Hazrat Usman Gani ki Shahadat

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت

آخری قسط:
بلوائی دیوار کود کر خلیفہ کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ ان کا سردار عبدالرحمن بن عدیس تھا۔ حضرت عثمان سے کہنے لگا اگر حلف میں آپ سچے ہوں یا جھوٹے دونوں صورتوں میں خلافت کے قابل نہیں۔ جھوٹے ہوں تو مسلمانوں کا خلیفہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اگر سچے ہو تو ایسے ضعیف خلیفہ کو جس کی اجازت کے بغیر جو جس کا جی چاہے لکھ بھیج دے خلیفہ نہیں کہا جا سکتا۔ زیر بحث مروان حکم کی شرارت کا تذکرہ تھا جس نے خلیفہ کی اجازت کے بغیر ناموزوں احکام جاری کردئے تھے۔ بلوائیوں نے تیر اندازی شروع کردی محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کی ریش مبارک پکڑ لی۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے محمد! اگر تمہارے والد حضرت صدیق اکبر تم کو میرے ساتھ یہ برتاؤ کرتے دیکھتے تو خدا کی قسم وہ تڑپ اٹھتے۔ یہ سن کر محمد بن ابی بکر کے ہاتھوں میں لرزہ پڑ گیا۔ پیچھے ہٹ گئے۔ ایک اور بلوائی، کنانہ بن بشیر، آگے بڑھا اور حضرت عثمان پر حملہ کیا اور انہیں شہید کر دیا ۔ حضرت عثمان کی بیوی نائلہ نے روکنا چاہا تو ان کی انگلیاں کٹ کر الگ جاپڑیں۔
حضرت عثمان اس وقت شہید ہوئے جب کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت فرمارہے تھے۔ ایک اور بلوائی عمر بن خبالی نے آپ کو ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ بلوائی دیوار پھاند کر بھاگ گئے۔ تین دن تک حضرت عثمان غنی کی لاش بے گور و کفن پڑی رہی۔ آخر کار بغیر غسل کے انہیں کپڑوں میں جو وہ پہنے ہوئے تھے دفن کئے گئے۔ جنت البقیع کے قریب مدفون ہوئے۔ آپکی عمر ۸۲ سال تھی ۔ حضرت عثمان کے شہید ہوتے ہی امت مسلمہ کو فتنوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور عجیب عجیب واقعات ظہور میں آئے۔ حضرت عثمان کا قتل قیامت خیز منظر پیش کر دیا۔ قبائلی تنگ نظری پھر ابھر آئی۔ دین متین تفرقوں میں پھنس گیا۔ مال و دولت کی ہوس نے جذبہ ایمانی، حمیت اسلامی و درد انسانی کو بری طرح مجروح کر دیا۔ عام مسلمان منافقوں کے جال میں پھنس گئے۔ قریش کے دو قبیلے بنو ہاشم اور بنوامیہ آپس میں لڑ پڑے۔ حضرت عثمان کی نرم مزاجی سے بنوامیہ نے خوب فائدہ اٹھایا۔ بنو ہاشم و دیگر قبائل مخالف بن گئے۔ مال و دولت کی افراط نے اخلاقی قوتوں کو کمزور کر دیا جس کا اندازہ حضرت عمر کو تھا جبکہ وہ ایران کے مال غنیمت کو دیکھ کر رو پڑے تھے۔ ان کا اندیشہ حرف بہ حرف صحیح نکلا۔ فتنہ و فساد کا ایک اور سبب یہودی عبداللہ بن سبا تھا۔
تاریخ اسلام کا یہ ایک دردانگیز المیہ تھا کہ ایک نہایت ہی حلیم و سلیم خلیفہ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ حضرت عثمان حضورۖ کے داماد تھے، صاحب ثروت تھے، سخی تھے، رحم دل تھے متقی تھے۔ آخری وقت تک ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے۔ عہد خلافت میں کبھی آپ نے دوسرے لوگوں سے برتری اور فضیلت تلاش نہیں کی۔ حضرت عائشہ کا کہنا ہے کہ حضرت عثمان سب سے زیادہ صلہ رحم کرنے والے اور سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والے تھے۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

حوالہ: عالم اسلام کے جواہر پارے (جلد دوم)

اپنا تبصرہ بھیجیں