حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
دوسری قسط:
حضرت عثمان کے عہد سے بحری لڑائیوں کا بھی آغاز ہوا۔ قیصر روم کی حکومت ساحلی حصوں تک محدود ہو گئی تھی۔ بحری لڑائی کا کا خیال حضرت معاویہ کو آیا۔ حضرت عثمان نے اجازت دے دی۔ جزیرہ قبرص کی طرف اسلامی فوج عبد اللہ بن قیس کی سرادری میں بڑھنے لگی جس میں ابوذر غفاری بھی شامل تھے۔ رومیوں سے ایک نہیں پچاس لڑائیاں ہوئیں۔ قیصر روم قسطنطنیہ سے فرار ہو گیا۔ امر معاویہ قبرص پہنچ گئے، وہاں سے روڈس جزیروں کا رخ کیا اور ان کو فتح کیا۔ ان فتوحات سے امیر معاویہ کی شہرت میں خوب اضافہ ہوا۔ قیصر روم کا نام ونشان مٹ گیا۔ ایران کے کچھ حصہ بچ گئے تھے وہ بھی فتح ہوئے۔ خراسان، فیروز آباد، شیراز، طوس، نیشا پور، ہرات اور بلخ کے مقامات مسلمانوں کے قبضے میں آگئے ۔
دینی کاموں کی طرف بھی حضرت عثمان کی توجہ مبذول ہوئی۔ آپ نے حکم دیا کہ جمعہ کا دن موذن بلند مقام پر چڑھ کر اذان دے۔ اذان سے پہلے ایک اور اذان دے۔ اس طرح جمعہ کا دن دو اذانیں ہونے لگیں۔ حضرت عثمان جامع القرآن بھی تھے۔ حضرت حفصہ کے پاس سے قرآن مجید کا وہ نسخہ منگوایا جو خلافت صدیقی میں حضرت زید بن حارث اور دوسرے صحابہ کے زیر اہتمام مرتب ہوا تھا۔ اس کی نقل و کتابت کے لئے آپ نے کئی موزوں و معقول حضرات کو معمور کیا۔ بہت سی نقلیں تیار ہوگئیں۔ سب بڑے شہروں کو بھیج کر حکم دیا کہ سب اس کے موافق قرآن مجید نقل کریں اور وہی نقل حیات جاوید پاگئی جو آج بھی ہر مسلمان تلاوت کرتا ہے۔ حضرت عثمان کا یہ بہت اہم کارنامہ ہے۔
عہد عثمانی کے عروج کا دور ختم ہوا۔ فتنہ و فساد کا دور شروع ہو گیا۔ فتنہ کا جڑا ایک یہودی عبداللہ بن سبا تھا۔ مسلمانوں کے فتوحات و ترقی سے اس کے حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ مدینہ آیا۔ مسلمانوں کی اندرونی کمزوریوں کو خوب جانچا۔ عقیدوں میں فتور آنے کی باتیں کہنے لگا۔ حضورۖ کے بعد خلافت حضرت علی کو ملنی چاہئے تھی۔ کہنے لگا سب کو چاہئے کہ حضرت علی کی مدد کریں۔ حضرت عثمان کو قتل یا معزول کر کے حضرت علی کو خلیفہ بنا دیں۔ بڑی عیاری سے یہ فتنہ پھیلانا شروع کیا۔ اس فتنہ کا آغاز اس نے بصرہ سے کیا۔ بصرہ کا گورنر عبد اللہ بن عامر نے اس کی خبر لی۔ وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ کوفہ پہنچا۔ کوفہ میں حضرت عثمان کے خلاف ایک جماعت تھی۔ یہاں وہ گل کھلانے لگا۔ اس کے کرتوت کا علم جب کوفہ کے گورنر سعید بن العاص کو ہوا تو انہوں نے اسے خوب ڈانٹا۔ وہ وہاں سے بھی بھاگا۔ شام کی طرف روانہ ہوا۔ مگر کوفہ میں کافی زہر کا بیج ہو گیا۔ دمشق میں بھی اس کی دال نہ گلی۔ شہر بدر کر دیا گیا۔ سیدھے مصر پہنچا۔ یہاں ایک خفیہ سوسائٹی قائم کی۔ حضرت علیؓ کی حمایت کا ایک پختہ منصوبہ تیار کر لیا۔ مصر سے کوفہ کے دوستوں سے خط و کتابت شروع کر دی۔ کوفہ و مصر سے شکایات کا لمبا سلسلہ مدینہ کو پہنچنے لگا۔ غلط افواہ کا جال پھیلانے لگا۔ عوام کے دلوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی کہ حضرت عثمان ظلم و ستم کو نہیں روک رہے ہیں اور گورنروں کو معزول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
جب مسلسل یہ خطوط مدینہ پہنچنے لگے حضرت عثمان نے عمار بن یاسر کو مصر اور محمد بن مسلحہ کوکوفہ بھیجا تا کہ حالات معلوم کریں۔ مصر میں وہ لوگ جو عبداللہ بن سبا کے حامی تھے۔ عمار بن یا سر کو اپنا ہم خیال بنالیا۔ اور انہیں مدینہ واپس ہونے سے روک لیا۔ کوفہ سے محمد بن مسیلمہ نے بھی حضرت عثمان کو اطلاع دی کہ فساد کا اندیشہ ہے۔ مصر کے گورنر سعد بن العاص مدینہ آئے۔ تا کہ صحیح حالات خلیفہ کو بتادیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ یزید بن قیس کوفہ کی ایک جماعت لے کر مدینہ چل پڑا تا کہ حضرت عثمان کو خلافت سے محروم کر دیا جائے۔ حضرت عثمان نے حج کے موقع پر تمام حاکموں و عاملوں کو مدینہ بلوایا، امیر معاویہ نے کہامفسدوں کو صوبوں سے نکال دینا ہوگا۔ بعض حضرات نے ان کو قتل کرنے کی رائے دی اور بعض نے نرمی برتنے کی۔ کوئی فیصلہ نہ ہوا۔ حضرت عثمان نے کہا میں قتل کے حق میں نہیں صبر و استقامت سے میں ہر فتنہ کو برداشت کر سکتا ہوں۔ عبداللہ بن سبا کا جال وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اقتدار کے لحاظ سے پانچ اہم مراکز تھے، مدینہ، کوفہ، بصرہ ، دمشق اور قاہرہ عبداللہ بن سبا کو ان پانچوں مراکز کا خیال تھا۔ حضرت عثمان نے دوسرے سال بھی سب حکام و عمال کو مدینہ بلوایا۔ ایک مجلس منعقد ہوئی جس میں حضرت علی، امیر معاویہ، طلحہ، زبیر وغیرہ تھے۔ امیر معاویہ نے حضرت عثمان کی حمایت کی۔ چند لوگوں نے شکایت کی کہ حضرت عثمان اپنے رشتہ داروں پر خاص مہربان ہیں، انہیں بڑے بڑے عہدے دیتے ہیں۔ حضرت عثمان نے جواب دیا کہ اقارب کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے عہدے کی مہارت کی بنا پر ان کا تقرر ہوا ہے۔ حضرت عثمان کی نرمی دیکھ کر حضرت معاویہ نے کہا کہ مدینہ پر حملہ کا خدشہ ہے۔ مصر سے ایک ہزار کا مجموعہ حج کے بہانے نکل پڑا۔ ایک ہزار کا مزید مجموعہ کوفہ سے چل پڑا۔ یہ سب مدینہ آگئے۔ ان لوگوں نےحضرت علی، طلحہ اور زبیر پر اثر ڈالنا شروع کیا کہ خلافت سے حضرت عثمان کو ہٹا دیں۔ بلوائیوں نے حضرت عثمان کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کر دیا۔ محاصرہ شروع کر دیا گیا جو تیس دن چلا سب سے زیادہ فساد خود حضرت عثمان کا میر منشی ( پرسنل سکرٹری ) مروان بن الحکم نے مچایا جو آپ کا چچازاد بھائی بھی تھا۔ میر منشی کی حیثیت سے غلط احکام جاری کرنے لگا۔ اگر حضرت عثمان مروان کو بلوائیوں کے سپرد کر دیتے تو فتنہ ختم ہو جاتا۔ ہر شخص کو ملال تھا تو مروان سے تھا۔ جب محاصرہ شدت اختیار کرنے لگا تو حضرت علی نے اپنے دونوں صاحبزادوں کو حضرت عثمان کی حفاظت کے لئے بھیجا۔ حضرت زبیر اور حضرت طلحہ نے ابھی اپنے صاحبزادوں کو حضرت عثمان کی حفاظت کے لئے مقرر کیا۔ انہوں نے بلوائیوں کو اندر آنے سے روکا۔
بلوائی دیوار کود کر خلیفہ کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔۔۔۔۔جاری۔۔۔