حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی (٢)
#معاشی استحکام اور قرآن#
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصود یہی ہے کہ بندے بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی پر لگایا جائے، تو وہیں دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت اور فراخی کی طرف رہنمائی کی جائے، یہ عجیب بات ہے کہ اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت کی طرف لے جانا قرار دیا، یہ جامع تعبیر ہے، اسلام کی حقانیت، اس کی ابدیت اور فطرت سے ہم آہنگی کی علامت ہے، ایسا نہیں ہے ایک شخص دین کی اتباع کرے اور دنیا تباہ کرتا چلائے، دنیا اور دین دونوں کے سلسلہ میں حسن انجام کی دعا ایک مومن کا حصہ ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد دعائیں سکھائی ہیں جن میں ان دونوں پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے، آخر ایسا کیوں نہ ہو؟ دین پر عمل کا یہ مطلب کیسے لیا جاسکتا ہے کہ ایک انسان گھٹ گھٹ کر زندگی گزارے، اسے کسی قسم کا قرار نہ ہو، وہ سکون و طمانینت سے محروم ہو، رب ذوالجلال کی عبادت اسے روحانی اعتبار سے تقویت پہنچائے؛ لیکن روزہ مرہ کی زندگی میں پائی پائی کا محتاج ہو تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا، انسان کی پیٹھ سیدھی ہونی ضروری ہے، جو پیٹ کے سیر ہونے سے ہوتی ہے، اسلام کی سربلندی، اقمات دین اور خلافت کی خاطر یہ امر ناگزیر ہے کہ معاشی استحکام بھی ہو، اسلام نے اسے کتنی اہمیت دی؟ اس کیلئے قرآن مجید کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جگہ جگہ اللہ تعالی معاش کو انسانی زندگی کا مدار قرار دیا ہے:وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ (اعراف:١٠) “( اے لوگو ! ) ہم نے تمہیں زمین میں بسایا اورتمہارے لئے اس میں زندگی کے اسباب فراہم کردیئے ، (۱) ( پھر بھی ) تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو” – – سورہ حجر میں ہے:وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْھَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ،وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ،وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (حجر:١٩ – ٢١) اور زمین کو ہم نے پھیلادیا ہے ، اس میں پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہر چیز ایک مناسب مقدار میں اُگائی ہے ، اور ہم نے اس میں تمہارے لئے بھی اور ان چیزوں کے لئے بھی جن کو تم روزی فراہم نہیں کرتے ، روزی کا سامان مہیا کردیا ہے ، اور جتنی بھی چیزیں ہیں ، ہمارے پاس ان کے خزانے موجود ہیں ، ہم ان کو ایک مقررہ مقدار کے مطابق اُتارتے رہتے ہیں.”
قوموں کی تباہی کو معیشت سے جوڑ کر فرمایا گیا:وَ كَمْ اَھْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُھُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِھِمْ اِلَّا قَلِیْلًا ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ (قصص: ٥٨)” اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جن کو اپنے سامان عیش و عشرت پر ناز تھا ، ہلاک کردیا ، اب یہ ان کے گھر ہیں ، جو اُن کے بعد بہت کم ہی آباد ہوسکے اور (آخر ) ہم ہی ان کے وارث بنے”، اسی طرح سورہ طہ میں ہے:وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰی(طہ: ١٢٤)” اور جو میری نصیحت سے بے رُخی برتے گا تو اس کے لئے تنگی و پریشانی والی زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اُٹھائیں گے”، سورہ زخرف کی یہ آیت بے حد اہم ہے، جس میں معاشی ترقی و تنزلی، درجات اورمعیارات کی بات کہہ کر اسے رب العالمین کی جانب منسوب کردیا گیا ہے، ارشاد فرمایا گیا:وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ، اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(زخرف:٣٢) “اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں ( مکہ اور طائف ) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اُتارا گیا ؟ کیا آپ کے پروردگار کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ ہم نے ان کے درمیان ان کی دنیوی زندگی کی روزی تقسیم کر رکھی ہے اور ایک کو دوسرے پر کئی درجہ فوقیت عطا کی ہے ؛ تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لیتے رہیں اور آپ کے پروردگار کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے ، جو یہ سمیٹتے پھر رہے ہیں ۔” – – اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فقیہ العصر، حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ رقمطراز ہیں:” اہل مکہ کا ایک نامعقول مطالبہ یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو نبی بناناہی تھا تو مکہ اور طائف کے کسی بڑے سردار پر قرآن کیوں نہیں اُتارا گیا ؟ بعض مفسرین نے مکہ اور طائف کے بعض سرداروں کے نام بھی ذکر کئے ہیں کہ لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر نبی ہونا ہی تھا تو ان کو ہونا چاہئے ، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ نبوت و رسالت تو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اللہ اس کے مالک ہیں ؛ لیکن یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی تقسیم اپنی مرضی سے نہ کریں ، اِن لوگوں کی مرضی سے کریں ، کوئی بھی سمجھ دار شخص اس بات کو قبول نہیں کرسکتا کہ کوئی چیز ہوتو آپ کی ملکیت ؛ لیکن اس کو تقسیم کرنے لگیں دوسرے لوگ ، یہ ایسے ہی ہے جیسے تم مال و دولت کو دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی کو زیادہ دے دیتے ہیں اور کس کو کم ، یہ اللہ کی مرضی ہے اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اگر سارے کے سارے لوگ دولت و ثروت کے لحاظ سے برابر ہوجائیں تو کوئی دوسرے کی خدمت کرنے والا اور ایک دوسرے کا کام کرنے والا نہ رہے اور زندگی کا پورا نظام معطل ہوکر رہ جائے ، اخیر میں فرمایا گیا کہ ان کو مال و دولت پر ناز ہے اور یہ اسی کو بڑا سمجھتے ہیں ، جس کے پاس مال و اسباب ہوں ، مگر نبوت و ہدایت اللہ کی ایسی نعمت ہے ، جو ان نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہے ” (دیکھئے: آسان تفسیر قرآن مجید)
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
03/01/2024