وفات:سلطان صلاح الدین ایوبی

وفات:سلطان صلاح الدین ایوبی۔
صلح رملہ کے بعد سلطان کو اپنی زندگی کے بقیہ چند مہینے امن و عافیت میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ اس نے نے یروشلم یروشلا کو متحکم کیا اور پھر اطمینان سے دمشق کی طرف چلا گیا جہاں لوگوں نے بڑی دھوم دھام سے اس کا استقبال کیا۔ فروری ۱۱۹۳ء میں وہ بیمار ہوا اور اس کے چودہ دن بعد اپنی جان مالک حقیقی کے سپرد کر دیا۔ صرف پچپن سال کی عمر پائی۔ قاضی بہاء الدین شداد، سلطان کے سوانح نگار، لکھتے ہیں کہ سلطان نے اپنے ترکہ میں صرف ایک دینار اور ۴۵ درہم چھوڑے تھے۔ کوئی ملک، مکان، جائیداد، باغ، گاؤں، کھیت نہیں چھوڑا۔ ان کی تجہیز و تدفین میں ایک پیسہ بھی ان کی میراث سے صرف نہ ہوا۔ سارا سامان قرض سے لیا گیا۔ سلطان سچے و پکے مسلمان تھے۔ اہل سنت و جماعت ان کا مسلک تھا۔ نماز کے بڑے پابند تھے۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ سالہا سال ہو گئے۔ میں نے ایک نماز بھی بے جماعت نہیں پڑھی۔ حالت مرض میں بھی امام کو بلا لیتے۔ ان کی ساری دولت صدقات و خیرات میں خرچ ہوتی ۔ زکوۃ فرض ہونے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ حج کی بڑی آرزو تھی لیکن اس کا موقع نہ ملا۔ بڑے رقیق القلب تھے، قرآن مجید سن کر اکثر آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ۔ حدیث سننے کا اتنا شوق تھا کہ میدان جنگ میں بعض مرتبہ دو صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر حدیث کی سماعت کرتے۔ بیت المقدس کی فتح سے قبل ایک نازک موقع میدان جنگ میں درپیش تھا۔ سلطان رات بھر جاگتے رہے اور صبح سجدہ میں سر رکھ کر التجا کی خدا یا مادی اسباب اور دنیاوی سہارے سب ٹوٹ چکے۔ اب تیرے دین کی مدد اور فتح کے لئے یہی سہارہ رہ گیا ہے کہ تیرے آستانہ پر سر رکھ دیا جائے، اور تیرے سہارے کو مضبوط پکڑ لیا جائے ، اب صرف تیرا بھروسہ ہے اور تو ہی میرا حامی و ناصر ہے ۔ اسی دن سے ان کی دعا کی مقبولیت کے آثار نمودار ہونے لگے۔ فرنگیوں میں انتشار برپا ہو گیا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔

سلطان میں عدل و انصاف، عفود علم ، صبر و استقلال، شجاعت والوالعزمی ، سخاوت و دریادلی مروت و شفقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ قاضی ابن شدا در قمطراز ہیں کہ ان کے دربار میں چھوٹے بڑے امیر غریب ، بوڑھے جوان ، علماء، فقہاء ہفتہ میں دو بار جمع ہو جاتے تھے۔ کسی حاجت مند کو نا کام واپس نہ کرتے ۔ بڑے برد بار اور متحمل مزاج تھے۔ سوانح نگار نے لکھا ہے ایک مرتبہ سخت بیماری سے اٹھے۔ مغسل صحت کے لئے تمام گئے۔ پانی بہت گرم تھا۔ نوکر سے تھنڈا پانی مانگا۔ غلطی سے سارا ٹھنڈا پانی ان پر آپڑا۔ تکلیف ہوئی۔ مرتے مرتے بچے، خادم سے صرف اتنا کہا کہ مجھے مارنے کا ارادہ ہو تو کہدو۔ جو دو سخاوت کا یہ حال تھا کہ بعض اوقات فتح کئے ہوئے صوبے دوسروں کو بخش دیتے۔ مروت و شرافت کا یہ حال تھا کہ کسی ملاقاتی کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتے ، خواہ وہ غیر مسلم ہی ہو۔ اپنے سب سے بڑے حریف رچرڈ کو اس کی بیماری میں برف اور پھل بھیجتے رہے۔ سلطان بڑے دردمند انسان تھے۔ ظلم کو برداشت نہ کر سکتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک عیسائی خاتون روتی ہوئی آئی اور کہا کہ ڈاکو میری بچی کو اٹھا لے گئے ۔ آپ نے ایک شخص کو لشکر کے بازار میں بھیجا کہ تحقیق کریں کہ کس نے اس بچی کو خریدا ہے۔ تھوڑی دیر میں دو سوار اس بچی کا کاندھے پر لئے ہوئے نظر آئے۔ عیسائی خاتون زمین پر گر گئی اور آپ کو دعائیں دینے گئی۔ اگر کسی یتیم کا پرورش کرنیوالا نہ ہوتا تو اپنی طرف سے اس کا کچھ انتظام کر دیتے۔ بیماری کی حالت میں بھی میدان جنگ سے گریز نہ کرتے ۔ ایک معرکہ میں جبکہ طبیعت سخت ناساز تھی مسلسل صبح سے شام تک دشمن کا تعاقب کیا۔ شجاعت میں ضرب المثل تھے۔ گھمسان لڑائی میں بھی تن تنہا صفوں کے درمیان چکر لگاتے ۔ دشمن کی تعداد کی انہوں نے کبھی پرواہ نہیں کی کبھی کبھی پانچ پانچ لاکھ کی تعداد ان کے مقابلے میں تھی۔ مکہ کے سب سے بڑے معرکہ میں جب ایک مرتبہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے لیکن آپ صرف چند ساتھیوں کے ساتھ جمے رہے، فوجیوں کو لا کارا ، شرم دلائی ، وہ میدان میں واپس آئے اور دوبارہ حملہ کیا اور مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ بلند ہمتی کا یہ عالم تھا کہ قاضی ابن شداد کہتے ہیں کہ سلطان نے ایک روز فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ مغربیوں کا تعاقب یوروپ کے مغربی ساحل تک کروں تا کہ روئے زمین پر کوئی کافر نہ رہ جائے یا میں اس ارادہ میں کام آجاؤں۔
سلطان علم دوست تھے۔ خود بھی عالم فاضل شخص تھے۔ گھوڑوں کے سلسلہ نسب پر انہیں عبور تھا تاریخ اسلام انہیں یاد تھی۔ دنیا کے عجائبات و نوادر کا انہیں علم تھا۔ طبیعت دینیات کی طرف مائل تھی۔ علمائے وقت سے احادیث سنتے ، فقہ کی بحث میں حصہ لیتے ۔ تفسیر قرآن سے بڑی دلچسپی تھی۔ مصر کی عبیدی سلطنت جو فاطمی سلطنت کہلاتی تھی اور جو دو سواڑسٹھ سال سے قائم تھی اسلامی عقیدوں کو کھوکھلا کر رکھی تھی۔ اخلاق و عادات پر بھی گہرا اثر ڈال چھوڑا تھا۔ میراث کا قانون بدل دیا تھا۔ تراویح کی ممانعت کر دی گئی تھی۔ مساجد میں سلف پر لعنت لکھی گئی۔ شراب کی عام اجازت تھی۔ سلطان صلاح الدین نے اس حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد یہ اس کا دوسرا کارنامہ تھا۔ مصر سے شیعت کو مٹادیا۔ سنت کا فروغ ہوا۔ جا بجا مدارس قائم ہوئے۔ اسماعیلیت کا جو تین صدیوں سے غلبہ تھا ختم کر دیا گیا۔ انہیں کے دور حکومت میں فرنگیوں نے شام اور جزیرہ کے اکثر اسلامی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ عقائد میں ان کا بنیادی اصول یہ تھا کہ عقل کو وحی و تعلیمات پر ترجیح حاصل ہے۔ یہ لوگ باطنی کہلاتے تھے۔ کئی علماء کو انہوں نے قید کر رکھا تھا اور کئی قتل کر دئے گئے تھے۔ سلطان صلاح الدین نے اس فاطمی حکومت کا خاتمہ کر کے ایک بڑے فساد کو روک دیا جو مصر سے نکل کر عالم اسلام میں باطنیت واسما عیلیت پھیلا رہا تھا۔
غرض سلطان صلاح الدین کا نام آج بھی عالم اسلام میں عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ اس کی یاد سے مسلمانوں کے خون میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس کے خیال سے زندگی کی تلخیوں میں امید کی ایک کرن پھوٹ پڑتی ہے۔ زمانہ کی سختیوں کے درمیان اس کی ہستی روشنی اور ہدایت کا ایک مینار نظر آتی ہے۔ اس کی صلاحیت ، شجاعت ، حق و انصاف، خدا ترسی، رحمدلی عفو و در گذار اور بردباری کی داستان عالم اسلام تو کجا سیحی دنیا کے ادب کا عنوان بن گئے ہیں۔ انگلستان کار چرڈ شیر دل سلطان کے اخلاق سے اتنا مرغوب ہوا کہ اپنی بہن کو اس کے بھائی ملک العادل سے شادی کرادی۔ پانچ سال کی کوشش کے باوجود مغربی طاقتیں جب بیت المقدس نہ لے سکیں تو رچرڈ نے اپنی خفت یوں چھپائی کہ یروشلم کواپنی بہن کی شادی میں بطور تحفہ پیش کیا۔ سلطان صرف میدان کار راز کا ہی شہوار نہ تھا۔ بلکہ علوم دینیہ کا بھی دلدادہ تھا۔ علماء کا سر پرست تھا۔ تعمیرات کا شائق تھا۔ اس نے کئی مدارس قائم کئے۔ کئی مساجد تعمیر کیں کئی نہریں کھدوائیں۔ قاضی بہاء الدین ابن شداد جیسے مورخ کو اپنا سکریٹری بنایا۔ عمادالدین خطیب اور قاضی الفضل جیسے شہرہ آفاق عالم اس کے وزیر تھے۔ ایسا فیاض تھا کہ فاطمی حکومت کا سارا خزانہ حاجت مندوں میں بانٹ دیا۔ نور الدین کے انتقال پر جو دولت ہاتھ آئی اس کو چھوئے بغیر اس کے کمسن بیٹے کے حوالے کر دیا۔ تعصب و تنگ نظری نام کو نہیں تھی۔ عیسائی رعایا کا محافظ تھا۔ جنگ میں جتنے عیسائی قید ہوئے ان سب کو رہا کر دیا۔ برخلاف رچرڈ کے جس نے دو ہزار سات سو مسلمان قیدیوں کو قتل کروا دیا۔ ۱۰۹۹ء میں جب فرنگیوں نے یروشلم فتح کیا تھا تو مسلمانوں کے خون سے ندیاں بہہ گئی تھیں ۔ صلاح الدین نے جب بیت المقدس فتح کیا تو سب عیسائیوں کو امن وامان دیدی۔ اسی لئے اس کے دشمن بھی اس کا احترام کرتے تھے۔ سلطان صلاح الدین کا نام عالم اسلام کی عظیم ہستیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک طرف مغرب کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا۔ عالم اسلام کو سیاسی ، اخلاقی وتہذیبی غلامی سے بچایا اور دوسری طرف فاطمی حکومت کا خاتمہ کر کے ایک بڑے فساد کو بند کر دیا۔
صف جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر
جوش کردار سے بن جاتی ہے خدا کی آواز.

اپنا تبصرہ بھیجیں