت سوال کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں ایوان سے باہر کردئے جانے تک آپہنچی لیکن پاس جاری کرنے والے ممبر پارلیمنٹ کے معاملہ میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ خیریہ سیاست کا معاملہ ہے، اسے سیاست ہی جانے، پر عدلیہ اپنے فرض کی طرف متوجہ ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس سنجے کشن کول نے کہا کہ’ ایسے وقت میں جب بین الاقوامی سطح پر رواداری کی سطح گر گئی ہے، لوگوں کو ایک دوسرے کی رائے کو برداشت کرنا چاہیے….. پورا معاشرہ ایک ایسے نظام میں کام کرتا ہے جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کی رائے کے لیے روادار ہونا چاہیے….. اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی نسلیں ایک دوسرے کے ساتھ اور اس دنیا کی دوسری نسلوں کے ساتھ رہنا سیکھیں، تاکہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگی قائم کر سکیں اور دنیا چھوٹی نہیں بلکہ ایک بڑی جگہ بنی رہے‘۔اسی طرح مدراس ہائی کورٹ نے تمل ناڈو پولیس کے ذریعہ کسی عام مجرمانہ فعل اور قتل کی سازش کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دینے اور یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کرنے پر سوالیہ نشان لگا دیا۔عدالت نے ملزم آصف مستحین کی ضمانت عرضی منظور کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال قابل بحث ہے کہ کیا ہندو مذہبی رہنماؤں کے قتل کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا جا سکتا ہے؟۔

ہمارے ملک میں جمہوری نظام ہے، اس بات کو اہل سیاست اور ارباب حل وعقد کیوں بھول گئے یاانہوں نے اسے کیوں فراموش کردیا یہ تو وہی جانیں لیکن ہمارے ملک کی عدلیہ نہیں بھولی ہے ۔دباؤ کی کوشش کو نکارتے ہوئےوہ سیاست کی بھی سرزنش کرتی ہے اور پولیس وانتظامیہ کی بھی خبر لیتی ہے۔متعدد مواقع پر اظہار رائے پر عدالت نے اپنی رائے پیش کی ہے، اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ کیا ہے اور بے لگام اظہار کی سرزنش کی ہے۔اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ ملک کے عوام بھی نہیں بھولے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہمارا ملک جمہوری ہے اور جمہوریت میں اقتدار کی لڑائی میں سیاست اور پارٹیاں ہارتی یا جیتتی ہیں ، عوام نہیں ہارتے ،وہ ہمیشہ جیتے ہیں اور ہر حال میں پر امید رہتے ہیں اس لئےکہ امید پہ دنیا قائم ہے۔(umairkoti@gmail.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں