حضرت ابوبکرؓ صدیق

https://guftar.in/حضرت-ابوبکر-صدیق-رضی-اللہ-عنہ/

قسط دوم: قسط اول کا لنک اوپر مذکور ہھ

حضورۖ کی وفات کے بعد خلافت کے لئے سب کا اتفاق آپ کےحق میں ہوا۔ تمام مہاجر و انصار نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کے اور آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ حضرت علی نے بھی ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کے خلیفہ برحق ہونے میں ترد نہیں کیا۔ آپ کا دور خلافت بہت مختصر تھا پھر بھی بہت اہم۔ سب سے پہلے انہوں نے وہ خطبہ دیا جس سے سب با ہوش ہو گئے ۔ گویا آپ نے زندگی بخش دی۔ فرمایا کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتے تھے ان کو معلوم ہو کہ ان کے خدا کا انتقال ہو گیا۔ لیکن جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں وہ مطمئن رہیں کہ ان کا خدا زندہ ہے اور کبھی نہ مرا۔ دوسرا کام جو کیا وہ یہ کہ حضورۖ کے ذمہ کسی کا کچھ قرض تھا تو وہ سب ادا کر دیا۔ جب حضرت فاطمہؓ الزہرا نے اپنی میراث طلب کی تو آپ نے ان کو وہ حدیث سنائی کہ انبیاء کے مال میں میراث جاری نہیں ہو سکتی۔ البتہ میرے پاس جس قدر مال ہے وہ آپ کے لئے حاضر ہے۔ وہ آپ ہی کا ہے لے لیجئے۔ آپ کا تیسرا بہت اہم کام مرتدین کے فساد کو مٹانا تھا۔ عرب کے کئی قبائل حضورۖ کی وفات کی خبر سن کر مرتد ہو گئے۔ بعض مدعیان نبوت اٹھ کھڑے ہوئے جن میں مسیلمہ کذاب بھی تھا۔ تھا۔ حضرت صدیق نے ان سب مرتدوں کو قتل کا حکم حکم دے دیا۔ یہ بہت اہم فیصلہ تھا۔ فتنہ فوراََ دب گیا۔ ذرای سی رحم دلی سارے نظام کو بگاڑ دیتی تھی۔
آپ کا چوتھا کام حضور کی وصیت کے مطابق ملک شام کو اسامہ کا لشکر روانہ کرنا تھا۔ غزوہ موتہ کے بعدشرجیل سے انتقام لینے کے لئے حضورۖ نے اسامہ کا لشکر بھیجنے کا حکم صادر کیا تھا۔ تمام صحابہ اس فیصلہ کے خلاف تھے کہ کوئی فوج بھیجی جائے۔ حتی کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ بھی۔ حضرت صدیق کسی کی نہ مانی اور لشکر فوراََ روانہ کر دیا۔ مرتدین کے خلاف خود اونٹنی پر سوار ہو کر نکل پڑے۔ ایک سال کے اندر سب مدعیان نبوت ختم ہو گئے۔ حضرت اسامہ کے لشکر کو بھی شاندار کامیابی نصیب ہوئی۔ نتیجہ کو دیکھ کر سب کی آ کھل گئیں۔ کہنے لگے لیڈر ہو تو صدیق جیسا ہو۔ حضرت علاء احضری کی سپردگی میں جو فوج بھیجی گئی تھی اس نے بحرین کی فتح ونصرت کا پیغام لایا۔ عراق و شام کے فتوحات بھی عہد صدیق میں شروع ہوئے۔ قیصر روم اور ایران کے کسری کی سلطنتوں کی فتح کی بنیاد بھی آپ ہی نے ڈالی جس کی تکمیل عہد فاروق میں ہوئی۔ حضرت مثنیٰ ابن حارثہ کی سپردگی میں ایک فوج آپ نے عراق بھیجا۔ پھر خالد بن ولید کو ان کی مدد کے لئے روانہ کیا۔ عراق میں شہر حیرہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ وہاں کے لوگوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا۔ رومیوں کے خلاف جو فوج بھیجی گئی وہ چار حصوں میں تقسیم کی گئی۔ ایک حصہ عمر بن عاص کے تحت فلسطین گیا، دوسرا ابوعبیدہ کے تحت حمص کی طرف تیسرا یزید بن ابی سفیان کے تحت دمشق کی طرف اور چوتھا شرجیل بن حسنہ کے تحت اردن چل پڑا۔ چاروں لشکروں کی سرداری ابو عبیدہ کو دی گئی۔ حضرت خالد کو حکم دیا کہ وہ ملک شام پر چڑھائی کریں۔ قیصر روم ہر قل اپنی پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کے لئے آ کھڑا ہوا۔ ۱۳ھ کو معرکتہ الآرا جنگ یرموک ظہور میں آئی۔ مسلمانوں کو عظیم الشان فتح نصیب ہوئی۔ رومیوں کے حواس باختہ ہوئے۔ صدیق اکبر کو یہ خبر اس وقت ملی جب کہ وہ بستر مرگ پر تھے۔ حمص بھی فتحہ پر تھے حمص بھی فتح ہو گیا۔ اس طرح حضرت صدیق کے عہد میں ہی یرموک حمص، دمشق اور شام کے کئی دیگر مقامات فتح ہو گئے۔

حضرت ابو بکر صدیق نے نوع انساں کو ایک مثالی زندگی ورثہ میں چھوڑا ہے۔ آپ صاحب ثروت و دولت تھے۔ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ساری دولت راہ حق میں لٹادی حتی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ پہنے کو کرتہ نہ تھا۔ خلافت کے عہد میں بیت المال سے حقیر سا وظیفہ قبول فرمایا۔ انتقال کے وقت پوچھا کہ کتنی رقم بیت المال سے لی گئی۔ وہ چھ ہزار درہم کی رقم تھی۔ فرمایا کہ میرا فلاں باغ فروخت کر کے وہ رقم بیت المال میں جمع کر دو۔ ایک روز بی بی صاحبہ کو کچھ شیرینی کی خواہش ہوئی۔ فرمایا بیت المال سے زیادہ نہیں لے سکتا۔ البتہ جو وظیفہ ملتا ہے اس میں سے کفایت کر لو۔ چند دن بعد میٹھی چیز جو میسر آئی تو آپ نے پوچھا روزانہ کس قدر بچایا تھا۔ بی بی صاحبہ نے مقدار بیان کی۔ فورا حکم لکھ بھیجا کہ اتنی رقم وظیفہ سے کم کر دی جائے۔ کیونکہ بغیر میٹھا کھائے بھی زندگی بسر ہو سکتی ہے۔ زندگی کے آخری لمحوں میں حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ایک دودھ دینے والی اونٹنی، ایک برتن، ایک چادر ایک لونڈی جو مجھے بیت المال سے دی گئی تھی اس کو واپس کر دینا۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا “اے ابو بکر اللہ کی رحمت آپ پر ہو۔ آپ نے اپنے جانشیں کے لئے مشکل نمونہ چھوڑا ہے”۔ اپنے کفن کے لئے حضرت صدیق نے وصیت فرمائی کہ یہی لباس جو پہنا ہوں اسی میں دفن کرنا۔ ایک جگہ زعفراں کا رنگ ہے۔ دھو ڈالنا اپنے عہد میں کسی رشتہ دار کو عہدہ نہیں دیا۔ اپنے بعد خلافت کے لئے نہ اپنے بیٹے کو اور نہ کسی عزیز واقارب کو نامزد کیا بلکہ حضرت عمر کو یہ ذمہ داری سونپی۔ آپ کی وفات کے بعد بیت المال کی تھیلیاں جھاڑی گئیں تو صرف ایک درہم نکلا۔ امن وامان کا یہ حال تھا کہ حضرت عمرؓ جو اس وقت مدینہ کے قاضی تھے فرماتے ہیں کہ پورا مہینہ گذرجاتاہے اور ایک دو مقدمات بھی نہ آتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ اکبر کے ارشادات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ فرمایا جس شخص نے حب الہی کا مزے چکھے اس کو دنیا سے اور انسانوں سے وحشت ہوگی۔ جب وقت وفات قریب تھا تو جو لوگ عیادت کو آئے تھے۔ کہنے لگے کہ طبیب کو بلایا جائے۔ آپ نے فرمایا طبیب تو مجھے دیکھ چکا ہے۔ مدت جب ختم ہو جائے تو بیچارہ طبیب کیا کرے۔ فرمایا خلافت کی خواہش میں نے کبھی نہ کی۔ اونٹ اپنا بوجھ خود نہیں اٹھاتا، لادا جاتاہے۔ اقتدار کا بوجھ بھی اس لائق نہیں کہ ہر شخص اس پر جھپٹ پڑے۔ ایک پرندہ کو ایک درخت پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا کہ کاش میں بھی تیرے مثل ہوتا۔ جس درخت پر چاہتا بیٹھ جاتا، جو پھل چاہتا کھا لیتا، تیرے اوپر کوئی حساب ہے نہ عذاب۔ فرمایا جب کوئی مہار ہاتھ سے گر جاتی تو خود اتر کر مہاراٹھا لیتے ۔ لوگوں نے پوچھا آپ خلیفہ ہیں حکم کیوں نہیں دیتے تو فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ کسی انسان سے احسان نہ لوں۔ ایک خطبہ میں فرمایا، وہ حسین کہاں گئے جن کے چہرے خوبصورت تھے، وہ بادشاہ کہاں گئے جنہوں نے شہر آباد کئے تھے، وہ بہادر کہاں گئے جو میدان جنگ میں ہمیشہ غالب رہے۔ زمانے نے انہیں ہلاک کر دیا، اور وہ قبر کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا ”خبردار کوئی شخص کسی مسلمان کو حقیر نہ سمجھے۔ کیونکہ چھوٹے درجے کا مسلمان بھی اللہ کے نزدیک بڑا ہے”۔ فرمایا کرتے تھے کہ سچ بولنا اور نیکی کرنا جنت میں ہے اور جھوٹ بولنا اور بدکاری کرنا دوزخ میں ہے۔
غرض حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عاشق کا دل فلسفی کا دماغ، صوفی کا زہد اور مرد مجاہد کا عزم پایا تھا۔ حب الہی، حب رسول اور حب اسلام ان کا شعار بن چکا تھا۔ توحید، تبلیغ، تنظیم و تدبیر ان کا مسلک تھا۔ امیر کبیر گنے جاتے تھے۔ مگر راہ حق میں سب لٹا کر غریب بن چکے تھے۔ امیر المومنین کے عہدہ پر فائز تھے مگر الفقر فخری کا نشان بن گئےتھے۔ کپڑوں کے گھٹے سر پر اٹھائے بازاروں میں فروخت کر کے اکل حلال کماتے تھے۔ خطابت میں یکتا، شجاعت میں شیر دل، سخاوت میں حاتم، رفاقت میں بے مثل اور حمیت میں اول، حضرت صدیق اکبر کی ہستی آسمان رسالت پر مہر منور کی طرح چمک اٹھی تھی۔

پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس.

حوالہ: تاریخ اسلام کے جواہر پارے

اپنا تبصرہ بھیجیں