حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت:
پہلی قسط:
شیر خدا، فاتح خیبر ، حیدر کرار ابوالحسن، ابوتراب ، حضرت علی مرتضی مجاہد اعظم تھے۔ مرد مومن ، مرد خدا، متقی، پاک دل ، پاک باز تھے۔ رفاقت صدیقی ، شجاعت فاروقی و ریاضت عثمانی کے مرکب تھے۔ شافع کوثر صلی اللہ ﷺ کے داماد تھے ۔ اس ذات ، اقدس کی نسل و نسب کی افزائش کا وسیلہ تھے۔ شریعت، طریقت کے امام تھے۔ ان کے علم عرفان کو صوفیائے کرام تصوف کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کے ذہن کے جواہر پارے آج بھی ایک عالم کو مسحور کر دیتے ہیں ۔ ان کی تلوار ، سیف ذوالفقار سے عرب و عجم لرز جاتا تھا۔ خلافت راشدہ کا آخری چراغ تھے۔ نوجوانوں میں اسلام قبول کرنے والوں میں اولین تھے۔ بڑے فصیح و بلیغ وخوش مزاج تھے۔ سوائے جنگ تبوک تمام جنگوں میں شریک تھے۔ غزوہ بدر میں نمایاں کام انجام دیا۔ غزوہ احد میں آپ کے جسم پر سولہ زخم لگے تھے۔ غزوہ خیبر میں آپ نے خیبر کا دروازہ اپنی پیٹھ پر لادلیا جبکہ کئی لوگ اس کو ہلا بھی نہیں سکتے تھے۔ حضرت عمر کی خلافت میں آپ مدینہ کے قاضی تھے ۔ قضاوت کے ماہر تھے۔ حضور نے فرمایا تھا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا تھا ہم سب میں علی زیادہ معاملہ فہم ہیں۔ حضرت عائشہ کا قول ہے کہ حضرت علیؓ سے زیادہ سنت کا واقف اب کوئی نہ رہا۔
حضرت عثمان کی شہادت کے بعد دو چار دن باغیوں کےراج تھے۔ تاہم انہیں خوف تھا کہ اگر جلدخلیفہ کا انتخاب نہ ہوا تو مختلف مقامات سے فوج آکر حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لے لیگی ۔ خلافت کے حقدار حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت علی تھے اور یہ تینوں موزوں تھے۔ سازش کا سردار عبد اللہ بن سبا بھی مدینہ پہنچ گیا۔ اس نے ان تینوں حضرات کی خدمت میں درخواست کی کہ خلافت قبول فرمالیں ۔ گویا یہ خلافت کا مختار بن گیا تھا۔ ہر ایک بزرگ نے خلافت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ عبد اللہ بن سبا نے دھمکی دی کہ اگر یہ بزرگ خلافت نہ قبولے تو وہ تینوں قتل کر دئے جائینگے ۔ مدینہ والوں کے ہوش اڑ گئے ۔ فوراً حضرت علی کے پاس پہنچے۔ طلحہ وزبیر کے انکار پر بمشکل حضرت علی راضی ہو گئے اور سب لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ حضرت طلحہ نے بیعت کے لئے یہ شرط رکھی کہ قاتلان عثمان کا قصاص لینا ہوگا ۔ حضرت علی نے یہ شرط منظور کر لی۔ بنوامیہ کے بہت سے اشخاص نے بیعت نہیں کی۔ وہ مدینہ سے شام کی طرف چلے گئے ۔ جاتے جاتے حضرت نائلہ کی انگلیاں اورحضرت عثمان کا خون آلود کر تہ بھی لے گئے اور حضرت معاویہ کو پیش کر دیا۔
حضرت علی نے حکم دیا کہ باغی اپنے اپنے مقامات کو واپس ہو جائیں۔ عبداللہ بن سبا نے صاف انکار کر دیا ۔ حضرت طلحہ و حضرت زبیر کوفہ جانا چاہتے تھے۔ حضرت علی نے اجازت نہیں دی۔ انہیں خدشہ ہوا کہ وہ وہاں کچھ شرمچائیں گے ۔ حضرت عثمان کے عہد کے سبھی عاملوں اور والیوں کو حضرت علی نے معزول کر کے ان کی جگہ دوسروں کو مقرر کیا، گو کہ یہ عجلت ضروری نہیں تھی۔ اس سے بدامنی میں اضافہ ہوا۔ معاویہ کو نکال کر مغیرہ ابن عباس کو شام کا گورنر بنانا چاہتے تھے۔ ابن عباس نے کہا کہ معاویہ حضرت عثمان کے رشتہ دار ہیں۔ میں وہاں پہنچتے ہی وہ مجھے قتل کر دینگے۔ بہتر ہے کہ حکمت عملی سے حضرت معاویہ سے بیعت لے لی جائے ۔ حضرت علی نے کہا کہ تلوار کے ذریعہ میں معاویہ کو سیدھا کر دوں گا، مختلف صوبوں میں جب نئے نئے گورنر مقرر ہوئے تو نئے نئے مسائل شروع ہوئے ۔ حضرت علی کے سب سے بڑے حریف امیر معاویہ تھے۔ ملک شام حضرت علی کا مخالف بن گیا۔ حضرت عثمان کی قمیص دمشق کی جامع مسجد کے منبر پر رکھ کر لوگوں کو مشتعل کیا جانے لگا۔ حضرت علی نے شام پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی ۔ یہ ابتدا تھی آپ کی تین جنگوں کی ، اول جنگ جمل جس میں حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت طلحہ و حضرت زبیر شریک تھے ۔ دوم جنگ صفین جس میں حضرت معاویہ سے مقابلہ ہوا۔ سوم جنگ نہرواں جس میں خوارج سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ حضرت علی کو خبر لی کہ مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھیوہاں پہنچ گئے تھے۔ یہ سن کر آپ نے ملک شام کا ارادہ ترک کر دیا۔
جنگ جمل میں حضرت عائشہ شریک تھیں ۔ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت وہ مکہ سے واپس ہو رہی تھیں۔ شہادت کی خبر سن کر پھر مکہ واپس ہو گئیں۔ کہنے لگیں کہ حضرت عثمان مظلوم مارے گئے ہیں۔ میں ان کے خون کا بدلہ لوں گی۔ یہ سن کر مکہ کے لوگ بنوامیہ کے حامی ہو گئے ۔ حضرت طلحہ اورحضرت زبیر بھی مکہ پہنچ گئے اور لشکر کے سردار بن گئے ۔ انہوں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ حضرت علی قاتلان عثمان سے قصاص لینے میں تامل کر رہے ہیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ کوچ بصرہ کی طرف ہو۔ ڈیڑھ ہزار کی فوج تیار ہوگئی ۔ مروان بن الحکم اور سعید بن العاص بھی شریک ہو گئے۔ فوج کی تعداد تین ہزار ہو گئی۔ لشکر بصرہ پہنچ گیا۔ بغیر مزاحمت کے بصرہ پر قبضہ ہو گیا ۔ حضرت علی بھی چل پڑے۔ یہ بڑا نازک وقت تھا جبکہ خاندان رسالت میں خوں ریزی کا خدشہ تھا۔ حضرت علی کے لشکر میں منافق عبداللہ بن سبا بھی تھا۔ کوفہ میں بحث چل پڑی کہ حضرت عائشہ کا ساتھ دیں یا حضرت علی کا۔ ابو موسیٰ اشعری جو کوفہ کے گورنر تھے۔ حضرت علی کے حق میں نہیں تھے۔ انہیں برطرف کر دیا گیا۔ کوفہ کی نو ہزار کی جمعیت حضرت علی کے ساتھ ہوگئی۔ حضرت علیؓ نے حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ و حضرت زبیر کی خدمت میں مصالحت کی غرض سے سفیر بھیجا ۔ کچھ نتیجہ نہ نکلا ۔ عبداللہ بن سبا نے غلط افواہیں پھیلانا شروع کر دی اور یہ سازش شروع کی کہ طلحہ، زبیر اور حضرت علی تینوں کو قتل کر دیا جائے ۔ باغیوں نے پھرارادہ بدل دیا۔ حضرت علی کے لشکر میں شریک رہے۔
بصرہ کے قریب حضرت عائشہ اور حضرت علی دونوں کا لشکر ۔۔۔جاری۔۔۔