حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی (٤)
معاش اور نبی کریم ﷺ کی دعائیں
(١). ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جب میں اپنے رب سے دعا کروں تو کیا کہا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي. “اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما” – – – – – – اس کے بعد آپ ﷺ نے انگوٹھے کو نکال کر باقی چار انگلیوں کو بند کرکے فرمایا: یہ چیزیں تمہاری دنیا و آخرت کو جمع کرنے والی ہیں۔(صحيح مسلم:2697)
(٢) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ نماز فجر سے سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا. “اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبولیت والے عمل کی دعا کرتا ہوں”۔(سنن ابن ماجہ:925)
(٣) حلال رزق کیلئے خصوصی دعا کرنی چاہیے، انسان پنا پیٹ بھر لیتا ہے؛ لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ رزق اللہ کی جانب سے طے ہے، اگر وہ حلال کی کوشش کرے اور حرام سے پناہ مانگے تو زیادہ بہتر زندگی اور آخرت سنوار سکتا ہے، مثلاً حلال و طیب رزق کی دعا مانگتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سکھائے: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ. “اےاللہ! تو مجھے اپنی حلال کردہ چیز کے ذریعے اپنی حرام کردہ چیز سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل کے ذریعے اپنے علاوہ سب سے بےنیاز کردے۔” (جامع ترمذی:3563)
(٤) ایک مومن لالچی نہیں ہوتا، حرص اس کے شایان شان نہیں ہے، چنانچہ رزق کے سلسلہ میں بھی حد سے زیادہ حریص اور ضرورت سے زیادہ طمع نہیں رکھتا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ مومن کو چاہئے کہ وہ قوت لا یموت یعنی ضرورت کے مطابق رزق کی دعا کرے، ارشاد فرمایا: اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَيْتِي قُوتًا. “اے اللہ! میرے گھر والوں کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں” ۔(بخاری:6460/مسند احمد:7173)
(٥) رزق حلال کے حصول پیش آنے والی مصیبتوں اور مشکلوں سے بچنے اور خود کو اپنے مشن پر لگائے رکھنے کیلئے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے، ظاہر ہے کہ اس دنیا میں پیٹ کا مسئلہ بے حد پیچیدہ اور سنگین ہوتا ہے، انسان غم روزگار میں تل تل مرتا ہے، ایسے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سے ثابت شدہ پریشانی یا تکلیف کے موقع پر یہ دعا پڑھے:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ يَقُولُ : ( لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ) .
رواه البخاري ( 5985 ) ومسلم ( 2730 )
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَانْكَفَأَ الْمُشْرِكُونَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوُوا حَتَّى أُثْنِيَ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ» ، فَصَارُوا خَلْفَهُ صُفُوفًا، فَقَالَ:
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُكُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ. اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَالنَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ، وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْحَرْبِ، اللَّهُمَّ عَائِذًا بِكَ مِنْ سُوءِ مَا أَعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَ مِنَّا.
“اے اللہ! تیرےلیے ہی سب قسم کی تعریف ہے، اے اللہ! جو تو پھیلا دے اسے کوئی سمیٹنے والا نہیں ہے، جو تو دور کردے اسے کوئی نزدیک کرنے والا نہیں، جسے تو نزدیک کردے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے، جس سے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور جسے تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔اے اللہ! ہم پر اپنی برکات، اپنی رحمت، اپنے فضل اور اپنے رزق کو پھیلا دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمتیں مانگتا ہوں جو ہمیشہ قائم رہیں نہ (تیری اطاعت میں) حائل ہوں اور نک زائل ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے تنگی کے دن کی نعمت اور جنگ کے دن کے امن کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! تیری پناہ میں آتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو تو نے عطا کی اور اس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روک لی”۔(الادب المفرد للبخاري:699)
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي، وَبَارِكْ لِي فِي رِزقِْى.
اے اللہ! میرے گناہ معاف کردے، میرے گھر میں وسعت پیدا کردے اور میرے رزق میں برکت دے۔(صحيح الجامع الصغير للالباني:1266). – – جاری
✍️ محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043