مسلم رہنماؤں کی رہنمائی

فیاض قریشی

مسلمان سیاستدانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ چاہے کسی پارٹی میں ہوں، جب تک وہ اس پارٹی میں اپنے لئے کوئی مقام نہیں بنا لیتے، وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبودی، ہمدردی، تحفظ اور حقوق کی بات بہت ہی زور وشور کے ساتھ پر جوش ہو کر کرتے ہیں۔ جونہی اس پارٹی میں مقام حاصل کر لیتے ہیں، وہ مسلمانوں کے نمائندہ نہیں، بلکہ پارٹی کا نمائندہ بن کر بات کرتے ہیں۔ بسا اوقات ایسے دل آزار یانات دیتے ہیں، جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، ایسے سیاسی مسلمانوں کے ہاتھوں ہندوستان میں مسلمانوں کی عزت و آبرو، زبان وتہذیب اور حقوق کی حفاظت ایسے ہی ہے جیسے بکریوں کی حفاظت بھیڑیوں کو سونپ دی جائے ۔ ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں پر بے انتہا ظلم اور زیادتیاں ہوئیں، مذہبی تقدس پر آنچ آئی، عظمت کا نشان گرا، یعنی بابری مسجد ڈھا دی گئی۔ مگر مسلمان سیاست دانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ پارٹی یا اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا تو دور رہا، اس کے برعکس پارٹی اور عہدے سے وفاداری کے ایسے ثبوت مہیا کئے کہ پارٹی ان کے سیکولرزم سے متاثر ہو کر انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے لگی۔ آج ہندوستان میں سیکولر مسلمان کے معنی یہی رہ گئے ہیں کہ وہ اسلام بیزار ہو، شریعت میں خامیاں نکالے اور وقت آنے پر مسلم مسائل سے متعلق چپ سادھ کر اپنے آقاؤں کو خوش کرے۔ اپنے عہدہ کی حفاظت کرلے۔ اس بدترین صورتحال سے مسلمان کس طرح نمٹے ؟
آج اس ملک میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ اور سب سے بڑا سوال یہی ہے۔ اب رہی مسلمانوں کے لئے مذہبی رہنمائی کی بات۔ یہاں تو حالت مزید بدتر ہے، مذہبی رہنماؤں نے اسلام کو جاہل بھائیوں کا ایک گھر بنا دیا ہے، جن کے شر اور لڑائی جھگڑوں سے پڑوسی تک پناہ مانگتے ہیں۔ عقیدہ اور مسلک سے متعلق ایسے حالات پیدا کر دئے جاتے ہیں کہ عام مسلمان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اسلام کیا ہے اور ان سے کیا تقاضے کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عقائد میں الجھ کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ چنانچہ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مسجدوں کے اندر لڑائی جھگڑے مسجدوں پر پولس کے پہروں کے درمیان نماز ایک عام بات ہو کر رہ گئی ہے، مجھے چند سال پیشتر کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو میرے اور مرحوم ابراہیم خلیل الله خان صاحب ، سابق پرنٹر پبلیشر ، روز نامہ سالار کے ساتھ پیش آیا۔ حیدر آباد کی ایک مسجد میں ہمیں جمعہ کی نماز ادا کرنے کا اتفاق ہوا، وہاں پر جمعہ کا خطبہ کیا تھا، ایک رکیک حملہ تھا۔ خطیب صاحب اپنے عقیدت مندوں سے کہہ رہے تھے کہ مسجد میں اگر ایسا کوئی شخص آگیا ہے جو ہمارے عقیدے اور مسلک سے اختلاف رکھتا ہو تو اسے دھکے دے کر بھگا دیا جائے۔ جب معلوم ہوگا کہ ایسا شخص اس مسجد میں آکر چلا گیا ہے تو اس مسجد کو تین مرتبہ پاک پانی سے دھود دیا جائے۔ بعد میں مرحوم نے انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہا تھا: ” فیاض، یہ ہمارے لئے کتنے دکھ اور پریشانی کی بات ہے کہ ایسے نوجوان خطیب سے جو پر جوش ہے اور اپنے اندر بے پناہ تقریری صلاحیت رکھتا ہے، اس سے مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے نہیں بلکہ نفاق کے بیج بونے، انتشار پھیلانے اور اشتعال دلانے کا کام لیا جا رہا ہے“۔
آج اس ملک میں مسلمان کمزور ہو رہے ہیں تو یقیناً اس کی ذمہ داری مذہبی رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسپین میں جب مسلمانوں پر مذہبی رہنماؤں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تو وہاں کی سیاست اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہو گئی۔ نہ صرف وہاں سے مسلمانوں کا وجود ختم ہوا بلکہ اسلام کو بھی دیس نکالا مل گیا۔ ترکی میں جب مذہبی قیادت کمزور ہوئی تو مصطفیٰ کمال جیسی شخصیت کو عروج حاصل ہوا۔ اس نے اسلام پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ آج تک ترکی میں اسلام سنبھل نہ سکا۔ آج ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ مذہبی قیادت کمزور اور منتشر ہے تو سیاسی قیادت خود غرض اور نکمی۔ سوال یہ ہے کہ اب اس ملک میں مسلمانوں کو کون سنبھالے ان کی صحیح قیادت کون کرے؟
جب تک کہ اس سوال کا جواب نہیں ملتا، اس ملک میں ہمارا سنبھلنا مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے۔ یقیناً آج حالات ایسے ہو گئے ہیں، جہاں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں مسلم رہنماؤں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جناب سید حامد صاحب جیسے دانشوروں کو، جن کی آج بھی ملک میں کمی نہیں، مسلم رہنماؤں کی رہنمائی کے لئے آگے بڑھنا ہے۔ ورنہ حالات صاف اشارہ کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ مسلم قیادت پر تکیہ کیا گیا تو یہ قیادت اس ملک میں مسلمانوں کے لئے جو کچھ بر پا کرے گی وہ قیامت سے کم نہیں ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں