عمر بن عبدالعزیز کی خلافت

حضرت عمر بن عبدالعزیز

پہلی قسط:
حضرت عمر و بن عبد العزیز وہ صالح خلیفہ تھے کہ جن کا شمار خلفائے راشدین کی صف میں آتا ہے۔ صدیق اکبر، فاروق اعظم ، عثمان غنی ، حیدر کرار کے بعد یہ پانچواں خلیفہ تصور کئے جاتے ہیں جبر و تشدد ظلم واستبداد، حق تلفی و نا انصافی کے دور میں آپ نے خدا ترسی و فرض شناسی ، ہمدردی و انصاف و عدل و داد کی ایک بے نظیر مثال قائم کر دی تھی۔ گویا آپ قلیل مدت کے لئے ہی سہی خاندان امیہ کی لغزشوں و کمزوریوں کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ہی مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تھے۔ آپ کے والد عبد العزیز مصر کے حاکم تھے اور آپ کی والدہ حضرت فاروق اعظم کی پوتی یعنی عاصم بن فاروق کی بیٹی تھیں۔ حضرت عمر فاروق نے پیشین گوئی کی تھی کہ اس نسل سے ایک ایسا مرد مؤمن ابھرے گا جو آفتاب کی طرح چمکے گا۔ اور اس کی پیشانی پر ایک داغ ہوگا۔ چنانچہ بچپن میں عمرو بن عبدالعزیز کو ایک گھوڑے نے ایک ایسا کاری ضرب لگایا تھا کہ ان کی پیشانی پر ایک داغ آگیا تھا۔ ان کے باپ عبدالعزیز زخمی چہرے سے خون دھوتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ اگر تو داغ دار ہے تو بہت سعادت مند ہے۔
ایسے عہد میں جبکہ خلافت کے لئے رسہ کشی شدت سے تجاوز کر جاتی تھی آپ جیسے زاہد و عابد کا خلیفہ انتخاب کیا جانا تعجب سے کچھ کم نہیں ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے بیٹے ایوب کو ولی عہد بنادیا تھا۔ لیکن وہ سلیمان کے بقید حیات ہی فوت ہو گیا ۔ سلیمان اپنے دوسرے بیٹے داؤد کے حق میں تھا۔ اسے قسطنطنیہ کے محاصرہ پر بھیج دیا گیا تھا اور وہ خبر نہ تھی کہ وہ زندہ بھی ہے یا مر گیا۔ سلیمان کا ارادہ ہوا کہ اس کے ایک اور بیٹے کو ولی عہد بنادوں ۔ مگر وہ اتنا کم سن تھا کہ ایک بزرگ ہستی رجا بن حیواۃ نے صلاح دی کہ اس کا انتخاب خطرہ سے خالی نہیں ۔ رجا بن حیواۃ نے کہا کہ مصلحت و انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک نیک و دین دار شخص انتخاب باب ہو۔ عمرو بن عبدالعزیز سے بہتردوسرا شخص قیاس بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وہ آپ کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں مدینہ کے حاکم بھی رہے ہیں۔ ہر دلعزیز بھی ہیں اور انتظامی امور میں کافی مہارت بھی ہے۔ سلیمان نے کہا کہ اس کے دیگر بھائی مخالفت میں ہنگامہ مچادیں گے۔ رجاء بن حیواۃ نے کہا کہ آپ عمرو بن عبدالعزیز کو خلیفہ بنا کر ساتھ ہی یہ وصیت بھی کر دیں کہ ان کے بعد یزید بن عبد الملک خلیفہ ہو گا۔ سلیمان کو یہ رائے پسند آئی او راس نے ولی عہدی کا فرمان لکھ کر اس پر مہر لگا دی ۔ رجاء بن حیواۃ سے کہا کہ باہر جا کر اس بات کا اعلان کرو کہ سلیمان خلیفہ کی وصیت پر عمل کیا جائے گا۔ اس بات پر سب کی بیعت لے لو اور اگر کوئی انکار کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ یہ حکم سنتے ہی سب نے بیعت کر لی ۔ رجاء بن حيواۃ بیعت لے کر جب واپس ہو رہے تھے تو ہشام بن عبدا ملک سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں امیر المومنین نے میرا نام نظر انداز نہ کر دیا ہوا گر نام بتاؤ تو میں ضروری کارروائی کرلوں گا رجاء بن حیواۃ نے کہا کہ یہ مخفی بات ہے ولی عہد کا نام بند لفافہ میں ہے اور اس پر مہرلگی ہے۔ آگے چل کر عمر و بن عبد العزیز سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کہیں میرا نام اس میں درج نہ کر دیا ہو۔ مجھے خوف لگ رہا ہے کہ خلافت کی مصیبت میرے سر نہ آ پڑے۔ اگر تم بتاؤ تو میں کوشش کروں گا کہ اس مصیبت سے نجات پالوں ۔ رجاء نے ان کو بھی وہی جواب دیا جو ہشام بن ملک کو دیا تھا۔ قدرت کے کھیل کہ جس کا نام حذف کیا گیا ہے وہ بزور شمشیر درج کرانا چاہتا ہے اور جس کا نام درج کیا گیا ہے وہ اس کو مٹانا چاہتا ہے۔
عمر و بن عبد العزیز کا بچپن مدینہ منورہ میں گذرا۔ وہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ علماء فقہا کی صحبت نے ان کے جو ہر کو خوب ابھارا۔ علم و فضل میں ان کا وہ مرتبہ تھا کہ اگر خلیفہ نہ ہوتے تو ان کا شمارائمہ شرع میں ہوتا اور وہ سب سے بڑے امام مانے جاتے ۔ مدینہ میں عبداللہ بن عبد اللہ کے تحت ان کی تربیت ہوئی تھی۔ کسی نے محمد بن علی بن حسین سے آپ کی نسبت سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ بنوامیہ کے نجیب ہیں اور قیامت میں بصورت امت واحد اٹھیں گے۔ خلیفہ ہونے سے پیشتر آپ قیمتی ونفیس لباس پہنتے تھے۔ خلیفہ ہونے کے بعد درویشانہ زندگی اختیار کی ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم عمرو بن عبدالعزیز کے پاس اس خیال سے جاتے کہ وہ ہم سے کچھ سیکھیں گے۔ مگر ان کے پاس آکر ہم کو خود انہیں سے بہت کچھ سیکھنا پڑا۔
جب ان کے والد عبد العزیز کا انتقال ہوا تو آپ مدینہ میں تھے۔ عبد الملک بن مروان نے ان کو دمشق بلا کر اپنی بیٹی فاطمہ کے ساتھ شادی کر دی۔ ولید نے ان کو مدینہ کا حاکم مقرر کر دیا جہاں ان کی گورنری مقبول عام بن گئی۔ چھ سال وہاں حاکم رہے اور کئی مرتبہ حج کیا۔ فقہا ہمیشہ ان کے گرد رہتے اور فیض پاتے۔ آپ نے فقہا کی ایک کونسل ترتیب دی۔ انہیں کی صلاح ورائے سے ملکی امورات انجام پاتے۔ حجاج کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اس نے ولید سے شکایت کی اور انہیں مدینہ کی گورنری سے معزول کرا دیا ۔ ولید جب اپنے بیٹے کو ولی عہد بنا کر سلیمان کو خلافت سے محروم رکھنا چاہا تو سب سے پر زور مخالفت عمرو بن عبد العزیز کی رہی۔ وہ حق کے لئے اپنی جان بھی دینے تیار تھے۔ چنانچہ ولید نے آپ کو قید کر دیا۔ تین برس تک قید خانے میں رہے۔ پھر کسی کی سفارش سے رہا ہوئے۔ یہی ایک وجہ بھی تھی کہ سلیمان آپ کا معترف تھا مشکور تھا اور ولی عہدی کے معاملہ میں نیک نیتی و پاکبازی کا اظہار کیا۔ خلیفہ ہونے کے بعد آپ کو وزیر اعظم بنایا اور مرتے وقت آپ کی خلافت کے لئے وصیت لکھ گیا۔
جاری۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں