حضرت خالد بن ولید Khalid Bin Waleed

حضرت خالد بن ولید

پہلی قسط:-
خالد بن الولید عسکری دنیا کے مہر تاباں تھے، کسی فاتح کو یہ فضیلت حاصل نہیں کہ تین سو جنگیں جیتیں اور کوئی جنگ نہ ہارے۔ کسی مومن کو یہ سعادت حاصل نہیں کہ دربار رسالت سے سیف اللہ کا یعنی اللہ کی تلوار کا لقب پائے۔ کسی مجاہد کو یہ شرف حاصل نہیں کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، عہد صدیقی و عہد فاروقی یعنی برکات نبوی کے سارے زمانے میں سپہ سالار اعظم کا عہدہ سنبھالے رکھے، عالم اسلام میں دو ہی ایسی عظیم ہستیاں ہمیں نظر آتی ہیں جن کے دم خم سے عروج آدم خاکی اپنے نکتہ کمال تک پہنچا۔ ایک تھے حضرت عمر اور دوسرے خالد بن ولید، دونوں میں کئی باتیں مشترک تھیں۔ دیکھنے میں بھی حضرت خالد حضرت عمر جیسے ہی لگتے تھے۔ قد و قامت، شکل و صورت اور آواز کے لحاظ سے بھی مشابہت تھی۔ حتی کہ بعض لوگ غلطی سے خالد کو حضرت عمر سمجھ بیٹھتے تھے۔ دونوں قبول اسلام سے قبل کٹر دشمنان اسلام تھے۔ دونوں قبول اسلام کے بعد شان اسلام کوثریا تک لے جانے کے حامل بنے۔ دونوں کی صدق دلی، جانبازی، بے باکی، اولوالعزمی، بہادری، حب اسلام، وحب رسول ضرب المثال بن گئی ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ خالد کا دائرہ عمل صرف میدان جنگ تھا، وہ تاریخ ساز فاتح تھے، اور حضرت عمر حکومت الہیہ کے معمار تھے، خلافت راشدہ کے روشن چراغ تھے۔ مگر غزوہ موتہ، غزوہ حنین، غزوہ طائف، جنگ یرموک اور کئی دیگر جنگوں کے علاوہ فتح شام و عراق و ایران کے غازی، سپہ سالار اعظم خالد بن ولید کے بغیر وہ حکومت الہیہ مدینتہ الفاضلہ تک محدود ہو کر رہ جاتی۔ اسلام کا ڈنکا جو سارے
عالم میں بجاوہ خالد کے خون جگر سے سینچا گیا تھا۔
یہ بھی صحیح ہے کہ اسلام سپہ سالار اعظم یا کسی جلیل القدر ہستی کو بھی انہیں اقدار عالیہ سے پرکھتا ہے جو عوام الناس و ساری خلقت کی فلاح و بہبود کے لئے تفویض پائے گئے ہوں۔ چنانچہ جب خالد کی مقبولیت اس قدر بڑھی کہ سپاہی ان پر فریفتہ ہونے لگے اور سمجھنے لگے کہ ان کے جھنڈے کے تلے جہاد میں شرکت فتح ونصرت کی ضمانت ہے، یہ خیال ایک فتنہ بن سکتا تھا۔ اس لئے حضرت عمر نے انہیں اسلامی لشکر کی قیادت سے معزول کر دیا۔ خالد کی عظمت تھی کہ بلا چون و چرا حکم کی تعمیل کی۔ اور بر سر عام اس معزولی کے تلخ گھونٹ کو ایسے نوش فرمایا گویا سپہ سالاری کا عہدہ دردسر تھا۔ اچھا ہوا کہ یہ نشہ سر سے اتر گیا۔ حضرت عمر جیسا دور اندیش اور خالد جیسا سمجھدار تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا۔
خالد کے والد الولید بن المغیرہ قریش کے شرفاء اور سرداروں میں سے تھے۔ مکہ کے بڑے دولت مندوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ قریش انہیں العدل (انصاف پسند ) اور الوحید ( یکتا ) کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ ان کا قبیلہ شرافت و خوشحالی کے علاوہ شجاعت و جنگ جوئی کے لئے بھی مشہور تھا۔ خالد کی کنیت ابوسلیمان اور ابو الولید اور لقب سیف اللہ تھا۔ سلسلہ نسب ساتویں پشت میں حضرت ابو بکر اور رسول خدا سے جاملتا تھا۔ ان کے والدہ لبابۃ الصغریٰ بنت الحارث الہلالیہ تھیں۔ جو ام المومنین حضرت میمونہ بنت الحارث کی ہمشیرہ تھیں۔ قبیلہ قریش کی مذہبی قیادت بنو ہاشم اور بنو عبدالدار کے حصے میں آئی۔ سیاسی قیادت بنوامیہ کے اور عسکری قیادت حضرت خالد کے قبیلے کے ہاتھ آئی۔ خالد کو شہوار فوجی دستہ کی ذمہ داری اور اسلحہ جمع کرنے کی جو ابداری ورثہ میں ملی تھی۔ حضرت خالد کے دس بھائی تھے مگر کوئی بھائی خالد کے مرتبہ کو نہیں پہنچا۔ حضرت خالد شروع ہی سے بڑے محنتی، جفاکش اور سخت کوش واقع ہوئے تھے۔ کُشتی اور فنون حرب میں کمال کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔

جب اسلام کا ظہور ہوا تو خالد ان لوگوں میں سے تھے جو اسلام کی شدید مخالفت کو اپنا شیوہ بنایا تھا اور شمع اسلام کو بجھانے کے درپے تھے صلح حدیبیہ تک کفار مکہ نے اہل اسلام کے خلاف جتنی جنگیں لڑیں، خالد ان سب میں شریک تھے۔ جنگ احد میں ان کا سپاہیانہ کردار تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس جنگ میں وہ قریش مکہ کے شہسوار دستے کی قیادت کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا ایک گروہ رسول اکرم کے حکم کے باوجود پہاڑی درے کے نہایت اہم فوجی مقام کو چھوڑ کر مال غنیمت لوٹنے میں لگ گیا۔ خالد نے موقع کو غنیمت جان کر عقب سے آکر لشکر اسلام پر حملہ کر دیا، جس سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ فتح کی جگہ پسپائی نظر آنے لگی۔ اس کے بعد غزوہ خندق میں بھی آپ شریک تھے۔ عمرو بن العاص کے ساتھ مل کر اہل اسلام کو ضَرَر پہنچانے کے لئے مختلف منصوبے بناتے رہے مگر نا کام ہوئے۔ پھر حدیبیہ کے موقع پر ایک شہسوار دستہ لے کر مسلمانوں کے خلاف نکلے۔

قبول اسلام:-
صلح حدیبیہ، خالد کی زندگی کا نیا موڑ تھا۔ جب ان کا شہوار دستہ اسلامی کیمپ کے قریب آیا توہدایت کی ایک چنگاری ان کے سینہ میں سلگنے لگی۔ آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا منظر جود یکھا تو آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ پیغمبر اسلام کی شخصیت ان کے دل میں گھر کرنے لگی۔ صحابہ کرام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفور عقیدت، اسلامی نظم و ضبط کا دلکش منظر و دفاعی حکمت و تدبیر سے وہ مرعوب ہونے لگے۔ یہ ان کے قبول اسلام کا نقطہ آغاز تھا۔ وہ فوراً مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے۔ کچھ وقفہ اور لگا۔ جب عمرۃ القضا کا موقع آیا تو نبی کریم چند صحابہ کرام کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے تو خالد اہل اسلام کے منظر کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے مکہ سے باہر چلے گئے۔ حضرت خالد کے ایک بھائی حضرت الولید بن الولید حلقه بگوش اسلام ہو چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی کہ خالد مکہ سے باہر چلے گئے ہیں تو آپ نے افسوس ظاہر کیا اور ان کے لئے قبول اسلام کی دعا کی۔ یہ دوسرا موقع تھا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر دعا کے ذریعہ کسی کو مانگا۔ پہلا واقع حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا تھا جبکہ دیگر سب صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرید تھے تو صرف حضرت عمرؓ نبی کریم کی مراد تھے۔ آپ نے انہیں اللہ سے مانگ کے لیا تھا۔ یہی حال حضرت خالد کا بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اللہ سے مانگ کے لیا تھا۔ ظاہر ہے کہ مانگنے والا اللہ کا حبیب ہوا اور بخشنے والا حق سبحانہ ہوا اپنے لطف وکرم سے کیسی نعمت عظمیٰ بخشا ہوگا۔ چنانچہ الولید نے اپنے بھائی کو دعوت اسلام دی۔ عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو خالد کے دل میں پہلے ہی گھر کر چکی تھی۔ اس لئے اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ کے ساتھ دونوں تلاش حق کے لئے مکہ سے نکل کر مدینہ کی راہ پر چل پڑے۔ راستے میں عمرو بن العاص سے ملاقات ہوئی جو جبش سے واپس ہو رہے تھے۔ یہ تینوں ایک ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہونے مدینہ روانہ ہوئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان تینوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اورصحابہ کرام سے فرمایا کہ۔۔۔۔ مکہ نے اپنے جگر گوشے تمہارے طرف پھینک دئے ہیں۔۔۔۔۔ سب سے پہلے حضرت خالد نے آپ پر بیعت کی۔ اور بعد میں دوسرے ساتھیوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ یہ واقعہ ماہ صفر ۸ ہجری میں غزوہ موتہ سے دو ماہ اور فتح مکہ سے چھ ماہ قبل ظہور میں آیا۔ حضرت خالد کا قبول اسلام عروج اسلام کا مژدہ جانفزا تھا۔
قبول اسلام کے بعد حضرت خالد نے ۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں