حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
قسط اول: ماخوذ، عالم اسلام کے جواہر پارے
عاشقانہ رسول میں اولین، خلفائے راشدین میں اولین مشرف بہ اسلام میں اولین، ایثار و قربانی صدق وصفا مبرو وفا میں اولین، رفاقت و ہجرت کے باب میں اولین، حضرت ابوبکر صدیق شان اسلام کے وہ اختر تاباں تھے جن کی آب و تاب سے صرف عہد نبوی کے ذرے ہی منور نہ ہوئے بلکہ وصال رسالت سے ابھری آشفتہ سری کا مداوا بھی آپ نے پیش کر دیا جس سے دین متین کی جڑیں مضبوط ہو گئیں۔ آپ وہ یار غار، فدائیانہ محبت تھے جن کو خلیفتہ الرسول کا خطاب اور صدیق عقیق کا لقب خود حضور نے عطا فرمایا تھا۔ ان کے رتبہ کے نشان خود صحیفہ پاک اور احادیث مقدسہ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔ حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ اگر ابو بکر صرف شب غار کی خدمت اور قتال مرتدین کا کارنامہ مجھے دیدیں اور میری ساری عمر کے تمام اعمال لے لیں تو میں ہی فائدہ میں رہوں گا۔
آپ اشراف قریش میں سے تھے۔ آٹھویں پشت میں آپ کا نسب حضور سے جاملتا ہے۔ آپ عمرمیں حضور سے دو برس چند مہینے چھوٹے تھے اور دو برس چند مہینے بعد وفات پائی۔ حضور کے پہلو میں ابدی خواب استراحت کا شرف پایا۔ آپ کی اولاد میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں۔ آپ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین کا شرف پائیں۔ آپ امیر کبیر بھی تھے فصیح و بلیغ بھی۔ حضور کا حضرت بی بی خدیجہ سے نکاح آپ کی کوششوں سے ہوا۔ مردوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول فرمایا۔ اسلام کی تبلیغ میں دوسر سے زیادہ حصہ لیا۔ رفاقت و حمایت میں آپ کا ثانی کوئی نہ رہا۔ مشرف بہ اسلام ہوتے ہی اپنا سارا سرمایہ ، چالیس ہزار کی رقم، حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جنگ تبوک کے موقع پر راہ حق میں جب مال مانگا گیا تو حضرت عمرؓ نے اپنا آدھا مال حاضر کر دیا مگر صدیق اکبر نے اپنا سارا مال حتی کہ دروازوں کے کیل حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب پوچھا گیا کہ اہل و عیال کے لئےکیا چھوڑ آئے ہو تو فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔
اسلام لانے کے بعد آپ نے جو مسجد تعمیر کی وہ اسلام کی پہلی مسجد ہے۔ تبلیغ اسلام میں آپ نےنا گفتہ بہ ایذائیں ہیں۔ ایک مرتبہ خانہ کعبہ میں قریش نے حضور کے گلے میں چادر ڈال کر کھینچنا شروع کیا۔ تو آپ وہاں پہنچ گئے۔ حضور کو چھوڑ کر لوگ آپ پر جھپٹ پڑے اور اس قدر مارا کہ آپ بے ہوش ہو گئے۔ کئی دن تک بے ہوش رہے۔ جب ہوش آتا تو صرف یہ کہتے کہ مجھے حضور کے پاس لے چلو۔ جب لوگ انہیں لے گئے تو حضرت صدیق کی رقت کا حال بیان سے باہر تھا۔ ہجرت کے پہلے جب بنی ہاشم کے سارے خاندان کو محصور کر لیا گیا تو فاقوں کی نوبت آگئی اور آپ بھی اس مصیبت میں شریک رہے۔ جب حضرت خدیجہ کا انتقال ہوا تو خود اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کو حضور کے نکاح میں دے دیا اور مہر کی رقم بھی اپنے پاس سے ادا کی۔ حضور کے معراج کی تصدیق سب سے پہلے آپ نے کی۔ جب کفار بیچ نہ مانے تو آپ نے کہا کہ اگر آسمانوں سے جبرئیل چشم زدن میں آتے ہیں، وحی پہنچاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں تو حضور کی ہستی جبرئیل سے بھی فائق ہے تو آپ کی آمد ورفت میں ہم کو کیا شک ہے۔اس تصدیق معراج کے صلے میں صدیق کا لقب آپ کو ملا۔
ہجرت کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایک سنہرا باب ہے۔ عشق و رقت، آزمائش اور امتحان کی یہ وہ کڑی ہےجس کی ابتدا صدق خلیل سے شروع ہوئی اور اس کی انتہا صدیق اکبر کی جاں نثاری میں نظر آئی۔ حضور کا ارشاد ہے کہ جس کسی نے بھی مجھ پر احسان کیا ہے اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے سوائے ابو بکر کے کہ ان کی خدمات کا بدلہ قیامت کے دن خدا دے گا۔ ہجرت کے بعد صدیق اکبر تمام غزوات میں شریک رہے۔ غزوہ بدر میں آپ نے حضور کی حفاظت کا حق ادا کر دیا۔ اس جنگ میں آپ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن بھی شریک تھے جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے۔ کفار کی طرف سے جب وہ آگے بڑھے تو صدیق اکبر انہیں قتل کرنے والے ہی تھے کہ عبدالرحمن مار سے بچ نکلے۔ لڑائی کے بعد وہ قیدی ہو گئے اور فدیہ لے کر چھوڑ دئے گئے ۔ حضرت عمر نے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر حضور نے صدیق اکبر کی رائے قبول کی کہ فدیہ کے عوض جان بخشی کی جائے۔ حضور نے صدیق اکبر کو حضرت عیسی علیہ السلام سے تشبیہ دی۔ جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو سب سے پہلے حضور تک پہنچنے والے حضرت صدیق تھے۔ شکست کے بعد جب دوبارہ کافروں کی آمد کی خبر سن کر حضور نے پھر جنگ کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا تو حضرت صدیق فورا تیار ہو گئے۔ رب العزت کو یہ مستعدی اتنی پسند آئی کہ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہے۔ غزوہ خندق میں آپ نے کارہائے نمایاں کر دکھایا۔ فتح مکہ کے بعد حضرت صدیق اپنے والد کو مسلمان کر کے حضور کی خدمت میں لے آئے تو حضور نے فرمایا تم نے ان کو بڑھاپے میں کیوں تکلیف دی، میں خود آ جاتا، صدیق اکبر کے چار پشت صحابی تھے یعنی صدیق اکبر کے باپ، آپ خود، آپ کے بیٹے اور آپ کے پوتے، یہ شرف کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ غزوہ تبوک کی قیادت آپ نے کی۔ وفات سے پہلے حضور نے جو خطبہ دیا اس میں حضرت صدیق کے فضائل آپ نے بیان فرمائے اور اپنی جگہ حضرت صدیق کو امام کا شرف بخشا اورخلافت کا کھلا اشارہ تھا۔ عہد نبوی میں حضرت صدیق حضور کے مشیر خاص تھے۔
حضورۖ کی وفات کے بعدخلافت کیلئے۔۔۔۔۔