عمربن عبدالعزیز کی خلافت
دوسری قسط:
سلیمان کی وفات کے بعد جب اس کی وصیت کا اعلان ہوا تو ہشام بن عبدالملک نے بیعت سے انکار کر دی۔ مگر رجاء بن حیواۃ نے دھمکی دی کہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ ہشام خاموش ہو گیا۔ عوام آپ کی خلافت سے بہت خوش تھے۔ اولاد عبد الملک بھی نا خوش نہیں تھے اس لئے کہ وصیت میں آپ کے بعد یزید بن عبدالملک خلیفہ ہونے والے تھے۔ جب رجاء بن حیواۃ نے مجمع میں وصیت نامہ پڑھا تو عمرو بن عبد العزیز کا یہ رد عمل رہا کہ وہ اپنا نام سن کر اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے۔ رجاء نے آپ کو زبر دستی منبر پر لا بٹھایا اور سب سے پہلے ہشام کو بلایا کہ بیعت کرو۔ اس نے بیعت کی۔ دوسروں نے بھی اتباع کی ۔ کسی نے چون و چرانہ کی بیعت کے بعد آپ کی سواری کے لئے شاہی گھوڑ ا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ میری سواری کے لئے میرا ذاتی خچر کافی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے اسی خچر پر سوار ہو کر اپنے خیمہ تک آئے ۔ لوگوں نے آپ کو قصر خلافت میں لے جانا چاہا۔ آپ نے فرمایا وہاں ایوب بن سلیمان کے اہل و عیال ہیں ۔ جب تک وہ وہاں رہیں گے میں اپنے خیمہ میں رہوں گا ۔ آپ نے خلیفہ بننے کے بعد جو خطبہ دیا اس میں کہا کہ میں کسی حال میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ البتہ میرا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ یاد رکھو کہ احکام الہی کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
بیعت خلافت کے بعد آپ جب اپنے گھر آئے تو رخسار آنسوؤں سے تر تھے۔ آپ کی بیوی نے گھبرا کر پوچھا خیریت تو ہے؟ آپ نے فرمایا کہ خیریت کہاں ہے؟ میری گردن میں امت محمدی کا اتنا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ میں وہ سہ نہیں سکتا ۔ ننگے ، بھوکے، بیمار، مظلوم، مسافر ، قیدی ، بچے، بوڑھے، فقیر، مسکین سب کا بوجھ میرے سر پر آن پڑا ۔ اسی خوف سے میں رورہا ہوں کہ کہیں قیامت میں مجھ سے پرسش ہو اور میں جواب نہ دے سکوں۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم تمام زیورات بیت المال میں داخل کر دو، ورنہ میں تم سے جدائی اختیار کرلوں گا ۔ آپ کے بیوی نے تمام زیورات جن میں ایک قیمتی موتی بھی جو عبد الملک نے اپنی بیٹی کو دیا تھا سب مسلمانوں کے لئے بیت المال میں جمع کر دیا۔ آپ کی وفات کے بعد یزید بن عبدالملک جو خلیفہ بنا تو اس نے آپ کی بیوی فاطمہ سے کہا کہ آپ چاہیں تو وہ زیورات اور موتی بیت المال سے واپس لے لیں ۔ آپ نے کہا کہ جس چیز کو میں نے اپنی خوشی سے بیت المال میں داخل کر دیا تھا اس کو اب عمر و بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد کیسے واپس لے سکتی ہوں؟
ولید کا ایک بیٹا عبد العزیز بن ولید سلیمان کی وفات کے وقت موجود نہ تھا۔ اس نے بیعت سے انکار کی اور خلافت کا دعویٰ کیا۔ اور فوج لے کر دمشق کی طرف آیا۔ جب دمشق پہنچا اور عمر و بن عبدالعزیز کی خلافت کا حال سنا تو لڑائی سے باز آیا اور فوراً آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ آپ نے خلیفہ ہوتے ہی حکم صادر فرمایا کہ کوئی حضرت علیؓ کی شان میں گستاخی نہ کرے۔ اس وقت تک بنوامیہ میں عام رواج تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو برا کہتے اور جمعہ کے خطبہ میں بھی ان پر لعن طعن سے دریغ نہ کرتے تھے۔ خلافت میں عدل و انصاف لازمی ہے وہ جانتے تھے کہ حجاج بن یوسف نے جبر و استبداد کو روا رکھا تھا۔ اس کے عامل بھی اسی کی پیروی کرتے تھے۔ اس لئے اس کے نقش قدم پر چلنے والے سب عمال کو آپ نے معزول کر دیا۔ خراسان کا گورنر یزید بن مہلب جزیہ وصول کر کے بیت المال میں جمع نہیں کر رہا تھا۔ اس کو بھی معزول کر دیا اور قید کر دیا۔ مسیلمہ بن عبد الملک قسطنطنیہ کے محاصرہ سے تنگ آگئے تھے۔ ان کو آپ نے واپس بلوالیا۔ آپ نے خراسان کے حاکم جراح بن عبداللہ کو لکھا جو شخص نماز پڑھتا ہو اس کو جزیہ معاف کر دو۔ یہ سنتے ہی لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے ۔ جراح بن عبداللہ خراسان کا حاکم تھا۔ اس نے نو مسلم بھائیوں کا ناز یبا طریقہ سے امتحان لینے لگا کہ وہ صدق دل سے ایمان لے آئے ہیں یا نہیں۔ آپ نے جراح کو طلب کیا اور پوچھا کہ خراسان سے کب چل پڑے تھے۔ اس نے کہا کہ رمضان کے مہینہ میں ۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے خلاف شکایت سچی لگتی ہے اس لئے کہ تو نے کیوں رمضان کے مہینہ و ہیں قیام کر کے ماہ صیام کے گذرنے کا انتظار نہ کیا۔
آپ جہاں کہیں بغاوت کے آثار پاتے حکم دیتے کہ اس کو دبا دیا جائے ۔ آذر بائیجان کے علاقے پر دشمنوں نے حملہ کر کے مسلمانوں کو لوٹا ۔ آپ نے فوراً فوج بھیج کرفتنہ کا خاتمہ کیا اور اسلامی رعب از سر نو قائم کیا۔ سندھ میں اسلام کی خوب اشاعت ہوئی ۔ رومیوں کے مقابلہ میں بھی فتوحات حاصل ہوئیں۔ اندلس میں سلطنت مستحکم ہوئی۔ اپنے زہد و عبادت کے ساتھ نظام حکومت پر کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ بنوامیہ کا ایک طبقہ آپ کی خلافت سے ناراض رہا۔ اسلئے کہ وہ اپنے دور خلافت میں اچھی اچھی جاگیروں پر اپنے استحقاق سے زیادہ قبضہ کر لیا۔ فاروق اعظم کی یہ پالیسی کہ عربوں کو ملک فتح ہونے پر جاگیر یا زمین نہ دی جائے بہت مناسب تھی۔ مسلمانوں کا ملکوں پر قبضہ مال و دولت یا زر زمین کے لئے نہیں تھا بلکہ حق کی اشاعت و رعایا کی فلاح و بہبود تھا۔ جب بنوامیہ نے اس پالیسی کو بدل دیا تو اسلامی حکومتوں میں فرق باقی نہ رہا۔ عمرو بن عبدالعزیز کو اس بات کا کافی احساس تھا۔ انہوں نے اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی اور اصلاح اپنے گھر سے شروع کی۔ خلیفہ ہوتے ہی بیگم سے کہا کہ سارے زیورات بیت المال میں داخل کر دو ۔ پھر آپ نے بنوامیہ کو جمع کر کے خطبہ دیا کہ رسول اکرم کے پاس فدک کا باغ تھا جس کی آمدنی سے بیواؤں کا نکاح اور محتاجوں کی مدد کی جاتی تھی۔ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمۃ الزہرا نے اس باغ کو حضور سے مانگا۔ حضور نے دینے سے انکار کر دیا ۔ صدیق اکبر اور فاروق اعظم کے زمانے تک اس باغ کی وہی حالت رہی ۔ حضرت عثمان غنی کے عہد میں مروان نے اس باغ پر قبضہ کر لیا۔ مروان سے منتقل ہوتے ہوتے وہ باغ عمرو بن عبد العزیز تک ورثہ میں پہنچا۔ آپ نے کہا کہ جو باغ حضور نے اپنی بیٹی کو نہ دیا اس پر دوسروں کا کیا حق ہو سکتا ہے؟ لہذا میں تم سب کو گواہ کرتا ہوں کہ وہ باغ اسی حالت میں چھوڑ دیتا ہوں جیسا کہ وہ آنحضرت کے زمانے میں تھا۔ اس کے بعد اپنے تمام رشتہ داروں اور بنوامیہ سے وہ تمام جائیدادیں اور اموال اور سامان واپس کرائے جو نا جائز طور پر ان کے قبضہ و تصرف میں تھے۔ آپ نے بنوامیہ کے اشراف اور سر دراوں سے ایک دن مخاطب ہو کر کہا کہ میں تم کو اپنے دین اور مسلمانوں کے اغراض کا مالک کسی طرح نہیں بنا سکتا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کیا قرابت و رشتہ داری کا بھی آپ کے پاس کوئی لحاظ نہیں تو آپ نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں تمہارے اور ایک ادنی مسلمان کے درمیان میرے نزدیک رتی بھر فرق نہیں ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد خلافت امیہ میں وہ شان جمہوریت بالکل جاتی رہی اور حکومت میں وہی شخصی مطلق العنان حکومت کا رنگ پیدا ہو گیا جو قیصر و کسری میں پایا جاتا تھا۔ آپ نے وہی اسلامی جمہوری شان کو پھر واپس لانے کی کوشش کی جو صدیق اکبر و فاروق اعظم کے زمانے میں تھی۔ جب بنوامیہ کے ہاتھوں سے جائیداد یں اور املاک و مال نکل جانے لگا اور مساوات ظہور میں آنے لگے تو مخالفت شروع ہوئی ۔ بنوامیہ نے آپ کے وجود کو خطرہ سے خالی نہیں سمجھا۔ ان لوگوں نے عمر بن عبدالعزیز کی پھوپی فاطمہ بنت مروان سے سفارش کروائی کہ آپ اپنی روش کو بدل دیں ۔ مگر آپ نے اپنی پھوپی کو ایسا سمجھایا کہ وہ کہنے لگیں کہ میں تمہارے بھائیوں کے اصرار سے تمہیں سمجھانے آئی تھی۔ مگر جب تمہارے ایسے پاک اور نیک خیالات ہیں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ بنوامیہ سے کہا کہ تم نے فاروق اعظم کی پوتی سے رشتہ کیا تھا۔ لہذا وہی فاروقی رنگ اولاد میں موجود ہے ۔ بنوامیہ کے ہر عہد میں خوارج شور مچاتے چلے آتے تھے ۔ مگر جب عمرو بن عبدالعزیز خلیفہ بنے تو آپ کی نیکی اور پاک باطنی کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے خود فیصلہ کیا کہ آپ جیسے صالح خلیفہ کے زمانے میں کوئی شرارت نہیں کریں گے۔ جب تک یہ فرشتہ خصلت خلیفہ موجود ہے ہم اپنی سرگرمیوں کو ملتوی رکھیں گے۔ چنانچہ آپ کے عہد خلافت میں خارجیوں نے مطلق سر نہیں اٹھایا۔ جب خراسان میں کچھ گڑ بڑ کی اطلاع ملی تو آپ نے خوارج کے سردار کو لکھا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی حمایت میں اٹھے ہو، مگر اس بات کا حق تمہارے مقابلہ میں ہم کو زیادہ ہے۔ تم ہمارے پاس چلے آؤ تا کہ مباحثہ ہو کہ کون حق پر ہو ۔ ہم اگر حق پر ہیں تو ہمارا ساتھ دو۔ اگر تم حق پر ہو تو ہم تمہاری بات مان لیں گے۔ اس خط کو پڑھ کر خوارج کی طرف سے دو اشخاص بھیجے گئے ۔ مناظرہ ہوا۔ جب خوارج نے کہا کہ خلفائے بنوامیہ کافر تھے۔ ان پر لعنت بھیجنا ضروری ہے تو آپ نے کہا کہ تم نے کبھی فرعون پر بھی لعنت نہیں بھیجی حالانکہ وہ کافر تھا۔ لعنت بھیجنے کو ضروری نہ سمجھو۔ جو لوگ تو حید اور رسالت کے قائل اور ارکان اسلام پر عامل ہیں انکو کافر کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اس مباحثہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ دو خارجیوں میں سے ایک نے اپنی جماعت کو ترک کر کے عام مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔ ساری خوارج جماعت نے بھی بالکل خاموشی اختیار کر لی۔