حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
پہلی قسط:
حضرت عثمان کے سوا کسی بشر کو یہ شرف حاصل نہیں کہ کسی نبی کی دو صاحبزادیاں کسی ایک شخص کو نکاح میں دی گئی ہوں۔ اسی لئے آپ ذوالنورین کہلائے گئے۔ ان دونوں کے انتقال کے بعد حضور نے فرمایا کہ اگر میری تیسری بیٹی رہتی تو اس کو بھی عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ پانچویں پشت میںآپ کا نسب حضور سے جاملتا ہے۔
آپ حضور ﷺ کے پھوپی زاد بہن کے بیٹے تھے۔ مالک نے آپ کو اتنی دولت سے نوازا تھا کہ آپ کا لقب غنی بن گیا تھا۔ خدا کی راہ میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے تھے۔ خلق حیا میں آپ خاص طور سے ممتاز تھے۔ آپ ذوالنورین ہی نہیں بلکہ ذو ہجرتین بھی تھے۔ جبش کی ہجرت بھی کی تھی اور مدینہ کی بھی۔ قبول اسلام میں آپ چوتھے تھے۔ عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے۔ کتابت وحی کا کام بھی آپ کے سپرد تھا۔ جامع القرآن کا شرف بھی آپ نے پایا۔ خلافت راشدہ میں آپ کا عہد سب سے طویل تھا یعنی بارہ سال بارہ دن۔ فتوحات کے سلسلہ میں بھی آپ کا عہد شاندار رہا۔ آپ کی خلافت کے پہلے چھ سال اعلیٰ وارفع تھے مگر بقیہ چھ سالوں میں حالت بدل گئی۔
حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد اسلام کے نکتہ عروج کا گراف گرتے گیا۔ شہادت کی رنگین داستان حضرت عمرؓ سے شروع ہو کر حضرت عثمان و حضرت علیؓ کے جگر سوز ہنگاموں سے گذر کر حضرت حسین کے درد انگیز منظر سے انتہا کو پہنچی۔ حضرت عثمان مسلمان ہوتے ہی حضور نے اپنی صاحبزادی رقیہ کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیا۔ کفار نے آپ کو سخت ایذائیں دیں۔ آپ کا چا حکم بن عاص نے آپ کو رسی سے مضبوط باندھا اور کہا کہ اللہ کی قسم جب تک تم اسلام ترک نہ کرو گے رسی نہ کھولوں گا۔ آپ نے بھی کہا اللہ کی قسم میں دین اسلام کبھی ترک نہ کروں گا۔ ظالم آخر عاجز آگئے اور آپ کو رہائی ملی۔ جب ایذا رسانی پھر شروع ہوئی تو آپ مع حضرت رقیہ جبش چلے گئے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے بعد حضرت عثمان پہلے شخص تھے جنہوں نے مع اہل بیت دین کی خاطر ہجرت کی۔ جب حضورﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو حضرت عثمان بھی جبش سے مدینہ پہنچے گئے۔ غزوہ بدر میں حضرت رقیہ سخت بیمار تھیں۔ حضور نے فرمایا رقیہ کی تیمارداری کرو تم کو شرکت بدر کا ثواب ملے گا۔ احد کی لڑائی میں شریک تھے۔ صلح حدبیبہ میں اہم رول ادا کیا۔ کفار نے آپ کو قید کر لیا اور افواہ اٹھی کہ شہید کر دئے گئے۔ حضورﷺکو اتنا صدمہ ہوا کہ صحابہ کرام سے موت کی بیعت لی۔ اسی بیعت کا نام بیت الرضوان ہے۔ غزوہ تبوک کے وقت مسلمانوں پر سخت افلاس تھا۔ حضور نے جب فرمایا کہ جو شخص لشکر کا سامان مہیا کرے گا اس کو بڑا ثواب ملے گا تو حضرت عثمان نے ایک سو اونٹ راہ حق میں دے دیا۔ حضور نے پھر وہی بات دہرائی حضرت عثمان دو سو اونٹ لے آئے ۔ حضور نے تیسری مرتبہ وہی بات دہرائی تو تین سو اونٹ ، چوتھی مرتبہ گھر جا کر حضرت عثمان نے ایک ہزار اشرفیاں حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔
حضرت عثمان کی خلافت ہنگامہ خیز تھی۔ جب فاروق اعظم کا آخری وقت آیا تو لوگوں نے آپ کےجانشیں کی درخواست کی۔ آپ نے چھ نام لئے اور فرمایا کہ ان میں کوئی ایک ٹھیک رہے گا۔ وہ تھے حضرت عثمان، حضرت علی حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر اور حضرت طلحہ حضرت زبیر نے حضرت علی کو، حضرت طلحہ نے حضرت عثمان کو، اور حضرت سعد نے حضرت عبدالرحمن کو انتخاب کا اختیار دے دیا۔ حضرت عبدالرحمن نے کہا میں خلافت کا خواہش مند نہیں ہوں۔ اس لئے حضرت عثمان اور حضرت علیؓ، ان دونوں میں جو خلافت کے خواہش مند نہیں وہ انتخاب کریں۔ یہ سن کر دونوں خاموش رہ گئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں خواہشمند ہیں۔ حضرت عبدالرحمن نے کہا چونکہ میں اس عہدہ کا خواہش مند نہیں انتخاب کا اختیار مجھے دے دیا جائے۔ میدان میں حضرت عثمان اور حضرت علی صرف دورہ گئے۔ حضرت عبدالرحمن نے خفیہ طور پر ہر مسلمان کی رائے لی۔ کئی صحابہ نے حضرت عثمان گوتر جیح دی اور ان کا انتخاب ہو گیا۔ سبھوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
حضرت عثمان کی خلافت کے پہلے چھ سال بہت عمدہ گذرے۔ فتوحات کاسلسلہ بھی جاری رہا۔ دینی و دنیوی ترقیاں بھی بڑھتی رہیں، مگر آخری چھ سال شکایات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دو قسم کے فتوحات ظہور میں آئے ۔ ایک وہ کہ مفتوحہ ممالک میں حضرت عمر کی وفات کے بعد بغاوت پھیل گئی تھی۔ ان ممالک کو دوبارہ فتح کرنا پڑا۔ دوسرا یہ کہ چند ممالک نئے طور پر فتح کئے گئے۔ ہمدان، ری، اسکندریہ، آذربائجان اور آرمینیہ میں بغاوت پھیل گئی تھی۔ ان خطوں کو دوبارہ فتح کرنا پڑا۔ دوسری قسم کی فتوحات میں آفریقہ کے وہ حصے شامل ہیں جو طرابلس تک پھیلے ہوئے تھے۔ جو جنگیں ان فتوحات کے لئے لڑی گئیں ان کا نام اسلامی تاریخ میں حرب العبادلہ ہے۔ یہاں سخت لڑائیاں ہوئیں۔ یرموک اور قادسیہ کی لڑائی کے بعد حرب العباد ہی کا نمبر آتا ہے۔ عبداللہ بن سعد اسلامی فوج کے سردار تھے۔ ان کا حریف جرجیر نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص عبداللہ بن سعد کا سرکاٹ کر لائے اس کو ایک لاکھ اشرفیوں کے علاوہ جرجیر کی لڑکی سے شادی بھی ہوگی ۔ اس کے جواب میں یہ اعلان کیا گیا کہ جو شخص جر جیر کا سرکاٹ کر لائے گا اس کو ایک لاکھ اشرفیاں اور جرجیر کی لڑکی دے دی جائے گی۔ جرجیر عبد الله بن زبیر کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ مسلمانوں نے جنگ جیت لی ۔ بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔ حسب اعلان ایک لاکھ اشرفیاں اور جرجیر کی لڑکی حضرت بن زبیر کو ملی۔ اس لڑائی کو حرب العبادلہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے چار اہم سرداروں کے نام عبداللہ تھے ، عبدالله بن سعد، عبد اللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اورعبد اللہ بن عباس تھے ، طرابلس سے اندلس تک کے تمام مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے ۔
حضرت عثمان کے عہد سے بحری لڑائیوں کا بھی آغاز ہوا۔ قیصر روم کی حکومت ساحلی حصوں۔۔۔۔
کاپی: تاریخ اسلام کے جواہر پارے