فتح بیت المقدس
تیسری قسط:
حطین کی فتح کے بعد وہ مبارک موقع جلد آ گیا جس کی سلطان کو بے حد آرزو تھی ۔ جس کا خواب وہ ہمیشہ دیکھا کرتا تھا اور وہ جو اس کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا یعنی بیت المقدس کی فتح۔ سلطان کو بیت المقدس کی ایسی فکر تھی اور اس کے دل پر ایسا بار تھا کہ پہاڑ اس کے متحمل نہیں تھے۔ اسی سال ۵۸۳ھ (۱۱۸۷ء) کو سلطان بیت المقدس میں داخل ہوا۔ پورے ۹۰ برس کے بعد یہ قبلہ اول جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا شرف پایا تھا دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سلطان کے داخلہ کی تاریخ ۲۷ رجب بھی وہی تھی جس تاریخ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج نصیب ہوئی تھی ۔ یہ عظیم الشان فتح تھی۔ اس مبارک موقع پر علماء کی کثیر تعداد جمع تھی ۔ مصرور شام سے علماء نے بیت المقدس کا رخ کیا تھا۔ ۹۰ سال کے بعد جمعہ کی نماز بیت المقدس میں پڑھی گئی۔ قبتہ الصخرہ پر جو صلیب ہاتھا۔ ۱۰ بع جمع کی قبہ الصخرہ پر نصب تھی وہ اتار دی گئی۔ نورالدین زنگی نے جو منبر بڑے اہتمام سے بیت المقدس کے لئے بنوایا تھا صلاح الدین نے اس منبر کو طلب کیا اور اس کو مسجد اقصی میں نصب کیا۔
قبة الضحرہ اور مسجد اقصی کی بحالی کی یاد میں سلطان نے بہت سے شفا خانے اور مدر سے تعمیر گئے۔ متعدد ایوبی امراء نے شاندار عمارتیں بنا کر شہر کی شان و شوکت کو دوبالا کر دیا۔ بیت المقدس کی فتح کا جشن منانے میں تمام اسلامی دنیا شریک تھی۔ اس فتح کا مژدہ سننے ہر مسلمان بے تاب تھا۔ اس فتح کے بعد عیسائیوں کے قبضہ میں جو ایک دو شہر یا قلعے تھے وہ بھی لے لئے گئے ۔ صرف طرابلیس، انطاکیہ اور صور ان کے قبضہ میں رہے۔ جب پاپائے روم گریگوری ہشتم کو بیت المقدس کی فتح کا پتہ چلا تو اس نے صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا۔ یوروپ کے حکمرانوں کی باہمی عداوتیں ختم ہوگئی۔ فرانس کے فلپ ثانی اور انگلینڈ کے رچرڈ اول کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں پھر سے شروع ہو گئیں۔ ایک بحری بیڑہ تیار کر لیا گیا۔ یوروپ سے چھوٹی بڑی فوجیں جمع ہو کر بیت المقدس کی طرف روانہ کی گئیں۔ شہنشاہ فریڈرک اول ان جنگوں میں نمایاں حصہ لینے لگا۔ اس نے صلاح الدین سے کہا کہ وہ یروشلم واپس کر دے مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔ لہذا فر ڈرک بذات خود چل پڑا۔ اگست ۱۱۸۹ء کو اس نےعکا کا محاصرہ شروع کر دیا۔ یہ سب سے بڑی فوجی مہم تھی جس میں یوروپ کے کئی ممالک شامل تھے۔ اس جنگ میں صلاح الدین کی صلاحیت کے جو ہر پورے طور پر نمایاں ہوئے۔ سارے یوروپ کا مقابلہ تھا۔ جنگ طول پکڑ رہی تھی۔ یوروپ سے بار بار فریڈرک کو کمک پہنچ رہی تھی۔ جس بہادری والوالعزمی سے صلاح الدین نے ان حملوں کا جواب دیا اس کی نظیر تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ صلیبی حریفوں پر اس جلیل القدر سلطان کی بزرگی و عظمت بخوبی روشن ہوگئی ۔ صلاح الدین نے فرنگیوں کے ارد گرد گھیرا ڈال دیا۔ عکا شہر کو فتح کرنے فرنگیں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ بری و بحری دونوں راستوں سے حملہ کیا۔ فریڈرک سلطان کے جوابی حملوں کا تاب نہ لا سکا۔ میدان جنگ میں ہی اس کی موت واقع ہوئی۔ مگر جنگ جاری رہی فرانس سے فلپ اور انگلینڈ سے رچرڈ بھی آپہنچے۔ ان کی آمد سے صلیوں کے حوصلے بلند ہونے لگے۔ یوروپی فوج مسلمانوں کی فوج سے کئی گنا زیادہ تھی۔ علاوہ ازیں ان کے پاس محاصرہ کرنے کے لئے بڑا اچھا توپ خانہ تھا۔ مسلمانوں کے پاس بھی آتشیں بم بنانے کے بڑے ہوشیار کاریگر موجود تھے۔ صلاح الدین کو یہ فائدہ تھا کہ وہ اپنی فوج کا واحد سپہ سالار تھا۔ گو اسکی فوج سالہا سال کی جنگ کی وجہ سے تھک چکی تھی۔ ادھر یوروپی سپہ سالاروں میں تفرقہ تھا۔ شاہ گئی کاؤنٹ آف مانٹ فرے، رچرڈ اور فلپ کی رقابتیں ان کے راستہ میں حائل تھیں۔ یہ محاصرہ تین سال جاری رہا۔ قلعے کے باہر بڑی خون ریز لڑائیاں ہوتیں۔ ان میں مسلمانوں کا پلا ہی بھاری رہتا۔ فرنگی ہزاروں کی تعداد میں ہلاک ہوتے رہے۔ آخر میں صلح ہوگئی۔ فرنگی بیت امقدس کو فتح نہ کر سکے۔ عیسائیوں کو غیر مسلح طور پر مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے کی اجازت دی گئی۔ پورے یوروپ کی مسلسل کوشش کے باوجود فرنگی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ فلسطین کا بیشتر حصہ صلاح الدین کے قبضہ میں رہا۔ غرض بیت المقدس کی فتح اور حطین کی شکست سے جو غیض و غضب کی آگ یوروپ میں بھڑک اٹھی تھی اس کے شعلے صلاح الدین پر کارگر نہ ہو سکے۔ سارا یوروپ اس پر اہل پڑا تھا۔ مگر اس کے عزم و استقلال و جوانمردی و جانبازی کے سامنے فرنگی کچھ نہ کر سکے۔ ان کے تمام مشہو رسپہ سالار، جنگ آزما سور ما ، شهر آفاق حکمران جیسے انگلستان کار چرڈ شیر دل، فرانس کا فلپ، قیصر روم فریڈرک، آسٹر یا واٹلی کے فرمانروا، فلانڈرز کے ڈیوک اور کئی نائٹس اپنی آہن پوش فوجوں کے ساتھ امنڈ آئے تھے۔ ان سب کے مقابلہ میں تنہا صلاح الدین تھا۔ چھوٹی سی فوج تھی جس میں صرف شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن کا جذبہ تھا جن کے سردار میں طارق بن زیاد کا حوصلہ تھا اور جنہیں تاریخ یوں یاد کرتی ہے۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
جنگ حطین ۱۱۸۷ سے صلح رماه ۱۱۹۲ء تک مسلسل جنگ چلتی رہی۔ حطین سے پہلے مسلمانوں کے پاس دریائے اردن کے مغرب میں ایک انچ زمین بھی تھی۔ ستمبر ۱۱۹۲ء میں جب رملہ پر صلح ہوئی تو یہ سارا علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں تھا۔ بڑے بڑے سورما جو آئے تھے خالی ہاتھ واپس ہوئے۔ قیصر فریڈرک میدان جنگ میں ہی انتقال کر گیا۔ شاہان انگلستان و فرانس نامراد اپنے اپنے ملک کو سدھارے۔ ان کے بڑے بڑے شریف اور معزز ساتھی خاک کا پیوند ہوئے لیکن بیت المقدس صلاح الدین کے ہاتھ میں ہی رہا۔ تیسری جنگ صلیب میں تمام سیحی دنیا کی مجموعی طاقت صلاح الدین کے خلاف نبرد آزما تھی مگر اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ اس کی قوت کوٹس سے مس نہ کر سکی۔ اس کی فوج تھک کر چور چور ہو چکی تھی مگر کسی کی زبان پر حرف شکایت نہ تھا۔ اس فوج نے بڑی جان نثاری کا مظاہرہ کیا۔ اس لئے کہ سلطان نے ان کو ایسا شیر و شکر بنا رکھا تھا کہ تمام لشکر تن واحد نظر آتا تھا۔ اس مدت میں کوئی صوبہ سلطان سے نہ منحرف ہوا اور نہ کہیں بغاوت کی آگ پھیلی۔ سلطان کی دھاک ایسی تھی کہ آرمینیہ کا حکمران ، قسطنطنیہ کا قیصر اور دیگر کئی فرمانر و اصلاح الدین کو اپنا دوست و محمد و معاون بنانے کے خواہش مند تھے۔
وفات:
صلح رملہ کے بعد سلطان کو اپنی زندگی کے بقیہ چند مہینے امن و عافیت میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ اس نے یروشلم کو مستحکم کیا اور پھر اطمینان سے دمشق کی طرف چلا گیا جہاں لوگوں نے بڑی دھوم دھام سے اس کا استقبال کیا۔ فروری ۱۹۳ ء میں وہ بیمار ہوا اور اس کے چودہ دن بعد اپنی جان مالک حقیقی……جاری۔۔۔۔