تعلیم سے محرومی ہرخیرسےمحرومی

تعلیم سے محرومی، ہر خیر سے محرومی ہے۔ کتاب سے دوری، ہر اچھائی اور نیکی سے دوری ہے، اس آدمی پر آسمان سے اتاری جانے والی نوازشوں کے دروازے بند ہیں جس نے تعلیم سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ سماج میں ایسے لوگوں کا کوئی مقام نہیں جنہوں نے خود کو تعلیم کے حصول سے محروم رکھا ہوا ہے۔ ایسے لوگ، سماج اور معاشرے کے لئے پریشانیوں کا باعث بن جاتے ہیں جو تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔
اور تعلیم سے محرومی کیا ہے ؟؟ یہ انسانیت کا عظیم ترین نقصان ہے، ایک بچہ ماں کے پیٹ سے آدمی کی شکل میں پیدا ہوتا ہے، اس دنیا میں صرف اسے آدمی ہی بن کر نہیں رہتا ہے، بلکہ اسے اپنے آدمی ہونے کے اعلیٰ ترین درجہ پر پہنچا کر انسان بننا ہے، اور تعلیم اور کتا بیں ہی کسی بھی آدمی کو انسان بناتی ہیں، تعلیم سے انسانیت کا بول بالا ہوتا ہے، یہ تعلیم ہی ہے جو ملکوں پر حکومت کرنے والے حکمرانوں کو وجود میں لاتی ہے، علم، نبیوں کی میراث ہے، اس سے محرومی یقینا ہر خیر اور بھلائی سے محرومی ہے، ایک تعلیم یافتہ قوم، ساری دنیا کے لئے قابل رشک ہوتی ہے۔ وہ اس قابل ہوتی ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اس کی تقلید کی جائے، اس کی رہبری قبول کی جائے، اس کی اطاعت کی جائے تعلیم سے محروم شخص، زمین و آسمان کے ہر خیر سے محروم کہلانے کا مستحق ہے۔ اس قوم نے دنیا پر راج کیا، ساری دنیا کو سحر کیا، ساری دنیا کو اپنی اطاعت کرنے والا بنالیا، جس نے اپنے اندر تعلیم یافتہ افراد کی پودا گائی، جس نے کتابوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے۔
جس نے خود کو علم کے حصول کے لئے زندگیاں وقف کر ڈالیں۔ لہٰذا ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے گھروں کو درسگاہ میں تبدیل کر دیں، ہمارے ہر بچے کےہاتھ میں موبائیل کی بجائے کتاب ہو، کتابوں کے حروف ان کی غذا ہو، کتابوں کی ورق گردانی ان کا محبوب مشغلہ ہو۔ کاش کہ ایسا ہو جائے تو یہ زمین، ملک وملت کے لئے فائدہ مند مسلمانوں سے آباد ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں