سلطان صلاح الدین ایوبی اور بیت المقدس

قسط-1

ایک گمشدہ لعل کو پھر سے پا کر سطوت اسلامی کی تاج میں جوڑ نا چھوٹی بات نہیں۔ مسجد اقصیٰ کے اس مقدس مقام کو جہاں سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا شرف پایا تھا ، پھر سے اغیار کے ہاتھوں سے چھین کرشان اسلام میں چار چاند لگانا اعجاز سے کم نہیں۔ حضرت عمر کے اس سحر انگیز منظر کو نہ دل سے بھلا دیا جا سکتا ہے، جب کہ آپ نے اپنے غلام کو اونٹ پر بٹھا کر خود نکیل سنبھالے شہر میں داخل ہو کر بیت المقدس فتح کیا تھا اور نہ اس شجاعت کو دل و دماغ سے مٹایا جاسکتا ہے جبکہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بزور شمشیر کھوئے ہوئے قبلہ اول کو پھر سے مسلمانوں کے ہاتھ تھمایا۔ تاریخ کے صفحوں نے شجاعت و بہادری کے ہزار ہا نمونے پیش کئے ہیں مگر صلاح الدین ایوبی کے کارناموں کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ ساری دنیا کے عیسائیوں کے خلاف نبرد آزما ہونا، انہیں شکست فاش دینا اور نصرت و ظفر یابی کے بعد فتح بیت المقدس کو فتح مکہ کا نمونہ بنانا ، آسان کام نہیں تھا۔ یہ تیسری صلیبی جنگ فیصلہ کن جنگ تھی۔ جس کے بعد بیسویں صدی تک کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس سرزمین کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد صحیح ہے کہ صلاح الدین ایوبی کی ذات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل معجزہ اور اسلام کی صداقت و ابدیت کی روشن دلیل ہے۔

سلطان صلاح الدین ایک متوسط درجہ کے کرد خاندان سے تھے۔ عراق اور ترکی کا درمیانی علاقہ آج بھی کردستان کہلاتا ہے۔ آپ کے والد کا نام نجم الدین ایوب تھا۔ اسی نسبت سے سارا خاندان ایوبی کہلایا گیا۔ ان کے والدین مشرقی آذربائجان کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ اس کا تعلق کردوں کی ایک بہت بڑی شاخ سے تھا جو روادیہ ” کہلاتی تھی۔ ان کے دادا کے زمانہ میں یہ خاندان
آذر بیجان سے بغداد منتقل ہو گیا۔ یہ زمانہ سلجوقیوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ نجم الدین ایوب عماد الدین زنگی سے متعلق ہو گئے اور ایک قلعہ کے محافظ بنا دئے گئے ۔ صلاح الدین کی ولادت ۱۱۳۸ء میں بمقام تکویت ہوئی۔ ان کی ابتدائی زندگی سے کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ یہ بیت المقدس کے فاتح اعظم بنیں گے۔ عالم اسلام کے محافظ ثابت ہوں گے۔ تاریخ ساز کارنامے انجام دیں گے۔ نواب حیدر علی خان بہادر کی طرح سلطان صلاح الدین کا آغاز بھی خاندانی سپاہی کی حیثیت سے ہوا۔ ایک خاموش شریف النفس انسان کی طرح انہوں نے اپنی زندگی کی ابتداء کی۔ سترہ سال کی عمر میں صلاح الدین اپنے والد کے ساتھ نورالدین زنگی کے دربار میں آئے۔ یہ صلیبی جنگوں کا زمانہ تھا۔ پطرس نامی ایک راہب نے اپنی جادو بیانی سے ساری کی دنیا میں ایک آگ لگادی تھی ۔ ۴۹۲ ھ (1099) میں صلیبی حملہ آورووں نے بیت المقدس فتح کر لیا اور خون کی ندیاں بہا دیں۔ ایک مسیحی مورخ لکھتا ہے صلیبی مجاہدین نے ایسا قتل عام مچایا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان صلیوں کے گھوڑے جس پر سوار ہو کر وہ مسجد عمر گئے ، گھٹنوں گھٹنوں خون کے چشمے میں ڈوبے ہوئے تھے بچوں کی ٹانگیں پکڑ کر ان کو دیوار سے دے مارا گیا ان کو چکر دے کر فصیل سے پھینک دیا گیا۔ مردوں عورتوں اور بچوں کے جسم ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دئے گئے۔ عالم اسلام کے لئے یہ ایک نہایت ہی نازک زمانہ تھا۔ سلجوقی خانہ جنگی میں غرق تھے۔ عباسی خلیفے برائے نام تخت نشیں تھے۔ اقتدار ترکوں کے ہاتھ تھا۔ وہ عیش کی طرف مائل تھے۔ مغربی حریفوں کے لئے راستہ ہموار تھا۔ ان مایوس کن حالات میں امید کی ایک کرن پھوٹی۔ عمادالدین زنگی کی صورت میں ایک نیاستار اطلوع ہوا۔ زنگی نے عراق و شام میں اپنی طاقت مضبوط کر لی۔ دوسری صلیبی جنگ جب شروع ہوئی تو عمادالدین زنگی نے ۱۱۴۴ء میں مغربی حملہ آوروں کے دانت کھٹے کر دئے ۔ الرہا جو عیسائیوں کا سب سے مضبوط مقام تھا قبضہ کر لیا۔ عرب مورخین کے الفاظ میں یہ فتح الفتوح تھی۔ گردش کی چکر ۱۱۴۶ء میں عمادالدین کو ایک غلام نے قتل کر دیا۔ مگر شہادت سے پہلے زنگی نے جہاد کی شاندار ابتداء کر دی تھی۔ اس ابتداء کو نکتہ عروج تک لے جانے کیلئے دو عظیم ہستیوں کی ضرورت تھی۔ ان میں ایک کا نام نور الدین محمود زنگی تھا اور دوسرے کا صلاح الدین ایوبی نور الدین عماد الدین سے بھی زیادہ بہادر ثابت ہوا۔ اور صلاح الدین توکمال ہی کر دیا۔ نور الدین نے تقریبا فلسطین کے پورے علاقہ کو مغربی حملہ آوروں سے صاف کر دیا۔
مگر بیت المقدس فتح نہ کر سکا۔ یہ سعادت صلاح الدین کی قسمت میں لکھی گئی تھی۔ صلاح الدین کی شہرت کا آغاز اس وقت سے ہوا کہ جبکہ وہ اپنے چا شیر کوہ کے ساتھ مصر کی مہم میں شریک تھے۔ صلاح الدین نے یہاں اپنی بہادری کے خوب جو ہر دکھائے۔ سارا مصر فتح کر لیا گیا۔ فاطمی خلافت ختم کر دی گئی ۔ عباسیہ خلافت کا پرچم مصر میں پھر لہرانے لگا۔ شیعہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ۱۱۷۴ء میں جب نوار الدین زنگی کا انتقال ہوا تو صلاح الدین نے مصر میں اپنی خود مختارانہ ریاست قائم کرلی۔ فتوحات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ ملک شام کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ یمن و حجاز بھی ہاتھ آگیا۔ صلاح الدین نے اپنی ریاست کو اس قدر وسعت دی کہ ۱۱۷۵ء میں عباسیہ خلیفہ مستعدی نے صلاح الدین کو مصر ہی نہیں بلکہ شمالی آفریقہ کے صوبوں سے لے کر شام، فلسطین ، حجاز و یمن کا سلطان قرار دے دیا۔ سپہ سالاری سے صلاح الدین سلطان بن گیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی علاقوں پر بھی اس نے اپنا قبضہ جمالیا ۔ دس برس کے اندر اس کا اقتدار مراقش سے یمن تک پھیل گیا۔ اب اس کے حریف عیسائی رہ گئے تھے۔
صلاح الدین کے ضمیر میں شروع سے ایک خلش باقی رہ گئی تھی۔ انہیں جہاد سے عشق تھا۔ جہاد کی لگن ان کے رگ وریشہ میں سما چکی تھی۔ یہی ان کا موضوع گفتگور ہتا۔ اسی کی تیاری میں ہر وقت مشغول رہتے ۔ اس کے اسباب و علل پر غور کرتے رہتے ۔ اسی مطلب کے لوگوں سے ان کی آشنائی رہتی۔ اس کا ذکر ہمیشہ کرتے رہتے ۔ اس کی ترغیب دوسروں کو بھی دیتے۔ جہاد فی سبیل اللہ ان کا مسلک بن گیا تھا۔ رزم و پیکار سے والہانہ عشق کی وجہ خیمہ کی زندگی ان کا اصول بن گیا تھا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد بیت المقدس کو اغیار کے ہاتھ سے چھینا ان کا نصب العین بن گیا تھا۔

اقتدار پر آتے ہی اپنی توجہ مسیحی طاقتوں کے خلاف مبذول کر دی ۱۱۸۷ء میں ان پر دھاوا بول دیا۔ صرف چھ دن کے محاصرہ سے انکا ایک مضبوط قلعہ طبریہ (Tiberias) فتح کر لیا۔ اس کے بعد فتح پرفتح نصیب ہونے لگی۔ عیسائیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگوں کی تیاری شروع کر دی۔ صلیبی جنگوں کی وجہ حج کا راستہ بھی محفوظ نہ رہا تھا۔ عالم اسلام کا امن وامان خطرے میں پڑ گیا تھا۔ خلافت عباسیہ اس قدر کمزور
ہو چکی تھی کہ قبلہ اول کو بھی نہ بچا سکی تھی۔ صلاح الدین کی ابھرتی ہوئی طاقت سے فرنگی گھبرا گئے۔ وہ بجا طور پر اسے یروشلم کے لئے ایک خطرہ سمجھنے لگے۔ فرانس، جرمنی، انگلستان قسطنطنیہ اور پاپائے روم سے فوری مدد کے لئے ایلچی روانہ کر دئے۔ قسطنطنیہ کی طرف سے ایک فوجی بیڑا اور اٹلی کی طرف سے ایک امدادی فوج حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے ۔ قاہرہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ صلاح الدین نے ان کے سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور انہیں ہتھیار ڈال دینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے سال صلاح الدین نے فلسطین پر یلغار کر کے رملہ اور عسقلان تک پیش قدمی کر لی۔ پھر بحرہ قلزم کی بندر گاہ ایلت کی تسخیر کی تیاری کی اور اس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بالڈون (Baldwin) چہارم صلاح الدین کے خلاف مقابلہ کے لئے آکھڑا ہو گیا۔ مگر صلاح الدین کے حملہ کی ن دیگر مسیحی حکمرانوں کی . مدد کے لئے ا مدد مانگنے لگا۔ رینالڈ اس کی مدد – تاب نہ لا سکا۔ ۔ پیچھے ہٹ گیا۔ بالڈون دیکا آپہنچا۔ صلیبی جنگ پھر تیز ہوگئی ۔ صلاح الدین نے اپنی کثیر فوجوں کو اکھٹا کیا۔ رملہ کے قریب دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ صلاح الدین نے ۱۱۷۹ء میں مرج العیون کے مقام پر بالڈون کو زبردست شکست دی۔ متعدد فرنگی قید کر لئے ۔ بالڈون صلح کی بھیک مانگنے لگا۔ دو سال کے لئے صلح کا معاہدہ طے ہو گیا۔
جاری۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں